پاکستان میں پرائیویٹ اسکولوں کی کہانی کیا ہے؟
یہ بات ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کل لاکھوں بچے سرکاری اسکولوں کے بجائے نجی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان اسکولوں کی فیس، پڑھائی کا معیار اور سہولیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ آئیے اس پورے معاملے کو بالکل سادہ اور آسان لفظوں میں سمجھتے ہیں۔
پرائیویٹ اسکول اصل میں کیا ہوتے ہیں؟
پرائیویٹ اسکول ایسے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں جنہیں کوئی عام بندہ، کمپنی یا ٹرسٹ چلاتا ہے۔ ان کے تمام اخراجات بچوں کی فیسوں اور دیگر ذرائع سے پورے کیے جاتے ہیں۔ ان اسکولوں کی بنیادی طور پر پانچ الگ الگ سطحیں ہوتی ہیں۔ پہلی سطح نرسری اور پری اسکول کی ہے جہاں چھوٹے بچوں کو شروعاتی تعلیم دی جاتی ہے۔ دوسری سطح پرائمری اسکول ہے جس میں پہلی سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ تیسری سطح مڈل اسکول ہے جس میں چھٹی سے آٹھویں جماعت کے بچے پڑھتے ہیں۔ چوتھی سطح ہائی اسکول ہے جس میں نویں اور دسویں جماعت کی کلاسز ہوتی ہیں۔ پانچویں سطح ہائر سیکنڈری اسکول ہے جس میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کا نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
پاکستان میں پرائیویٹ اسکولوں کی کون کون سی قسمیں ہیں؟
ہمارے ملک میں پرائیویٹ اسکولوں کو تین بڑی اقسام میں بانٹا جا سکتا ہے۔ پہلی قسم کم فیس والے پرائیویٹ اسکولوں کی ہے جن کی فیس کافی کم ہوتی ہے۔ یہ اسکول زیادہ تر چھوٹے شہروں، دیہاتوں اور محلے کی گلیوں میں چلائے جاتے ہیں۔ دوسری قسم درمیانی فیس والے اسکولوں کی ہے جو مناسب سہولیات دیتے ہیں۔ ان میں اچھے کلاس رومز، انگریزی بول چال، کمپیوٹر کی تعلیم اور کھیل کود شامل ہیں۔ تیسری قسم مہنگے اور ایلیٹ اسکولوں کی ہے جہاں بہت زیادہ فیس لی جاتی ہے۔ ان اسکولوں میں جديد لیبز، بڑے کھیل کے میدان اور بین الاقوامی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
ان اسکولوں کی ماہانہ فیس کتنی ہوتی ہے؟
فیس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسکول کس شہر اور علاقے میں موجود ہے۔ اسلام آباد کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ماہانہ فیس کے چار الگ الگ درجے بنائے گئے ہیں۔ پہلا درجہ کم فیس والے اسکولوں کا ہے جن کی ماہانہ فیس ۵,۰۰۰ روپے سے کم ہوتی ہے۔ دوسرا درجہ درمیانی فیس کا ہے جہاں ۵,۰۰۰ سے ۱۰,۰۰۰ روپے تک فیس لی جاتی ہے۔ تیسرا درجہ زیادہ فیس کا ہے جس میں ۱۰,۰۰۰ سے ۲۵,۰۰۰ روپے ماہانہ وصول کیے جاتے ہیں۔ چوتھا درجہ ایلیٹ اسکولوں کا ہے جہاں ماہانہ فیس ۲۵,۰۰۰ روپے سے بھی اوپر ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ یہ صرف ایک شہر کی مثال ہے، پورے پاکستان کے لیے کوئی ایک فیس مقرر نہیں ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں کے کیا فائدے ہیں؟
ان اسکولوں میں انگریزی پڑھنے اور بولنے پر زیادہ محنت کرائی جاتی ہے۔ والدین کو بچے کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں باقاعدگی سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں سائنس لیب، کمپیوٹر اور کھیل کود کی بہتر سہولیات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اسکولوں کے آپسی مقابلے کی وجہ سے پڑھائی کا معیار سنبھرتا رہتا ہے۔
پرائیویٹ اسکولوں کے کیا مسائل اور نقصان ہیں؟
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی فیسیں عام لوگوں کی جیب پر بھاری پڑتی ہیں۔ ٹیوشن فیس کے علاوہ کتابوں، یونیفارم اور ٹرانسپورٹ کے الگ خرچے ہوتے ہیں۔ ہر اسکول میں اساتذہ کی تربیت اور پڑھائی کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا۔ بچوں پر ہوم ورک اور امتحانات کا ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈال دیا جاتا ہے۔ فیسوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے اکثر والدین سخت پریشان رہتے ہیں۔
کیا ان اسکولوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول ہے؟
جی ہاں، پرائیویٹ اسکولوں کی دیکھ بھال اور رجسٹریشن کے لیے سرکاری ادارے موجود ہیں۔ تاہم ہر صوبے اور وفاقی علاقے کے قواعد و ضوابط ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام آباد میں پیرا (PEIRA) نامی ادارہ ان اسکولوں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس ادارے کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ اسکولوں کی مکمل فہرست دستیاب ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ داخلے سے پہلے اسکول کی رجسٹریشن اور حفاظت کا انتظام لازمی چیک کریں۔
والدین اکثر کن موضوعات پر معلومات تلاش کرتے ہیں؟
والدین زیادہ تر فیسوں کے نظام اور سالانہ اضافے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کچھ لوگ اسکول کی رجسٹریشن اور قانونی طریقہ کار کو جاننا چاہتے ہیں۔ کچھ افراد اپنا نیا پرائیویٹ اسکول کھولنے کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کا موازنہ بھی بہت اہم موضوع ہے۔
پاکستان میں فیسوں میں اضافے کا مسئلہ کیا ہے؟
آج کے دور میں فیسوں میں اضافہ والدین کے لیے ایک بڑا دردِ سر بن چکا ہے۔ مہنگائی، بجلی کے بل، عمارت کے کرائے اور اساتذہ کی تنخواہیں بڑھنے سے اسکول کے اخراجات بڑھتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف والدین کے لیے ان بڑھتے ہوئے اخراجات کو سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اسکول مالک اپنی مرضی سے فیس بڑھا سکتا ہے؟ اس کا جواب ہے کہ نہیں، اسکول اپنی من مانی سے فیس بالکل نہیں بڑھا سکتے۔
مختلف صوبوں میں فیس بڑھانے کے کیا قوانین ہیں؟
سندھ میں سالانہ ٹیوشن فیس میں صرف ۵ فیصد تک اضافے کی اجازت ہوتی ہے اور اس کے لیے بھی منظوری درکار ہے۔ خیبر پختونخوا میں فیس میں ۱۰ فیصد تک اضافے کے قواعد موجود ہیں، لیکن سال میں دو بار فیس نہیں بڑھائی جا سکتی۔ اسلام آباد میں پیرا (PEIRA) ۵ سے ۱۰ فیصد تک کے اضافے کی نگرانی اور جانچ کرتی ہے۔ پنجاب میں ۴,۰۰۰ روپے سے زیادہ فیس والے اسکول ۵ فیصد سے زیادہ اضافہ بغیر اجازت نہیں کر سکتے۔ اگر پنجاب میں کوئی اسکول ۵ فیصد سے زیادہ اضافہ چاہے تو اسے ریگولیٹری اتھارٹی سے خاص اجازت لینی پڑتی ہے۔ بلوچستان میں بھی ۲۰۱۶ کے قانون کے تحت نجی تعلیمی اداروں کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔
اسکولوں کے ماہانہ اخراجات میں کون سی چیزیں شامل ہیں؟
اساتذہ اور باقی عملے کی ماہانہ تنخواہیں سب سے بڑا خرچ ہوتی ہیں۔ اسکول کی عمارت کی بجلی، پانی اور گیس کے بل ہر ماہ ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اگر عمارت ذاتی نہ ہو تو اس کا بھاری کرایہ بھی اسکول اخراجات میں شامل ہوتا ہے۔ سائنس لیب، کمپیوٹر اور پڑھائی کے سامان کی دیکھ بھال پر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اسکول کی بسوں کا ایندھن اور ان کی مرمت کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔
اسکول والدین سے کون کون سی فیسیں وصول کرتے ہیں؟
سب سے پہلی اور بنیادی فیس ماہانہ ٹیوشن فیس ہوتی ہے۔ نئے داخلے کے وقت داخلہ فیس اور سکیورٹی فیس لی جاتی ہے۔ امتحان کے دنوں میں امتحانی فیس کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں۔ کمپیوٹر، سائنس لیب اور لائبریری کے استعمال کے الگ سے چارجز لگائے جاتے ہیں۔ بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے کی ٹرانسپورٹ فیس الگ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یونیفارم اور اسکول کی کتابوں کا خرچ بھی والدین کو اٹھانا پڑتا ہے۔
اگر اسکول غیر قانونی طور پر فیس بڑھا دے تو والدین کیا کریں؟
سب سے پہلے پرانی اور نئی فیس کا موازنہ کریں تاکہ اضافے کا فیصد معلوم ہو سکے۔ اس کے بعد اسکول انتظامیہ کو تحریری خط لکھ کر اضافے کی وجہ پوچھیں۔ اگر اسکول تسلی بخش جواب نہ دے تو اپنے صوبے کے متعلقہ سرکاری ادارے سے رابطہ کریں۔ پنجاب کے لوگ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی یا پیپرس (PEPRIS) پورٹل پر شکایت کر سکتے ہیں۔ سندھ کے والدین ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ رجسٹریشن میں رجوع کر سکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کے پی پی ایس آر اے (KP-PSRA) کو شکایت درج کروائی جا سکتی ہے۔ اسلام آباد کے شہری پیرا (PEIRA) کے دفاتر یا ان کی ویب سائٹ پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ شکایت کے ساتھ فیس کی پرانی اور نئی رسیدیں ثبوت کے طور پر لازمی منسلک کریں۔
والدین کے لیے چند بہت ضروری اور مفید مشورے
کسی بھی اسکول میں داخلہ کرانے سے پہلے تمام فیسوں کی لسٹ تحریری شکل میں حاصل کریں۔ معلوم کریں کہ سکیورٹی فیس اور داخلہ فیس واپسی کے کیا قواعد ہیں۔ ہر ماہ فیس جمع کرانے کے بعد اس کی اصل رسید اپنے پاس سنبھال کر رکھیں۔ اگر اسکول اچانک فیس بڑھائے تو فوری طور پر زبانی بات کے بجائے تحریری نوٹس کا تقاضا کریں۔ تمام معاملات میں بچے کی پڑھائی اور ذہنی سکون کا خاص خیال رکھیں۔
آخری بات اور خلاصہ
پرائیویٹ اسکولوں کے مسئلے میں اسکول کے اخراجات اور والدین کی مجبوریاں دونوں سامنے آتی ہیں۔ اسکولوں کو معیار برقرار رکھنے کے لیے پیسے چاہیے ہوتے ہیں، لیکن فیس قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ والدین کو اپنے حقوق معلوم ہونے چاہئیں تاکہ کوئی بھی اسکول ان سے ناجائز رقم وصول نہ کر سکے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام قواعد پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔
