غریبوں کا ایم بی اے
آج کی یہ خاص ویڈیو صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو خود کو غریب سمجھتے ہیں۔
غریب سے میری مراد وہ شخص ہے جو بڑی مشکل سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتا ہے۔
جس کی زندگی بس کسی نہ کسی طرح گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھ رہی ہے۔
جو اپنی زندگی میں ایک ہی جگہ پر آکر بالکل رک گیا ہے اور آگے نہیں بڑھ پا رہا۔
اگر آپ کی زندگی بھی ایسی ہی کشمکش کا شکار ہے، تو آج کی بات صرف آپ کے لیے ہے۔
لیکن اگر آپ پہلے سے بہت امیر ہیں، تو آپ کا این ویڈیو کو دیکھنا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
اور اگر خدا نہ خواستہ آپ کے پاس کھانے کے لیے بالکل بھی پیسے نہیں ہیں، تو بھی یہ ویڈیو آپ کے لیے نہیں ہے۔
ہم نے مل کر ایک بہت ہی انوکھا پروگرام تیار کیا ہے، جس کا نام ہم نے 'غریبوں کا ایم بی اے' رکھا ہے۔
آج کی اس ویڈیو میں میں آپ کو اسی پروگرام کا ایک چھوٹا سا اور آسان تعارف کروانے آیا ہوں۔
اس کورس کے اندر بہت سارے ایسے سرپرائز اور راز چھپے ہیں جو صرف ان لوگوں کو پتہ چلیں گے جو اس کا حصہ بنیں گے۔
میرے دماغ میں اس طرح کے اور بھی بہت سے مفید کورسز کروانے کا خیال آ رہا ہے۔
جیسے میں نے سوچا ہے کہ ایک 'فقیروں کا ایم بی اے' بھی ہونا چاہیے۔
یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جن کے پاس کسی کورس کی فیس دینے کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں ہوتا Parrot۔
اس کے علاوہ ایک 'بزرگوں کا ایم بی اے' کرنے کا بھی ارادہ ہے تاکہ ہمارے بڑے یہ سیکھ سکیں کہ اپنی جمع پونجی کو صحیح جگہ کیسے لگانا ہے۔
اور ہاں، ایک کورس ہم 'امیروں کا ایم بی اے' کے نام سے بھی بنائیں گے۔
یہ ان لوگوں کے لیے ہوگا جن کے پاس بہت زیادہ پیسہ آ گیا ہے لیکن انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ اس کا کیا کریں۔
انہیں سکھایا جائے گا کہ وہ اپنا پیسہ ایسی جگہ لگائیں جس سے انسانیت، مسلمانوں، پاکستانیوں اور بھارتیوں کا بھلا ہو سکے۔
خیر، ان سب کورسز پر تو ہم کسی اور دن تفصیل سے بات کریں گے۔
آج ہمارا پورا دھیان صرف اور صرف 'غریبوں کے ایم بی اے' پر ہونا چاہیے۔
ہماری زندگی میں ہمیں اسکولوں اور کالجوں میں بہت سی ایسی چیزیں پڑھائی جاتی ہیں جن کا اصل زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ اصل امیری تو دل کی امیری ہوتی ہے۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کی سوچ بڑی ہونی چاہیے اور اس کے بڑے بڑے خواب ہونے چاہئیں۔
کہا جاتا ہے کہ انسان کو ہر وقت کچھ بڑا کرنے کا سوچنا چاہیے۔
میں آپ کو پہلے ہی صاف کر دوں کہ اس کورس میں ایسی کوئی بھی بکواس یا جھوٹی کہانیاں نہیں سنائی جائیں گی۔
آج کل کے موٹیویشنل اسپیکرز کہتے ہیں کہ اگر آپ کسی چیز کو شدت سے چاہو تو پوری کائنات اسے آپ کو دلانے میں لگ جاتی ہے۔
میرے بھائی، اس پوری کائنات کو آپ کی کسی بھی خواہش سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
صرف خواب دیکھنے سے آپ کو زندگی میں کبھی کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔
آسمان میں کوئی ایسا محکمہ نہیں بیٹھا جو آپ کی خواہشات دیکھ کر آپ کو پیسے بھیجنا شروع کر دے۔
یہ کائنات کبھی بھی آپ کے کلائنٹس کو فون کر کے یہ نہیں کہے گی کہ وہ آپ کو کام دیں۔
آسمان سے فرشتے اتر کر آپ کے لیے آن لائن یا آف لائن کام ڈھونڈنے نہیں آئیں گے۔
اپنی زندگی کو بدلنے کے لیے جو بھی کرنا ہے، وہ صرف اور صرف آپ کو خود ہی کرنا پڑے گا۔
یہ جو آج کل ہر جگہ موٹیویشن کا شور مچا ہوا ہے، اس سے کسی کا بینک بیلنس نہیں بدلتا۔
'رچ ڈیڈ پور ڈیڈ' جیسی مشہور کتاب آدھی سے زیادہ دنیا نے پڑھ کر ختم کر دی ہے۔
لیکن اس کتاب کو پڑھنے کے بعد بھی آدھی دنیا کا بینک بیلنس آج بھی وہی کا وہی ہے جہاں پہلے تھا۔
کتابیں کہتی ہیں کہ اپنے اثاثے بناؤ اور اس چوہا دوڑ سے باہر نکلو۔
لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ بھائی اثاثے بنانے کے لیے جو پیسہ چاہیے، وہ پیسہ کہاں سے آئے گا؟
جب جیب میں پیسہ آئے گا، تبھی تو کوئی انسان کوئی نیا اثاثہ یا جائیداد بنا پائے گا نا۔
ایک اور مشہور کتاب ہے جس کا نام ہے 'ہو مووڈ مائی چیز'۔
اس میں سکھایا جاتا ہے کہ حالات کے مطابق خود کو بدلو اور اپنی چیزیں خود ڈھونڈو۔
میں کہتا ہوں کہ بھائی چیزیں ڈھونڈنے کے بجائے کوئی ایسا فریج ہی کیوں نہ لے لیا جائے جہاں آپ کی ضرورت کا سارا سامان محفوظ رہے۔
اسی طرح نیپولین ہل صاحب نے ایک بہت بڑی کتاب لکھی تھی جس کا نام 'تھنک اینڈ گرو رچ' ہے۔
آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اس مصنف نے اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ پیسہ اسی کتاب کو بیچ کر کمایا۔
لوگ کہتے ہیں کہ جیسا آپ سوچو گے، ویسی ہی چیزیں اصلیت بن کر آپ کے سامنے آ جائیں گی۔
آپ خود سوچیں کہ جب آپ وہ کتاب پڑھ رہے تھے، تب بھی آپ اتنے ہی غریب تھے۔
اور کتاب خریدنے کے بعد آپ مزید غریب ہو گئے کیونکہ آپ کی جیب سے کتاب کے پیسے بھی چلے گئے۔
لوگ 'الکیمسٹ'، 'اکیگائی' یا 'دی مونک ہو سولڈ ہز فراری' جیسی کتابیں پڑھ کر خوش ہوتے رہتے ہیں۔
اس کتاب کا کردار پہلے ایک بہت بڑا وکیل بنا، اس نے کروڑوں ڈالر کمائے، فراری کار خریدی اور پھر اسے بیچ کر سفر پر نکل گیا۔
اب ذرا خود پر غور کریں کہ ہمارے پاس تو ایک عدد سائیکل خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے۔
اور ہم لوگ فراری بیچنے والے سادھو کی کہانی پڑھ کر خود کو موٹیویٹ کر رہے ہوتے ہیں۔
کسی کی کہانی سے متاثر ہونے سے پہلے کم از کم اس قابل تو بنو کہ تم وہ گاڑی خرید سکو۔
ہم اس کورس میں ان تمام فالتو کی موٹیویشنل باتوں اور شور شرابے سے ہٹ کر بالکل سیدھی اور سچی بات کریں گے۔
اس کورس میں آپ کو بالکل سچ کا آئینہ دکھایا جائے گا کہ آپ اس وقت اصل میں کہاں کھڑے ہیں۔
مجھے اپنے انٹرویوز میں پڑھا گیا ایک شعر اکثر یاد آتا ہے جو اس صورتحال پر بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
میری آنکھوں کے دام پورے دو، میں نے خوابوں سمیت بیچی ہیں۔
اگر آپ نے اپنی زندگی میں واقعی پیسہ ہی کمانا ہے، تو پھر اسے صحیح اور حلال طریقے سے کمانا سیکھو۔
اس تین مہینے کے چھوٹے سے کورس کے اندر آپ یہی سب کچھ بہت ہی آسان انداز میں سیکھنے والے ہیں۔
اس پورے پروگرام کو ہم نے تین مختلف مہینوں میں تقسیم کیا ہے۔
پہلے مہینے کے دوران ہم آپ کا ایک مکمل آڈٹ کریں گے۔
اس آڈٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو آپ کی اصلیت اور آپ کا اصلی چہرہ دکھایا جائے گا۔
جیسے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ تو اکیلا ہے بند ہے کمرہ، اب تو چہرہ اتار کر رکھ دے۔
ہم انسان پوری زندگی اپنے آپ سے نہ جانے کتنے جھوٹ بولتے رہتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں کہ ہمارا یہ ویژن ہے، ہم آنے والے وقت میں یہ بڑا کام کریں گے اور وہ بڑا کام کریں گے۔
لیکن اصلیت یہ ہوتی ہے کہ ہم دس روپے بھی خود سے کمانے کے قابل نہیں ہوتے۔
اور باتیں ہم آسمانوں کی اور بڑی بڑی کمپنیوں کو چلانے کی کر رہے ہوتے ہیں۔
اس لیے پہلے مہینے میں آپ کا آڈٹ کر کے آپ کا ایک صحیح کیریئر پاتھ بنایا جائے گا۔
آپ کو بہت ہی تسلی سے سمجھایا جائے گا کہ آپ اس وقت دنیا کے کس مقام پر کھڑے ہیں۔
آپ کو بتایا جائے گا کہ جو آپ لاکھوں روپے کمانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، آپ کی اہلیت ابھی دس ہزار کی بھی نہیں ہے۔
جب آپ کو اپنی اصل اہلیت کا پتہ چلے گا، تبھی آپ اسے بڑھانے کے لیے محنت کرنا شروع کریں گے۔
دوسرے مہینے میں ہم آپ کو سکھائیں گے کہ اپنی زندگی اور اپنے کاموں کو ترتیب کیسے دینی ہے۔
ہم آپ کو ان ذریعوں کے بارے میں بتائیں گے جن کا استعمال کر کے آپ بہت آگے نکل سکتے ہیں۔
آج کی دنیا آپ کے لیے پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ آسان ہو چکی ہے۔
آجکل کے دور میں آپ کے پاس ڈگریاں بھی موجود ہیں اور طرح طرح کی اسکلز بھی ہیں۔
لیکن آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی اے آئی نے آ کر پرانی تمام اسکلز کا کام تمام کر دیا ہے۔
جو ہنر سیکھنے میں آپ کو سالوں لگ جاتے تھے، آج اے آئی وہ کام صرف پانچ منٹ میں مکمل کر دیتا ہے۔
ایسی صورتحال میں اب آپ اپنی زندگی گزارنے کے لیے کیا کریں گے؟
دوسرے مہینے میں ہم آپ کو خود کو بیچنا اور اپنی اسکلز کو اچھے طریقے سے پیش کرنا سکھائیں گے۔
ہم آپ کو سکھائیں گے کہ آپ کے پاس جو کچھ بھی ہے، اسے ایک بہترین پروڈکٹ کی شکل کیسے دینی ہے۔
آپ کون سی ایسی نئی مہارتیں سیکھ سکتے ہیں جو وقت کی ضرورت ہیں، اس کے چھوٹے چھوٹے ٹیوٹوریلز اس کورس کا حصہ ہوں گے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس مہینے میں کچھ بہت ہی کامیاب اور مشہور مہمانوں کے لیکچرز بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دوسرے مہینے کا پورا مقصد یہی ہوگا کہ آپ کی اپنی کہانی کیا ہے اور آپ دنیا کو کیا بیچ سکتے ہیں۔
آپ کو اس کورس میں کسی کی نقل کرنے یا مجھے کاپی کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔
ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ آپ کی اپنی طاقت کیا ہے اور آپ کس کام کو سب سے بہترین انداز میں کر سکتے ہیں۔
تیسرے مہینے میں کوئی تھیوری نہیں ہوگی، بلکہ سارا کا سارا کام بالکل پریکٹیکل ہوگا۔
پہلے مہینے میں ہم نے آپ کی خامیوں کو ڈھونڈا اور دوسرے مہینے میں آپ کو ایک مکمل پروڈکٹ بنا دیا۔
اب تیسرstep مہینے میں آپ کا صرف ایک ہی کام ہوگا اور وہ کام ہے اپنی اسکلز کو بازار میں بیچنا.
تیسرے مہینے میں آپ خود اپنی محنت سے پیسہ کما کر لائیں گے اور ہمیں اس کی رسید دکھائیں گے۔
اگر آپ نے ہمارے بتائے ہوئے طریقوں پر صحیح سے عمل کیا، تو یقین مانیے اس کورس کی فیس تین مہینے پورے ہونے سے پہلے ہی آپ کی جیب میں واپس آ جائے گی۔
ہماری اپنی بہت سی کمپنیاں اور پروجیکٹس ہیں جن کے لیے ہمیں ہر وقت کام کرنے والے لوگوں کی ضرورت رہتی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ یہ کورس مکمل کرنے کے بعد آپ کو میری ہی کسی کمپنی میں ایک اچھی نوکری مل جائے۔
یا پھر میرے کسی کاروباری پارٹنر یا دوست کی کمپنی میں آپ کو کام کرنے کا موقع مل جائے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کورس کے دوران ملنے والی اسائنمنٹس سے ہی آپ اتنے پیسے کما لیں جو اس کورس کی فیس سے دس گنا زیادہ ہوں۔
یہ میری طرف سے آپ سب لوگوں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے کہ آپ آئیں اور کام کر کے دکھائیں۔
یہ جو مغرب کے مصنف بڑی بڑی کتابیں لکھتے ہیں، وہ ہمارے ماحول اور ہمارے ملک میں کام نہیں کرتیں۔
ایک بندے نے امریکہ کی کسی عالیشان سڑک پر بیٹھ کر کتاب لکھی اور آپ اسے چاندنی چوک یا جوڑیا بازار میں بیٹھ کر پڑھ رہے ہیں۔
ایک کتاب نیویارک کے ٹائمز اسکوائر کے ماحول کو دیکھ کر لکھی گئی اور آپ اسے دھاراوی یا پہاڑ گنج کی گلیوں میں بیٹھ کر سمجھ رہے ہیں۔
ان دونوں دنیاؤں کے ماحول اور ترقی میں زمین آسمان کا واضح فرق ہے۔
مغربی ممالک کے پاس بہت پیسہ، بہترین سڑکیں، اچھے استاد اور بڑی بڑی یونیورسٹیاں موجود ہیں۔
وہاں ایک غریب بچہ بھی وظیفے پر ہارورڈ یا اسٹینفورڈ جیسی جگہوں سے مفت میں تعلیم حاصل کر لیتا ہے۔
لیکن ہمارے پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش یا نیپال کا ایک غریب بچہ ڈیڑھ لاکھ ڈالر کہاں سے لائے گا؟
اسے وہ اعلیٰ تعلیم اور کاروباری سمجھ بوجھ بھلا کہاں سے مل سکتی ہے؟
اس لیے وہ تمام قیمتی علم جو میں نے دنیا کی مہنگی ترین یونیورسٹیوں سے لاکھوں روپے خرچ کر کے سیکھا ہے، وہ سب میں آپ کو دے رہا ہوں flip۔
میں نے خود چھ چھ ہفتوں کے کورسز کے لیے پچاسی پچاسی ہزار روپے فیس دی ہے اور وہ سارا نچوڑ اس کورس میں شامل کیا ہے۔
اسی لیے اس کا نام 'غریبوں کا ایم بی اے' رکھا ہے تاکہ ہر عام بندہ بھی وہ تمام تھنکنگ ماڈلز سیکھ سکے جو مائیکروسافٹ اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس پورے کورس کو ہم نے بہت ہی سادگی کے ساتھ تین بڑے حصوں میں بانٹا ہے۔
پہلا حصہ آپ کا آڈٹ ہے، دوسرا حصہ آپ کی اسکلز کو تراشنا ہے اور تیسرا حصہ صرف اور صرف کمائی کرنا ہے۔
ہمارا آپ سے یہ پکا وعدہ ہے کہ اگر آپ پوری ایمانداری سے کام کریں گے، تو ہم آپ کی آمدنی کو تین گنا تک بڑھا دیں گے۔
اگر آپ اس وقت مہینے کا ایک لاکھ کماتے ہیں، تو اس کورس کے بعد آپ ان شاء اللہ تین لاکھ کمانے کے قابل ہو جائیں گے۔
اس 90 دنوں کے کورس میں کچھ لیکچرز پہلے سے ریکارڈ شدہ ہوں گے اور کچھ لائیو کلاسز ہوں گی۔
لائیو کلاسز کے دوران آپ مجھ سے سیدھے سوال جواب بھی کر سکیں گے اور اپنے مسائل کا حل پوچھ سکیں گے۔
لیکن اس پورے کورس کا جو سب سے بڑا اور جادوئی راز ہے، وہ میرا اے آئی کلون ہے۔
میں نے اپنی زندگی کا سارا علم اور تجربہ اس اے آئی کلون کے اندر محفوظ کر دیا ہے۔
یہ اے آئی ٹول کورس کے پہلے ہی دن سے ہر بچے کے ساتھ ایک استاد کی طرح جڑ جائے گا۔
اس کا واحد مقصد صرف یہ ہوگا کہ وہ آپ کو کامیابی کے سفر پر آگے لے کر جا سکے۔
یہ آپ سے ہر وقت بات چیت کرے گا، آپ کی ای میلز کا جواب دے گا اور آپ کی ہر مشکل میں رہنمائی کرے گا۔
اس اے آئی کلون کو دنیا کا کوئی اور کام نہیں سونپا گیا، اس کا وجود ہی صرف آپ کی مدد کے لیے ہے۔
اس کورس میں آپ کو کوئی ہوائی باتیں یا خیالی پلاؤ نہیں بیچے جائیں گے۔
آپ کو بالکل صاف لفظوں میں بتایا جائے گا کہ آپ کا پہلا گاہک اور آپ کی پہلی کمائی کہاں سے آئے گی۔
کم از کم آپ یہ تو سیکھ ہی جائیں گے کہ آج کی اس جدید دنیا میں لوگ اصل میں پیسے کیسے کما رہے ہیں۔
آپ کو اپنی کمیوں کا اندازہ ہوگا اور آپ خود میں وہ تبدیلیاں لائیں گے جو آپ کو امیر بنا سکتی ہیں۔
مجھے پوری امید ہے کہ اس کورس کے ذریعے آپ سب کو زندگی میں ایک بہت بڑا اور بہترین بدلاؤ دیکھنے کو ملے گا۔
اس کورس کا پورا مواد تیار کرنے کے لیے میں نے ہزاروں کتابوں میں سے تقریباً ساڑھے تین سو بہترین کتابوں کا انتخاب کیا۔
پھر ان کتابوں میں سے بھی 30 سب سے خاص کتابیں نکالیں تاکہ ان کا پورا کا پورا نچوڑ آپ کو دیا جا سکے۔
اس پورے کورس کو بنانے میں میری راتوں کی نیند اڑ چکی ہے اور کئی مہینوں کی سخت محنت اس میں شامل ہے۔
اس وقت بھی جب میں آپ سے یہ باتیں کر رہا ہوں، تو رات کے ساڑھے تین بج رہے ہیں۔
اگر آپ یہ پورا کورس نہیں بھی کرنا چاہتے، تو میں ان تمام ضروری کتابوں کے لنکس ویب سائٹ پر مفت میں شیئر کر دوں گا۔
آپ وہاں سے خود بھی ان کتابوں کو ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ سکتے ہیں اور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ فیوچر ریڈینس اور خود کو مارکیٹ میں بیچنے کے حوالے سے ہمارے ایک دن کے چھوٹے سیشنز بھی موجود ہیں۔
لیکن میری آپ کو یہی رائے ہوگی کہ آپ اس مکمل کورس کا حصہ ضرور بنیں تاکہ آپ کی زندگی بدل سکے۔
اگر آپ نے ابھی تک ہمارے اس چینل کو سبسکرائب نہیں کیا، تو اسے فوراً کر لیں اور اس ویڈیو کو دوسروں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
کسی غریب کو صرف یہ طعنہ دینا بہت آسان ہوتا ہے کہ تم غریب ہو اور کچھ نہیں کر سکتے۔
لیکن اس غریب انسان کو غربت کے اس جال سے باہر نکالنے کا راستہ کوئی بھی نہیں دکھاتا۔
ہم این کورس میں ان تمام دماغی رکاوٹوں اور بری عادتوں کو توڑنا سیکھیں گے جو انسان کو ہمیشہ غریب رکھتی ہیں۔
یہ کورس ہر بچے کی عمر اور اس کے علاقے کے حساب سے خود بخود تبدیل ہوتا رہے گا تاکہ سب کو برابر فائدہ ہو۔
امید ہے کہ میری یہ چھوٹی سی کوشش آپ لوگوں کی زندگی میں ایک بڑا اور مثبت بدلاؤ لے کر آئے گی۔
