ایوا پیرون کی لاش 16 سال تک کہاں کہاں چھپائی گئی؟ ارجنٹینا کی تاریخ کا حیران کن راز

 

ایوا پیرون کی لاش 16 سال تک کہاں کہاں چھپائی گئی؟ ارجنٹینا کی تاریخ کا حیران کن راز

ارجنٹینا کی خاتونِ اول کی لاش کا 16 سالہ پراسرار سفر

ایوا پیرون ارجنٹینا کی تاریخ کی سب سے مشہور خواتین میں شمار ہوتی ہیں، جنہیں لوگ محبت سے ’’ایویتا‘‘ کہتے تھے۔

وہ غریب لوگوں اور مزدور طبقے کے لیے بہت کام کرتی تھیں، اسی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت بہت زیادہ تھی۔

لیکن ان کی موت کے بعد ان کی میت کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کے سب سے عجیب اور پراسرار واقعات میں شامل ہو گیا۔

ایوا پیرون 26 جولائی 1952 کو صرف 33 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔

ان کی وفات کے فوراً بعد ایک مشہور ماہر نے ان کی میت کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا۔

اس ماہر کا نام ڈاکٹر پیڈرو آرا تھا، جو انسانی جسم کو محفوظ رکھنے کے فن میں بہت مہارت رکھتے تھے۔

ان کا مقصد یہ تھا کہ ایوا پیرون کی میت کو کئی سال تک تقریباً اسی حالت میں محفوظ رکھا جائے۔

ایوا پیرون کی میت کو عوام کے لیے رکھا گیا تو لاکھوں لوگ آخری دیدار کے لیے پہنچے۔

تقریباً 20 لاکھ افراد نے ان کی میت کو دیکھا اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

ایویتا صرف ایک سیاسی رہنما کی بیوی نہیں تھیں بلکہ غریب اور مزدور لوگوں کے لیے ایک امید کی علامت بن چکی تھیں۔

ان کے شوہر خوان پیرون بھی چاہتے تھے کہ ایوا کی یاد ہمیشہ زندہ رہے۔

اسی لیے ان کی میت کو ایک شیشے کے تابوت میں رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

لیکن چند سال بعد ارجنٹینا میں حالات اچانک بدل گئے۔

ایوا پیرون کی لاش 16 سال تک کہاں کہاں چھپائی گئی؟ ارجنٹینا کی تاریخ کا حیران کن راز


1955 میں ایک فوجی بغاوت کے ذریعے خوان پیرون کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔

وہ ملک چھوڑ کر جلاوطنی میں چلے گئے اور ارجنٹینا میں ایک نئی فوجی حکومت قائم ہو گئی۔

نئی حکومت ایوا پیرون کی مقبولیت سے خوفزدہ تھی۔

حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر ایوا کی میت عوام کے درمیان موجود رہی تو وہ پیرون کے حامیوں کے لیے مزاحمت کی ایک طاقتور علامت بن جائے گی۔

اسی وجہ سے فوجی حکومت نے ایوا پیرون کی میت کو خفیہ طور پر غائب کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہیں سے ان کی میت کے 16 سالہ پراسرار سفر کا آغاز ہوا۔

میت کو کبھی فوجی انٹیلی جنس کے مراکز میں چھپایا گیا، کبھی ایک گاڑی میں رکھا گیا اور کبھی بیونس آئرس کے مختلف خفیہ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

کچھ روایات کے مطابق ایوا کی میت کو ایک وین میں چھپایا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اسے کبھی سنیما کی اسکرین کے پیچھے اور کبھی شہر کے پانی کے ایک مرکز میں بھی رکھا گیا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ جہاں بھی ایوا کی میت منتقل کی جاتی، وہاں لوگوں کی طرف سے پھول اور شمعیں نظر آنے لگتیں۔

ایسا لگتا تھا جیسے لوگ کسی نہ کسی طرح اس راز سے واقف ہو جاتے تھے۔

میت کی نگرانی کرنے والے بعض فوجی افسران کے بارے میں بھی عجیب و غریب کہانیاں مشہور ہوئیں۔

ایک افسر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایوا کی میت سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو گیا تھا۔

بعد میں فوجی حکومت نے فیصلہ کیا کہ میت کو ارجنٹینا سے باہر منتقل کر دیا جائے۔

1957 میں ایوا پیرون کی میت کو خفیہ طور پر اٹلی بھیج دیا گیا۔

وہاں انہیں ایک قبرستان میں ایک فرضی نام سے دفن کیا گیا۔

اس وقت ان کے حامیوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی محبوب رہنما کی میت کہاں موجود ہے۔

بیونس آئرس کی دیواروں پر ایک سوال لکھا جانے لگا۔

’’ایوا پیرون کی لاش کہاں ہے؟‘‘

یہ سوال جلد ہی پیرون کے حامیوں کے لیے ایک سیاسی نعرہ بن گیا۔

ایوا کی میت کو چھپانے سے ان کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئی۔

لوگوں کے لیے یہ معاملہ صرف ایک لاش کا نہیں تھا بلکہ انہیں لگتا تھا کہ حکومت غریب لوگوں کی علامت کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

کئی سال بعد ارجنٹینا کی حکومت نے حالات بہتر بنانے کی کوشش کی۔

1971 میں ایوا پیرون کی میت کو اٹلی سے نکال کر اسپین منتقل کیا گیا۔

اس وقت ان کے شوہر خوان پیرون اسپین میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔

جب ایوا کی میت ان کے پاس پہنچی تو ان کے قریبی لوگوں نے اسے دیکھا اور صاف کیا۔

ان کے بالوں کو بھی احتیاط سے سنوارا گیا۔

اس موقع پر موجود لوگوں نے بتایا کہ میت کو بہت احتیاط سے سنبھالا گیا تھا۔

تاہم اس دوران ایوا پیرون کے بارے میں کئی عجیب کہانیاں اور افواہیں بھی پھیلتی رہیں۔

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ان کی میت کے ساتھ روحانی رسومات بھی کی گئیں۔

یہ باتیں اس عقیدت کو ظاہر کرتی ہیں جو ایوا کے پیروکار ان کے لیے رکھتے تھے۔

ان کے حامیوں کے لیے ایوا صرف ایک خاتونِ اول نہیں بلکہ ایک مقدس علامت بن چکی تھیں۔

1973 میں خوان پیرون دوبارہ ارجنٹینا کے صدر بن گئے۔

لیکن ایک سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

اس کے بعد ایوا پیرون کی میت کو آخرکار دوبارہ ارجنٹینا واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

جب میت بیونس آئرس پہنچی تو اسے دوبارہ محفوظ کرنے اور مرمت کرنے کی ضرورت تھی۔

اس کام کے لیے ماہرین سے مدد لی گئی۔

میت کی بحالی کا کام کرنے والے ایک ماہر نے بتایا کہ انہیں اس کام کی وجہ سے دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ان کی گاڑی کو آگ لگا دی گئی اور انہیں فون پر خوفناک دھمکیاں دی گئیں۔

آخرکار حالات اتنے خراب ہو گئے کہ انہیں ملک چھوڑ کر جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔

اکتوبر 1976 میں ایوا پیرون کو آخرکار بیونس آئرس میں دفن کر دیا گیا۔

لیکن اس بار ان کی قبر عام قبر جیسی نہیں تھی۔

ان کے مقبرے کو انتہائی مضبوط بنایا گیا تاکہ کوئی دوبارہ ان کی میت کو وہاں سے نہ نکال سکے۔

قبر کے نیچے خفیہ راستے اور کئی حفاظتی دروازے بنائے گئے تھے۔

ان کا تابوت زمین سے کئی میٹر نیچے رکھا گیا۔

یہ سب اس لیے کیا گیا کیونکہ ان کی موت کے 24 سال بعد بھی ایوا پیرون کی سیاسی اور عوامی طاقت کی علامت بہت مضبوط تھی۔

ایوا پیرون کی کہانی صرف ایک خاتونِ اول کی زندگی اور موت کی کہانی نہیں۔

یہ سیاست، طاقت، عوامی محبت اور خوف کی ایک حیرت انگیز داستان ہے۔

ایک طرف غریب لوگ انہیں اپنی امید سمجھتے تھے، جبکہ دوسری طرف ان کے مخالفین ان کی مقبولیت سے خوفزدہ تھے۔

اسی وجہ سے ان کی موت کے بعد بھی ان کی میت کو سکون نہیں ملا۔

16 سال تک وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی رہی۔

کبھی خفیہ عمارتوں میں، کبھی گاڑیوں میں اور کبھی دوسرے ملکوں کی قبروں میں۔

آخرکار انہیں ارجنٹینا واپس لایا گیا اور ایک ایسی محفوظ قبر میں دفن کیا گیا جہاں آج بھی لوگ انہیں یاد کرتے ہیں۔

ایوا پیرون کی زندگی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کبھی کبھی کسی انسان کی طاقت اس کی زندگی ختم ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی۔

کچھ لوگ اپنے کام، اپنی مقبولیت اور لوگوں کے دلوں میں ایسی جگہ بنا لیتے ہیں کہ ان کی موت بھی ان کی کہانی کا اختتام نہیں بن پاتی۔

#ایوا_پیرون #ارجنٹینا #تاریخ #پراسرار_واقعات #دنیا_کی_تاریخ #دلچسپ_معلومات #History #Argentina


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.