زمین کا سب سے گہرا زخم | کولا سپرڈیپ بورہول کا پراسرار راز


انیس سو ستر کی دہائی میں سوویت یونین نے ایک ایسا سائنسی منصوبہ شروع کیا جس نے بعد میں دنیا بھر کے ماہرین، محققین اور عام لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس منصوبے کا نام تھا کولا سپرڈیپ بورہول، اور اس کا مقصد زمین کی گہرائیوں تک پہنچ کر اس کے اندرونی رازوں کو سمجھنا تھا۔ سائنس دان یہ جاننا چاہتے تھے کہ زمین کی سطح کے نیچے اصل میں کیا ہوتا ہے، اور وہ چٹانیں، درجہ حرارت اور دباؤ کے بارے میں اپنے نظریات کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھنا چاہتے تھے۔

یہ بورہول روس کے سرد علاقے سائبیریا میں کھودا گیا۔ کئی سالوں کی مسلسل محنت کے بعد سائنس دانوں نے تقریباً بارہ کلومیٹر کی گہرائی تک سوراخ کر لیا، جو آج تک انسان کی کھودی گئی سب سے گہری کھدائی مانی جاتی ہے۔ اس وقت یہ ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جا رہی تھی، کیونکہ اس سے پہلے کسی نے بھی زمین کے اتنے اندر تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

ابتدا میں ماہرین کا خیال تھا کہ جوں جوں گہرائی بڑھتی جائے گی، چٹانیں سخت ہوتی جائیں گی اور درجہ حرارت ایک اندازے کے مطابق بڑھے گا۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ جیسے جیسے ڈرل زمین کے اندر جاتی گئی، درجہ حرارت توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھنے لگا۔ بارہ کلومیٹر کی گہرائی پر درجہ حرارت ایک سو اسی ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر چکا تھا، جو سائنس دانوں کے اندازوں سے کہیں زیادہ تھا۔

اس شدید گرمی کی وجہ سے زمین کے اندر موجود چٹانوں کا رویہ بھی حیران کن حد تک بدل گیا۔ وہ سخت اور مضبوط رہنے کے بجائے نرم ہو گئیں اور کچھ مقامات پر پلاسٹک جیسا برتاؤ کرنے لگیں۔ اس غیر متوقع صورتحال نے نہ صرف مشینوں کو نقصان پہنچایا بلکہ اس سائنسی مفروضے کو بھی چیلنج کر دیا کہ زمین کی تہیں ہمیشہ ایک خاص انداز میں برتاؤ کرتی ہیں۔

اسی دوران، ایک اور پراسرار پہلو سامنے آیا جس نے اس منصوبے کو محض سائنسی تجربہ نہیں بلکہ ایک راز بنا دیا۔ آلات نے زمین کی گہرائی سے عجیب و غریب آوازیں ریکارڈ کرنا شروع کر دیں۔ یہ آوازیں کسی قدرتی شور سے مختلف لگتی تھیں اور ان کی واضح وضاحت ممکن نہ ہو سکی۔ بعد میں انہی آوازوں کے بارے میں مختلف کہانیاں اور قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں، جن میں کچھ لوگوں نے انہیں غیر معمولی یا پراسرار قوتوں سے جوڑ دیا۔

اگرچہ سائنس دانوں نے ان آوازوں کو ارضیاتی حرکات یا دباؤ کی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا، مگر عوامی تخیل نے انہیں ایک الگ ہی رنگ دے دیا۔ برسوں تک یہ سوال پوچھا جاتا رہا کہ زمین کی گہرائیوں میں آخر کیا ہو رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منصوبے نے زمین کے اندرونی حصوں کے بارے میں ہمارے علم میں جتنا اضافہ کیا، اتنے ہی نئے سوالات بھی پیدا کر دیے۔

وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، تکنیکی مشکلات اور مالی دباؤ کے باعث یہ منصوبہ جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ آخرکار کولا سپرڈیپ بورہول کو ترک کر دیا گیا۔ اگرچہ یہ منصوبہ مکمل نہ ہو سکا، مگر اس نے سائنس کو ایک قیمتی سبق ضرور دیا۔ زمین کی گہرائیاں ہمارے تصورات سے کہیں زیادہ پیچیدہ، شدید اور پراسرار ہیں۔

اس تجربے نے یہ ثابت کر دیا کہ کاغذ پر بنائے گئے ماڈلز ہمیشہ حقیقت کی درست تصویر پیش نہیں کرتے۔ زمین کے اندرونی حالات اتنے سخت ہو سکتے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی ان کے سامنے بے بس نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کولا سپرڈیپ بورہول کو سائنسی تاریخ کا ایک حیران کن باب سمجھا جاتا ہے۔

یہ منصوبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انسان جتنا بھی ترقی کر لے، قدرت کے سامنے اس کی معلومات اب بھی محدود ہیں۔ زمین کے نیچے چھپی دنیا ابھی تک مکمل طور پر ہمارے سامنے نہیں آئی۔ شاید مستقبل میں نئی ٹیکنالوجی ہمیں مزید گہرائی تک لے جائے، مگر کولا سپرڈیپ بورہول ہمیشہ اس جستجو کی علامت رہے گا جس میں انسان نے اپنی حدود کو آزمانے کی کوشش کی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.