اکثر ہم صحت مند زندگی اور لمبی عمر کو سخت ورزش، مہنگے سپلیمنٹس یا پیچیدہ روٹینز سے جوڑ دیتے ہیں۔ مگر حالیہ طویل المدتی تحقیقی مطالعات ایک مختلف اور دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان مطالعات کے مطابق وہ خواتین جو باقاعدگی سے روایتی گھریلو مشاغل میں وقت گزارتی ہیں، جیسے بنائی، سلائی، باغبانی، کھانا پکانا اور دستکاری، عموماً جسمانی اور ذہنی طور پر زیادہ صحت مند پائی جاتی ہیں۔ یہ مشاغل بظاہر سادہ لگتے ہیں، مگر ان کے اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
ان سرگرمیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ایک ساتھ کئی فائدے فراہم کرتی ہیں۔ ان میں تخلیقی اظہار بھی شامل ہوتا ہے، روزمرہ کی ترتیب بھی، ہلکی جسمانی حرکت بھی اور اکثر سماجی رابطہ بھی۔ یہی عناصر مل کر انسان کی مجموعی صحت پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایسی سرگرمیوں میں مصروف خواتین میں ذہنی دباؤ کم، موڈ زیادہ مستحکم اور زندگی سے اطمینان کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر بنائی یا کڑھائی جیسی سرگرمیوں میں ہاتھوں کی بار بار حرکت شامل ہوتی ہے۔ یہ حرکات دماغ کے اُن حصوں کو متحرک کرتی ہیں جو سکون اور توجہ سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین انہیں مراقبے سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ جب انسان کسی پیٹرن پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو بے چینی کم ہونے لگتی ہے، دل کی دھڑکن متوازن ہوتی ہے اور ذہن آہستہ آہستہ پرسکون ہو جاتا ہے۔
باغبانی ایک اور سرگرمی ہے جو کئی حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ اس میں ہلکی پھلکی جسمانی مشق شامل ہوتی ہے، جیسے پودے لگانا، پانی دینا یا مٹی کو سنوارنا۔ اس کے ساتھ سورج کی روشنی ملتی ہے جو وٹامن ڈی کے لیے ضروری ہے۔ مزید یہ کہ کسی پودے کو اپنی آنکھوں کے سامنے بڑھتا دیکھنا ایک خاص قسم کی خوشی اور تکمیل کا احساس دیتا ہے۔ یہی احساس دل کی صحت بہتر بنانے اور موڈ کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
کھانا پکانا اور بیکنگ جیسے مشاغل بھی صرف ذائقے تک محدود نہیں رہتے۔ ان میں منصوبہ بندی، ترتیب اور تخلیق شامل ہوتی ہے۔ ایک نئی ترکیب آزمانا یا کسی پرانی ترکیب کو بہتر بنانا ذہن کو متحرک رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، گھر والوں کے لیے کچھ تیار کرنا مقصدیت کا احساس پیدا کرتا ہے، جو ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
ان تمام سرگرمیوں میں سماجی پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے۔ بہت سی روایتی سرگرمیاں گروپ کی صورت میں کی جاتی ہیں یا نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ دادی نانی کا پوتیوں نواسیوں کو سلائی یا بنائی سکھانا محض ہنر کی منتقلی نہیں بلکہ تعلق اور قربت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ تنہائی کو آج کے دور میں قبل از وقت بیماری اور کم عمری میں موت کے بڑے اسباب میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے میں یہ مشاغل تنہائی کم کرنے اور تعلقات مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیقی شواہد بار بار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مضبوط سماجی رشتے ڈپریشن، یادداشت کی کمزوری اور دائمی بیماریوں کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔ جو خواتین اپنی زندگی میں ان روایتی مشاغل کو جگہ دیتی ہیں، وہ عموماً زیادہ متحرک سماجی زندگی رکھتی ہیں، چاہے وہ محلے کی سطح پر ہو یا خاندان کے اندر۔
ذہنی صلاحیتوں کے حوالے سے بھی ان سرگرمیوں کے فوائد نمایاں ہیں۔ وہ مشاغل جن میں پیٹرن، منصوبہ بندی یا باریک حرکات شامل ہوں، دماغ کی لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر لحاف سینا، کیک بنانا یا دستکاری کے منصوبے مکمل کرنا یادداشت، ہم آہنگی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو استعمال میں لاتا ہے۔ اس مسلسل استعمال سے دماغ تیز رہتا ہے اور عمر کے ساتھ آنے والی ذہنی کمزوری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ ان مشاغل کو فرسودہ یا پرانے زمانے کی عادت سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ حقیقت میں یہ صحت مند بڑھاپے کے طاقتور اوزار ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ لمبی اور بہتر زندگی کے لیے ضروری نہیں کہ انسان خود کو حد سے زیادہ تھکائے۔ بعض اوقات مستقل مزاجی سے کی جانے والی چھوٹی، خوشگوار سرگرمیاں ہی سب سے بڑا فرق ڈال دیتی ہیں۔
آخر میں، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ زندگی کی خوبصورتی صرف بڑے اہداف میں نہیں بلکہ روزمرہ کے سادہ مگر معنی خیز لمحات میں بھی چھپی ہوتی ہے۔ بنائی کی ایک قطار، باغ میں کھلتا ہوا ایک پھول یا اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا کھانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو نہ صرف دن کو بہتر بناتی ہیں بلکہ برسوں پر محیط صحت اور سکون کی بنیاد بھی رکھتی ہیں۔
