ننھی جانوں کے لیے بڑا فیصلہ


تاریخ کبھی کبھی شور کے بغیر بدلتی ہے۔ کوئی بڑی سرخی نہیں بنتی، کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا، مگر فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو لاکھوں جانوں کی سمت بدل دیتے ہیں۔ حال ہی میں جرمنی اور فرانس نے ایسا ہی ایک قدم اٹھایا ہے جس نے انڈوں کی صنعت میں ایک پرانی اور متنازع روایت کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی ہے۔

سالہا سال سے یہ معمول تھا کہ انڈوں کی پیداوار کے لیے پالے جانے والے چوزوں میں سے نر چوزوں کو پیدائش کے فوراً بعد ختم کر دیا جاتا تھا۔ وجہ سادہ مگر تلخ تھی۔ وہ نہ تو انڈے دے سکتے تھے اور نہ ہی گوشت کی صنعت کے معیار پر پورا اترتے تھے، اس لیے انہیں معاشی طور پر غیر مفید سمجھا جاتا تھا۔ نتیجہ یہ کہ لاکھوں ننھی جانیں دنیا میں آنکھ کھولتے ہی ختم کر دی جاتی تھیں۔

یہ عمل طویل عرصے سے جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کی تنقید کا نشانہ تھا۔ سوال یہ تھا کہ کیا صرف معاشی فائدے کی خاطر ایک زندہ مخلوق کی زندگی کو اتنی آسانی سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ جیسے جیسے شعور بڑھا، دباؤ بھی بڑھتا گیا کہ اس طریقے کا متبادل تلاش کیا جائے۔

اب ٹیکنالوجی نے ایک نیا راستہ فراہم کیا ہے۔ جدید سائنسی طریقوں کی مدد سے انڈے کے اندر موجود جنین کی جنس کا تعین ہیچنگ سے پہلے کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نر چوزوں کی پیدائش سے پہلے ہی انڈوں کو الگ کیا جا سکتا ہے، یوں بڑے پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف سائنسی کامیابی ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی اہم قدم ہے۔

جرمنی اس قانون کو نافذ کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھا، اور فرانس نے بھی اسی سمت میں قانون سازی کی۔ ان فیصلوں نے یہ پیغام دیا کہ زرعی پیداوار اور اخلاقیات ایک دوسرے کی مخالف نہیں ہوتیں۔ اگر ارادہ ہو تو دونوں کے درمیان توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔

یقیناً اس تبدیلی کے ساتھ چیلنجز بھی آئے۔ نئی ٹیکنالوجی کو اپنانا، مشینری لگانا اور عملے کو تربیت دینا آسان نہیں۔ اس سے لاگت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ تھا کہ کیا تھوڑا سا اضافی خرچ ان بے زبان جانوروں کی زندگی سے زیادہ اہم ہے؟ کئی کسانوں اور کمپنیوں نے اس تبدیلی کو قبول کیا اور اسے مستقبل کی سمت قرار دیا۔

یہ قدم صرف ایک صنعت تک محدود نہیں۔ یہ سوچ میں تبدیلی کی علامت ہے۔ دنیا بھر میں صارفین اب صرف سستی مصنوعات نہیں چاہتے، بلکہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی خوراک کس طرح تیار ہوئی۔ شفافیت اور ذمہ داری کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں یہ قانون اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومتیں اور صنعتیں عوامی احساسات کو سن رہی ہیں۔

اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ چھوٹی اور کمزور مخلوقات کے بارے میں ہے۔ معاشرتی ترقی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ ہم ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جو اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ جب معاشرہ ایسی جانوں کے لیے بھی قوانین بناتا ہے تو یہ اس کی اخلاقی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ تبدیلی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ جدت صرف رفتار یا منافع کے لیے نہیں ہوتی۔ اگر سائنسی ترقی کو انسانی ہمدردی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو نتائج زیادہ متوازن ہو سکتے ہیں۔ انڈوں کی صنعت میں جنس کی ابتدائی شناخت کی ٹیکنالوجی اسی بات کی مثال ہے کہ تحقیق انسانیت کی خدمت بھی کر سکتی ہے۔

یقیناً دنیا کے تمام ممالک نے ابھی ایسا قانون نہیں بنایا، مگر ایک مثال قائم ہو چکی ہے۔ جب بڑے یورپی ممالک اس سمت میں قدم اٹھاتے ہیں تو اس کا اثر دوسرے خطوں پر بھی پڑتا ہے۔ ممکن ہے آنے والے برسوں میں مزید ممالک اسی طرز پر قوانین متعارف کرائیں۔

آخرکار، یہ معاملہ صرف چوزوں کا نہیں۔ یہ اس بات کا ہے کہ ہم بطور معاشرہ کس سمت جانا چاہتے ہیں۔ کیا ہم صرف پیداوار اور منافع کو ترجیح دیں گے، یا ان اقدار کو بھی جگہ دیں گے جو ہمدردی اور احترام پر مبنی ہیں؟ جرمنی اور فرانس کا حالیہ فیصلہ بتاتا ہے کہ دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ممکن ہے۔

یہ خاموش تبدیلی شاید روزمرہ خبروں میں زیادہ جگہ نہ پائے، مگر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ لاکھوں ننھی جانوں کے لیے یہ ایک نئی شروعات ہے۔ اور ہمارے لیے یہ یاد دہانی کہ ترقی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب اس میں اخلاق بھی شامل ہوں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.