برف میں محبت: ماں کی خاموش قربانی


برف سے ڈھکی ہوئی ویران وسعتوں میں، جہاں زندگی کی سانس بھی دھیمی محسوس ہوتی ہے، ایک ماں خاموشی سے اپنے فرض پر قائم ہے۔ سردی ایسی کہ ہوا چہرے کو چیرتی ہوئی گزرے، راتیں طویل اور اندھیری، اور آس پاس میلوں تک سنّاٹا۔ ایسے ماحول میں زندہ رہنا ہی ایک امتحان ہے، مگر وہ صرف اپنی بقا کے لیے نہیں بیٹھی۔ اس کے سامنے رکھے چند نازک انڈے اس کی پوری دنیا ہیں۔

ہفتوں سے وہ تقریباً اسی جگہ موجود ہے۔ برفانی زمین پر جما رہنا آسان نہیں، خاص طور پر اس وقت جب خوراک کم ہو اور جسم کو توانائی درکار ہو۔ مگر وہ بہت کم کھاتی ہے۔ اس کی توجہ کا مرکز صرف وہ ننھے خول ہیں جن کے اندر نئی زندگی پل رہی ہے۔ وہ بار بار انہیں آہستگی سے گھماتی ہے تاکہ ہر انڈے کو یکساں حرارت ملے اور اندر بڑھتی ہوئی جان محفوظ رہے۔

یہ عمل بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر اس میں غیر معمولی صبر شامل ہے۔ شدید سردی میں معمولی سی غفلت بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ درجہ حرارت اگر بہت نیچے چلا جائے تو زندگی کی ننھی سی چنگاری بجھ سکتی ہے۔ اسی لیے وہ ہر لمحہ چوکس ہے۔ اس کی آنکھیں اردگرد کے خطرات کو بھانپتی رہتی ہیں، اور اس کا جسم ایک ڈھال کی طرح انڈوں کو ڈھانپے رکھتا ہے۔

قدرت نے اسے یہی سبق دیا ہے۔ نہ کوئی کتاب، نہ کوئی ہدایت، صرف جبلّت۔ اسے معلوم ہے کہ اس کا ٹھہراؤ ہی آنے والے کل کی ضمانت ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اگر وہ کمزور پڑ گئی تو اس کی نسل آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ اس لیے وہ سردی، بھوک اور تنہائی سب برداشت کرتی ہے۔

ان ہفتوں میں شاید کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، مگر خاموشی کے اندر ایک مسلسل جدوجہد جاری ہے۔ ہوا کے تیز جھونکے، برفانی طوفان اور شکاری جانور سب ممکنہ خطرات ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی جگہ سے ہٹتی نہیں۔ اس کی استقامت ہی اس کی طاقت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک ان انڈوں کے اندر سے کوئی دل کی دھڑکن سنائی نہیں دیتی، مگر ایک رشتہ پہلے ہی قائم ہو چکا ہے۔ یہ تعلق دیکھنے یا سننے کا محتاج نہیں۔ یہ وہ احساس ہے جو ذمہ داری سے جنم لیتا ہے۔ وہ ہر انڈے کو ایسے سنبھالتی ہے جیسے اسے معلوم ہو کہ ان کے اندر مستقبل کی امید سو رہی ہے۔

قدرت کے سخت ترین علاقوں میں بقا صرف جسمانی قوت کا نام نہیں۔ یہاں نرمی بھی طاقت ہوتی ہے۔ ایک ماں کا جھک کر اپنے بچوں کو ڈھانپ لینا، انہیں حرارت دینا، اور ہر خطرے کے سامنے ڈٹ جانا، یہ سب بہادری کی مختلف صورتیں ہیں۔ یہ وہ ہمت ہے جو چیخ کر اعلان نہیں کرتی، مگر اپنے عمل سے ثابت ہوتی ہے۔

وقت آہستہ آہستہ گزرتا ہے۔ دن اور رات کا فرق کم محسوس ہوتا ہے۔ برفانی زمین پر بیٹھے رہنا جسم کو تھکا دیتا ہے، مگر اس کی توجہ منتشر نہیں ہوتی۔ وہ جانتی ہے کہ جلد ہی ایک لمحہ آئے گا جب خول ٹوٹیں گے اور ننھی آوازیں اس خاموشی کو توڑ دیں گی۔ وہ لمحہ اس کی تمام قربانیوں کا صلہ ہوگا۔

اس کہانی میں کوئی ڈرامائی منظر نہیں، نہ ہی شور۔ مگر اس کی گہرائی کم نہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محبت اکثر سب سے مشکل حالات میں اپنا اصل رنگ دکھاتی ہے۔ جب وسائل کم ہوں اور خطرات زیادہ، تب بھی ایک والدین کا عزم کمزور نہیں پڑتا۔

قدرت کے اس سرد گوشے میں، جہاں زندگی ایک نازک دھاگے سے بندھی ہوتی ہے، ماں کی یہ ثابت قدمی روشنی کی مانند ہے۔ وہ شاید الفاظ میں کچھ نہ کہے، مگر اس کا ہر عمل ایک اعلان ہے کہ وہ ہار نہیں مانے گی۔ جب تک اس کے اندر سانس ہے، وہ اپنے بچوں کی حفاظت کرے گی۔

آخرکار، جب پہلی بار انڈے سے ننھا سا سر باہر آئے گا، تو یہ صرف ایک نئی زندگی کی شروعات نہیں ہوگی۔ یہ ان ہفتوں کی خاموش محنت، برداشت اور بے لوث محبت کی جیت ہوگی۔ اس لمحے میں سردی کی شدت کم محسوس ہوگی، کیونکہ ماں کی قربانی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہوگا کہ بقا صرف طاقت کا نام نہیں، بلکہ دل کی نرمی اور عزم کا بھی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.