کولمبیا کے صوبے قرطبہ میں ہونے والی شدید بارشوں نے چند ہی گھنٹوں میں پُرسکون محلوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ گلیاں جو کل تک معمول کی زندگی سے بھری ہوئی تھیں، اچانک مٹیالے سیلابی ریلے میں غائب ہو گئیں۔ لوگ گھروں سے ضروری سامان سمیٹ کر اونچی جگہوں کی طرف منتقل ہونے لگے۔ ہر طرف بے یقینی اور خوف کا ماحول تھا، کیونکہ پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
ایسی ہی افراتفری کے دوران ایک منظر سامنے آیا جس نے بہت سوں کو حیران بھی کیا اور جذباتی بھی۔ سیلابی پانی میں ایک گائے آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ پانی اس کے جسم کے بڑے حصے تک پہنچ چکا تھا، مگر وہ گھبرائی نہیں۔ اس کی پیٹھ پر چند ننھے کتے چمٹے ہوئے تھے، جو خود اس تیز بہاؤ میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ وہ اس جانور کی پشت کو اپنی محفوظ پناہ گاہ بنائے ہوئے تھے۔
مقامی ذرائع کے مطابق شدید بارشوں نے قرطبہ کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا۔ کئی گھروں کو نقصان پہنچا اور لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ سیلاب صرف انسانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لیے بھی خطرہ بن گیا تھا۔ پانی اچانک اتنا بڑھ گیا کہ بہت سے پالتو اور آوارہ جانور پھنس کر رہ گئے۔
اسی پس منظر میں گائے کا یہ عمل غیر معمولی محسوس ہوا۔ وہ تیزی سے نہیں بھاگی، نہ ہی اس نے اپنے اوپر سوار ننھے کتوں کو جھٹکنے کی کوشش کی۔ وہ دھیرے دھیرے قدم رکھتی رہی، جیسے اسے اندازہ ہو کہ اس کی پشت پر موجود جانیں اس کی رفتار پر منحصر ہیں۔ پانی کا بہاؤ تیز تھا، مگر اس کا انداز پُرسکون تھا۔ اس لمحے میں وہ صرف ایک جانور نہیں بلکہ چلتی پھرتی پناہ گاہ بن گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر جب یہ منظر سامنے آیا تو لوگوں نے اسے امید کی علامت قرار دیا۔ قدرتی آفات کے دوران عموماً تباہی اور نقصان کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ مگر کبھی کبھار ایسے واقعات بھی دکھائی دیتے ہیں جو یاد دلاتے ہیں کہ ہمدردی صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ جانور بھی اپنے اندر ایک فطری احساس رکھتے ہیں جو انہیں دوسروں کی حفاظت پر آمادہ کرتا ہے۔
کولمبیا کے مختلف حصوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدید موسم نے مشکلات پیدا کی ہیں۔ حکام کو کئی علاقوں میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑے۔ بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور کئی خاندانوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔ ایسے حالات میں ہر چھوٹی بڑی مدد قیمتی ثابت ہوتی ہے۔
گائے کا یہ عمل شاید کسی منصوبے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک جبلّتی ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اس کا اثر گہرا تھا۔ ننھے کتے جو پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ سکتے تھے، اس کی پشت پر محفوظ رہے۔ اس منظر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بحران کے لمحوں میں سادہ سا خیال یا حفاظت کا جذبہ کتنی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
قدرتی آفات ہمیں اکثر بے بس کر دیتی ہیں۔ پانی، آگ یا طوفان کے سامنے انسان خود کو کمزور محسوس کرتا ہے۔ مگر اسی کمزوری کے بیچ جب کوئی چھوٹا سا عمل زندگی بچا لے تو وہ امید کی کرن بن جاتا ہے۔ اس واقعے نے یہی پیغام دیا کہ مشکل وقت میں رحم دلی کی طاقت غیر معمولی ہو سکتی ہے۔
یہ کہانی صرف ایک گائے اور چند کتوں کی نہیں۔ یہ اس وسیع تر حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ زمین پر رہنے والی مخلوقات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ خطرہ جب سب پر یکساں ہو تو تحفظ کا جذبہ بھی سرحدوں سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ چاہے وہ انسان ہو یا جانور، زندگی کی قدر مشترک ہے۔
قرطبہ کے سیلاب نے یقیناً بہت نقصان پہنچایا ہوگا، مگر اسی بحران کے درمیان یہ منظر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا گیا۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ تباہی کے بیچ بھی نرمی موجود رہتی ہے۔ ایک سادہ سا عمل، چند لمحوں کی ثابت قدمی، اور چند زندگیاں محفوظ ہو گئیں۔
آخرکار، شاید یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیا صرف مصیبتوں سے نہیں بھری۔ کبھی کبھی ایک خاموش اور غیر متوقع حرکت بھی ثابت کر دیتی ہے کہ حفاظت اور شفقت کی طاقت کتنی بڑی ہو سکتی ہے۔
