برازیل کے شہر موگی داس کروزس میں ایک پٹرول پمپ زیرِ تعمیر تھا جب ایک ننھا بھورا کتا وہاں آ کر رہنے لگا۔ کسی نے اسے وہیں چھوڑ دیا تھا۔ نہ اس کے پاس ٹھکانہ تھا، نہ کھانے کا بندوبست۔ وہ ادھوری عمارت کے اردگرد گھومتا رہتا، کبھی کسی سائے میں بیٹھ جاتا اور کبھی آنے جانے والوں کو امید بھری نظروں سے دیکھتا۔ شاید اسے انتظار تھا کہ کوئی اسے اپنا لے۔
وقت گزرا اور پٹرول پمپ کے نئے مالکان نے جگہ سنبھالی۔ انہوں نے جلد ہی اس کتے کو نوٹس کیا جو ہر روز وہیں موجود ہوتا تھا۔ وہ بھاگتا نہیں تھا، بس قریب رہتا تھا، جیسے کسی پہچان کا منتظر ہو۔ اکثر ایسے حالات میں لوگ نظرانداز کر دیتے ہیں، مگر یہاں معاملہ مختلف تھا۔ مالکان نے فیصلہ کیا کہ اسے یوں بے سہارا نہیں چھوڑا جائے گا۔
انہوں نے سب سے پہلے اسے مقامی ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس لے جایا۔ اس کا مکمل معائنہ ہوا، ویکسین لگائی گئیں اور ضروری علاج کیا گیا۔ وہ صحت مند تو تھا، مگر واضح تھا کہ اسے دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ چند ہی دنوں میں اس کی حالت بہتر ہونے لگی۔ اسے باقاعدہ کھانا ملنے لگا، سونے کے لیے محفوظ جگہ دی گئی اور روزانہ سیر بھی کرائی جانے لگی۔
جلد ہی وہ صرف ایک آوارہ کتا نہیں رہا، بلکہ پمپ کی ٹیم کا حصہ بن گیا۔ اس کا نام رکھا گیا “نیگاؤ”۔ جیسے جیسے افتتاح کا وقت قریب آیا، وہ ہر روز کارکنوں کے ساتھ موجود رہتا۔ وہ ان کے پیچھے پیچھے گھومتا، جیسے اپنے نئے خاندان کے ساتھ مصروف ہو۔
جب پٹرول پمپ نے باقاعدہ کام شروع کیا تو نیگاؤ سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ وہ دروازے کے قریب بیٹھتا اور آنے والے گاہکوں کو خوش آمدید کہتا۔ اس کی دم ہلانے کا انداز اور دوستانہ رویہ لوگوں کو مسکرا دیتا۔ کچھ ہی عرصے میں وہ اس جگہ کی پہچان بن گیا۔
مالکان نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے ایک چھوٹا سا یونیفارم بھی تیار کروا دیا۔ اس کے ساتھ ایک ملازم کا بیج بھی تھا، جیسے وہ واقعی اسٹاف ممبر ہو۔ یہ محض مزاح یا تشہیر کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس بات کی علامت تھی کہ اسے عزت اور اپنائیت دی گئی ہے۔ اب وہ صرف پناہ گزین نہیں بلکہ ذمہ داری رکھنے والا ساتھی تھا۔
گاہک جب وہاں آتے تو اکثر نیگاؤ کے لیے ٹافیاں، بسکٹ یا کھلونے لے آتے۔ بچے خاص طور پر اسے دیکھ کر خوش ہو جاتے۔ اس کی کہانی آہستہ آہستہ شہر سے نکل کر ملک بھر میں پھیل گئی۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے محبت کی علامت قرار دیا۔ ایک ایسی جگہ جہاں گاڑیاں ایندھن لینے آتی ہیں، وہاں ایک کتا لوگوں کے دلوں کو بھی توانائی دینے لگا۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مہربانی کے لیے بڑے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک سادہ سا فیصلہ، کسی کو نظرانداز نہ کرنا، کسی کی ضرورت کو پہچان لینا، زندگی بدل سکتا ہے۔ اگر مالکان چاہتے تو اسے بھگا سکتے تھے، مگر انہوں نے دوسرا راستہ چنا۔
نیگاؤ کی موجودگی نے پٹرول پمپ کے ماحول کو بھی بدل دیا۔ وہ صرف ایک پالتو جانور نہیں بلکہ ٹیم اسپرٹ کا حصہ بن گیا۔ اس کی وجہ سے گاہکوں کا تجربہ بھی خوشگوار ہوا۔ کاروبار میں انسانیت کا یہ پہلو اکثر نظر نہیں آتا، مگر یہاں یہ واضح تھا۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک بے گھر جانور کو صرف خوراک اور پناہ نہیں ملی، بلکہ شناخت بھی ملی۔ اسے ایک کردار دیا گیا، ایک جگہ دی گئی جہاں وہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ احساس کسی بھی جاندار کے لیے قیمتی ہوتا ہے۔
نیگاؤ کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے خوبصورت تبدیلیاں وہ ہوتی ہیں جو خاموشی سے شروع ہوتی ہیں۔ ایک چھوڑا ہوا کتا، ایک زیرِ تعمیر عمارت، اور چند لوگوں کا رحم دل فیصلہ۔ نتیجہ یہ کہ ایک زندگی سنور گئی اور بے شمار دل متاثر ہوئے۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ شفقت چھوٹی نہیں ہوتی۔ ایک سادہ سا عمل کسی کے لیے نئی شروعات بن سکتا ہے۔ نیگاؤ آج بھی وہاں موجود ہے، دم ہلاتا، مسکراتا اور ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہوا۔ وہ اس بات کی زندہ مثال ہے کہ محبت واقعی زندگی بدل سکتی ہے۔
