سن 1665 میں جب لندن میں طاعون نے تباہی مچا رکھی تھی، اسی دوران ایک چھوٹا سا انگریزی گاؤں بھی اس آفت کی لپیٹ میں آ گیا۔ یہ گاؤں تھا ایام، جو ڈربی شائر کی پُرسکون وادیوں میں واقع تھا۔ کہانی کی ابتدا ایک ایسے پارسل سے ہوئی جس نے کسی کو خطرے کا احساس تک نہ ہونے دیا۔ لندن سے پرانے کپڑوں کا ایک ڈبہ یہاں پہنچا۔ ان کپڑوں میں چھپے جراثیم چند ہی دنوں میں موت کا پیغام بن گئے۔ ستمبر 1665 میں پہلی ہلاکت ہوئی، اور یوں ایک آزمائش کا دور شروع ہو گیا۔
جب مرض تیزی سے پھیلنے لگا تو گاؤں کے مذہبی رہنماؤں، William Mompesson اور Thomas Stanley، نے ایک غیر معمولی قدم اٹھانے کی تجویز دی۔ انہوں نے لوگوں کو سمجھایا کہ اگر یہ بیماری باہر کے علاقوں تک پہنچی تو تباہی کئی گنا بڑھ جائے گی۔ چنانچہ گاؤں والوں نے ایک مشکل مگر باوقار فیصلہ کیا: وہ خود کو دنیا سے الگ کر لیں گے۔ کوئی اندر آئے گا نہ باہر جائے گا۔
یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ جو کچھ بھی ہوگا، وہ سب کو مل کر جھیلنا ہوگا۔ گاؤں کی حدود متعین کرنے کے لیے مخصوص پتھر نصب کیے گئے، جنہیں آج بھی “باؤنڈری اسٹون” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان پتھروں کے پار جانا منع تھا۔ باہر کے لوگ اگر خوراک یا ضروری سامان رکھتے تو اسے سرحد پر چھوڑ دیتے۔ بدلے میں گاؤں والے سکے سرکے میں بھگو کر رکھتے تاکہ جراثیم ختم ہو جائیں۔ یہ احتیاط اس زمانے کے لحاظ سے حیران کن حد تک سمجھ داری پر مبنی تھی۔
چرچ کی عبادات بند کمروں میں کرنے کے بجائے کھلے میدانوں میں ہونے لگیں تاکہ ہجوم سے بچا جا سکے۔ جب کوئی شخص وفات پاتا تو اسے دور دراز قبرستان لے جانے کے بجائے اسی جگہ دفن کیا جاتا جہاں وہ رہتا تھا۔ کئی گھروں کے قریب آج بھی ان قبروں کے نشانات موجود ہیں، جو اس دردناک دور کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔
یہ وبا تقریباً چودہ ماہ تک جاری رہی۔ اندازاً آٹھ سو آبادی میں سے لگ بھگ ڈھائی سو سے زیادہ افراد جان سے گئے۔ ہر گھر نے کسی نہ کسی اپنے کو کھویا۔ مگر اس قربانی کا ایک بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ قریبی قصبے اور شہر اس مہلک بیماری سے محفوظ رہے۔ اگر ایام کے لوگ خود کو محدود نہ کرتے تو شاید پورا خطہ اس وبا کی لپیٹ میں آ جاتا۔
اس گاؤں کی کہانی صرف بیماری کی داستان نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری کی مثال ہے۔ نہ کوئی جدید طب تھی، نہ حفاظتی سامان۔ صرف ایک فیصلہ، جس میں اپنی جان سے بڑھ کر دوسروں کی سلامتی کو اہم سمجھا گیا۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گاؤں میں مذہبی اختلافات کے باوجود دونوں رہنماؤں نے مل کر لوگوں کی رہنمائی کی۔ مشکل وقت میں اتحاد نے ہی انہیں حوصلہ دیا۔
آج جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ایام کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے بڑا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ انسان خود کو روک لے۔ اس چھوٹے سے گاؤں نے اپنے حصار میں رہ کر ایک بڑی تباہی کو پھیلنے سے روکا۔ یہ قربانی تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے، اور آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اجتماعی بھلائی کے لیے ذاتی مفاد کو پیچھے چھوڑنا ہی اصل بہادری ہے۔
