پتوں کو ناپ کر کاٹنے والی مکھی، قدرت کی خاموش انجینئر


ایک چھوٹی سی مکھی، جسے عام طور پر لیف کٹر بی کہا جاتا ہے، اپنی خاموش محنت اور حیران کن مہارت کی وجہ سے قدرت کے عجائب میں شمار ہوتی ہے۔ اگر آپ کبھی کسی پودے کے پتوں پر بلکل گول اور نفیس کٹ دیکھیں تو سمجھ لیں کہ یہ کسی کیڑے کا بے ترتیبی سے کھایا ہوا نشان نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا کام ہے۔ یہ کام اسی مکھی کا ہوتا ہے جو پتوں کو کھانے کے لیے نہیں بلکہ گھر بنانے کے لیے کاٹتی ہے۔

یہ مکھی نہ تو شہد کی مکھیوں کی طرح چھتے میں رہتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ملکہ ہوتی ہے جو اسے حکم دے۔ یہ اکیلی زندگی گزارتی ہے۔ ہر مادہ مکھی اپنا گھر خود تیار کرتی ہے۔ وہ کسی درخت کے تنے میں موجود سوراخ، مٹی کی دیوار کی دراڑ، یا کسی خالی نالی کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ پھر وہ سب سے اہم مرحلے کی طرف بڑھتی ہے، یعنی پتوں کا انتخاب اور انہیں کاٹنا۔

لیف کٹر بی حیرت انگیز درستگی کے ساتھ پتوں کو کاٹتی ہے۔ وہ اپنی مضبوط جبڑوں سے پتوں میں گول یا بیضوی شکل کے ٹکڑے نکالتی ہے۔ یہ ٹکڑے اتنے صاف اور برابر ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی ماہر کاریگر نے قینچی سے ناپ تول کر کاٹے ہوں۔ ہر ٹکڑا سوچ سمجھ کر لیا جاتا ہے، اور ہر شکل کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔

جب مکھی کافی ٹکڑے جمع کر لیتی ہے تو وہ انہیں اپنے منتخب کردہ سوراخ میں لے جا کر ترتیب سے لگاتی ہے۔ وہ پہلے پتوں کو تہہ در تہہ اس طرح جماتی ہے کہ ایک نرم اور محفوظ خول بن جائے۔ اس خول کے اندر وہ ایک انڈا دیتی ہے اور ساتھ ہی جرگ اور پھولوں کا رس رکھ دیتی ہے تاکہ جب انڈے سے بچہ نکلے تو اسے فوراً خوراک مل جائے۔ پھر وہ اسی طرح پتوں کی ایک اور تہہ لگا کر اس حصے کو بند کر دیتی ہے۔ اس طرح ایک ہی سوراخ کے اندر وہ کئی چھوٹے چھوٹے خانے بنا دیتی ہے، اور ہر خانے میں ایک نیا انڈا محفوظ ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سارے عمل میں نہ کوئی شور ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی اجتماعی نظام۔ یہ مکھی مکمل طور پر خود مختار ہوتی ہے۔ نہ کوئی ملکہ، نہ مزدور مکھیاں، نہ کوئی باقاعدہ چھتہ۔ صرف ایک مکھی اور اس کی فطری صلاحیت۔ وہ بغیر کسی نقشے یا تربیت کے ایسا ڈیزائن تیار کرتی ہے جو اس کے بچے کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

قدرت نے اسے جو جبلت دی ہے، وہ اسے ایک ماہر انجینئر بنا دیتی ہے۔ ہر پتا ناپ تول کر کاٹا جاتا ہے، ہر تہہ سوچ سمجھ کر لگائی جاتی ہے۔ اس کے گھونسلے نہ صرف مضبوط ہوتے ہیں بلکہ نمی اور موسم کی سختیوں سے بھی بچاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی نسل کامیابی سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔

لیف کٹر بی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ چھوٹا ہونا کمزور ہونا نہیں ہوتا۔ ایک ننھی سی مکھی بھی اپنی محنت اور مہارت سے ایسا کام کر سکتی ہے جو انسان کو حیران کر دے۔ وہ پتوں کو برباد نہیں کرتی بلکہ انہیں ایک نئی شکل دے کر زندگی کی حفاظت کا ذریعہ بناتی ہے۔

اگر آپ اگلی بار کسی باغ میں جائیں اور پتوں پر مکمل گول کٹ دیکھیں تو رک کر غور کیجیے گا۔ یہ قدرت کا ایک خاموش فنکار ہے جو بغیر کسی شہرت کے اپنا شاہکار تخلیق کر رہا ہے۔ یہ مکھی واقعی فطرت کی انجینئر ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ خوبصورتی اور نظم و ضبط صرف بڑے ڈھانچوں میں نہیں، بلکہ ایک ننھے سے گھونسلے میں بھی چھپا ہو سکتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.