انیس سو نوّے کی دہائی کے آخر میں ایک نوجوان خاتون، جس کی عمر صرف اکیس برس تھی، بہتر مستقبل کی امید لے کر اپنے وطن سے دور چلی گئی۔ اس کا نام منیالو مرگیا تھا۔ اس نے Lebanon کا رخ کیا، جہاں اس نے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام شروع کیا۔ مقصد صرف ایک تھا: اپنے دو بیٹوں کی تعلیم کو یقینی بنانا تاکہ وہ وہ زندگی گزار سکیں جس کا خواب اس نے خود کبھی دیکھا تھا۔
پردیس کی زندگی آسان نہیں تھی۔ زبان مختلف، رسم و رواج الگ، اور حالات اکثر غیر یقینی۔ ان پچیس برسوں میں لبنان نے جنگوں اور معاشی بحرانوں کا سامنا کیا۔ کبھی حالات خراب ہوئے، کبھی روزگار خطرے میں پڑا، لیکن منیالو نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی محنت کا ہر دن اس کے بیٹوں کے مستقبل کی اینٹ ہے۔ وہ ہر پانچ سال بعد کچھ دنوں کے لیے گھر جاتی، بیٹوں کو گلے لگاتی، اور پھر دل پر پتھر رکھ کر واپس لوٹ آتی۔
وقت گزرتا گیا۔ اس کے بیٹے بڑے ہوتے گئے۔ ماں کی کمائی سے ان کی پڑھائی جاری رہی۔ منیالو نے شاید کئی بار سوچا ہوگا کہ کیا اس کی قربانی رنگ لائے گی؟ مگر اس نے کبھی ہمت نہیں چھوڑی۔ اس کے لیے سب سے بڑی خوشی یہی تھی کہ اس کے بیٹے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اکتوبر 2023 کے آغاز میں ایک لمحہ ایسا آیا جس نے اس کی ساری جدوجہد کو ایک خوبصورت انجام دیا۔ وہ Ethiopian Airlines کی پرواز کے ذریعے بیروت سے ادیس ابابا جا رہی تھی۔ یہ ایک طرفہ سفر تھا۔ اس بار وہ مستقل طور پر وطن لوٹ رہی تھی۔ شاید اس کے دل میں خوشی بھی تھی اور برسوں کی تھکن بھی۔
جہاز میں بیٹھنے کے بعد اسے اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد اس کی زندگی کا سب سے یادگار منظر سامنے آنے والا ہے۔ اچانک کیبن میں ایک نوجوان پائلٹ نمودار ہوا۔ وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا بیس سالہ بیٹا، کیروبیل سلیمان تھا۔ اس نے اپریل میں Ethiopian Airlines Aviation Academy سے گریجویشن مکمل کی تھی اور اب ایک باقاعدہ پائلٹ بن چکا تھا۔
وہ پردے کے پیچھے سے نکلا اور مسکراتے ہوئے اپنی ماں کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ جب منیالو نے اسے پائلٹ کی وردی میں دیکھا تو وہ حیرت سے ساکت رہ گئی۔ آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جس بیٹے کی تعلیم کے لیے اس نے جوانی پردیس میں گزاری، آج وہی اس جہاز کو اڑا رہا ہے جس میں وہ بیٹھی ہے۔
یہ منظر کیمرے میں محفوظ ہو گیا۔ ماں اور بیٹے کا گلے ملنا، آنسوؤں میں بھیگی مسکراہٹ، اور برسوں کی جدائی کا خاتمہ۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی اور لاکھوں لوگوں نے اسے دیکھا۔ مگر اس لمحے کی اصل اہمیت صرف ایک خاندان جانتا تھا۔ یہ صرف ایک جذباتی سرپرائز نہیں تھا، بلکہ پچیس برس کی محنت، صبر اور قربانی کا نتیجہ تھا۔
منیالو نے اپنے خواب کو لفظی معنی میں پرواز کرتے دیکھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو آسمانوں میں اڑتے ہوئے پایا۔ اس کے لیے یہ صرف گھر واپسی نہیں تھی، بلکہ اس یقین کی جیت تھی کہ ماں کی دعائیں اور قربانیاں رائیگاں نہیں جاتیں۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیابی اکثر خاموش محنت کے پیچھے چھپی ہوتی ہے۔ ایک ماں نے برسوں تک دور رہ کر جو بیج بویا، وہ ایک دن پائلٹ کی صورت میں اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اور اس دن، اس کا دل فخر سے بھر گیا۔
