اگر کوئی آپ سے کہے کہ انسان نے اپنے منصوبوں کے ذریعے پوری زمین کے توازن کو معمولی سا بدل دیا ہے، تو شاید یہ بات کسی سائنسی فلم کی کہانی لگے۔ مگر ماہرین کی کچھ تحقیقات اشارہ دیتی ہیں کہ دنیا بھر میں بنائے گئے بڑے ڈیموں اور آبی ذخائر نے وقت کے ساتھ زمین کے وزن کی تقسیم پر اثر ڈالا ہے۔
انیسویں صدی کے وسط سے لے کر اب تک ہزاروں ڈیم تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان ڈیموں کے پیچھے جمع ہونے والا اربوں ٹن پانی ایک جگہ مرتکز ہو جاتا ہے۔ جب اتنی بڑی مقدار میں پانی کسی مخصوص خطے میں ذخیرہ کیا جاتا ہے تو زمین کی سطح پر وزن کی تقسیم بدل جاتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق 1835 کے بعد سے اس عمل نے زمین کے جغرافیائی قطب کی پوزیشن کو تقریباً ایک میٹر تک سرکا دیا ہے۔ یہ تبدیلی عام آنکھ سے نظر نہیں آتی اور نہ ہی روزمرہ زندگی میں محسوس ہوتی ہے، مگر سائنسی پیمائشوں سے اس کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
زمین ایک گھومتی ہوئی گیند کی طرح ہے، اور اس کا توازن اس کے اندر اور اوپر موجود مادّے کی تقسیم سے جڑا ہوتا ہے۔ جب بڑے پیمانے پر پانی ایک جگہ منتقل کیا جاتا ہے تو اس سے گردش کے محور پر معمولی سا دباؤ پڑتا ہے۔ یہی دباؤ وقت کے ساتھ قطب کی سمت میں ہلکی سی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بات اہم ہے کہ یہ کوئی اچانک یا خطرناک تبدیلی نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط ایک تدریجی عمل ہے۔ اس سے ہمیں یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیاں کس قدر وسیع اثرات ڈال سکتی ہیں۔ ہم ڈیم توانائی پیدا کرنے، آبپاشی اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بناتے ہیں، مگر ان کے اثرات صرف مقامی نہیں رہتے۔
یہ تحقیق ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہماری ایجادات اور ترقیاتی منصوبے قدرتی نظاموں کے ساتھ کس حد تک جڑے ہوئے ہیں۔ بظاہر ایک عملی ضرورت پوری کرنے کے لیے بنایا گیا ڈھانچہ بھی عالمی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔
آخرکار یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین ایک مربوط نظام ہے۔ ہم جو بھی تبدیلی کرتے ہیں، وہ کسی نہ کسی سطح پر اس نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سائنس ہمیں مسلسل یہ سکھا رہی ہے کہ ترقی کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے، کیونکہ ہمارے فیصلوں کے اثرات ہماری سوچ سے کہیں آگے تک پہنچ سکتے ہیں، حتیٰ کہ زمین کے محور تک۔
