12 سالہ طالب علم کا کمال: سورج جیسی طاقت کا تجربہ


امریکہ کے شہر ڈلاس سے تعلق رکھنے والے بارہ سالہ طالب علم ایڈن میک ملن نے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو عموماً تجربہ کار سائنس دانوں کا میدان سمجھا جاتا ہے۔ اس کم عمر طالب علم نے ایک مقامی میکر اسپیس میں ایٹمی فیوژن جیسا پیچیدہ عمل کامیابی سے دہرا کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ وہی بنیادی عمل ہے جو سورج کو توانائی فراہم کرتا ہے اور مستقبل کے فیوژن ری ایکٹرز کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

ایڈن نے اس کامیابی تک پہنچنے کے لیے تقریباً دو سال مسلسل تحقیق کی۔ اس دوران اس نے کئی نمونے تیار کیے، ناکامیاں دیکھیں اور بار بار اپنے ڈیزائن میں بہتری لائی۔ آخرکار وہ ایک ایسا آلہ بنانے میں کامیاب ہوا جو نیوٹران خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیوٹران کا اخراج اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ ایٹم آپس میں جڑ کر توانائی پیدا کر رہے ہیں۔

یہ سب کام اس نے کسی بڑی سرکاری لیبارٹری میں نہیں، بلکہ ایک کمیونٹی ورکشاپ میں کیا جہاں نوجوان اور شوقین افراد جدید آلات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کامیابی کے بعد اس کا نام کم عمر ترین فرد کے طور پر عالمی ریکارڈ بنانے کی کوشش میں بھی شامل ہو گیا ہے۔

ایڈن کی کہانی صرف ایک سائنسی تجربے تک محدود نہیں۔ یہ اس بات کی مثال ہے کہ آج کے دور میں علم اور وسائل پہلے کی نسبت زیادہ لوگوں کی پہنچ میں آ چکے ہیں۔ انٹرنیٹ، اوپن سورس معلومات اور مقامی میکر اسپیسز نے نوجوانوں کو وہ مواقع دیے ہیں جو کبھی صرف بڑی جامعات یا تحقیقی اداروں تک محدود تھے۔

اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ عمر ہمیشہ رکاوٹ نہیں بنتی۔ اگر تجسس، محنت اور رہنمائی میسر ہو تو کم عمر ذہن بھی بڑے خواب پورے کر سکتے ہیں۔ ایڈن کی لگن اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی نسل سائنس کے میدان میں حدود کو آگے بڑھا رہی ہے، اور وہ بھی روایتی لیبارٹریوں سے باہر۔

بلاشبہ ایٹمی فیوژن ایک حساس اور پیچیدہ موضوع ہے، جس میں احتیاط اور سائنسی ذمہ داری بے حد ضروری ہے۔ مگر اس کامیابی نے یہ دکھایا کہ صحیح نگرانی اور محفوظ ماحول میں نوجوان بھی اعلیٰ سائنسی تجربات سمجھنے اور انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ کہانی مستقبل کی ایک جھلک بھی پیش کرتی ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں ایسے ہی باصلاحیت نوجوان صاف توانائی کے نئے ذرائع دریافت کریں اور دنیا کو پائیدار توانائی کی طرف لے جائیں۔ ایڈن میک ملن کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑے خواب دیکھنے کے لیے عمر کی قید نہیں ہوتی، بس جستجو اور محنت درکار ہوتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.