سوچیں ایک ایسا ایئرپورٹ جہاں سالہا سال گزر جائیں مگر ایک بھی سوٹ کیس گم نہ ہو۔ لاکھوں مسافر آئیں اور جائیں، ہزاروں پروازیں روزانہ اڑیں، مگر سامان کی ترسیل میں ایک بھی مستقل غلطی ریکارڈ نہ ہو۔ یہ بات حیران کن لگتی ہے، لیکن جاپان کا Kansai International Airport اسی مثال کے طور پر دنیا بھر میں مشہور ہو چکا ہے۔
اس ایئرپورٹ نے تیس سال سے زیادہ عرصے تک سامان کی ترسیل میں غیر معمولی ریکارڈ قائم رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہاں ایک بھی بیگ مستقل طور پر ضائع نہیں ہوا۔ یہ کامیابی کسی ایک مشین یا ایک شعبے کی نہیں، بلکہ ایک مکمل نظام کی مرہون منت ہے جو انتہائی نظم و ضبط اور باریک بینی سے کام کرتا ہے۔
ہر سوٹ کیس کو صرف ایک بیگ نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے ایک مسافر کی ذاتی چیزوں اور یادوں کا حصہ مانا جاتا ہے۔ عملہ سامان کو اسی ذمہ داری کے ساتھ سنبھالتا ہے جیسے وہ اپنا ذاتی مال ہو۔ بارکوڈ اسکیننگ، منظم لوڈنگ سسٹم، اور بروقت نگرانی جیسے مراحل انتہائی درستگی سے انجام دیے جاتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی تاخیر یا مسئلہ پیدا بھی ہو تو فوری طور پر اس کی نشاندہی اور حل کیا جاتا ہے۔
یہ کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بہترین نظام صرف جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بنتے، بلکہ ان کے پیچھے ایک مضبوط ثقافت ہوتی ہے۔ جاپان میں کام کے حوالے سے سنجیدگی اور ذمہ داری کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی سوچ یہاں بھی نظر آتی ہے، جہاں ہر ملازم اپنے حصے کا کام پوری ایمانداری سے انجام دیتا ہے۔
دنیا کے کئی ایئرپورٹس پر سامان گم ہو جانا ایک عام شکایت ہے۔ ایسے ماحول میں یہ کارنامہ ثابت کرتا ہے کہ مستقل مزاجی اور اصولوں کی پابندی کسی بھی نظام کو مثال بنا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک اعداد و شمار کا ریکارڈ نہیں، بلکہ اعتماد کی علامت ہے۔
جب مسافر اپنا سامان کنویئر بیلٹ سے اٹھاتے ہیں تو وہ دراصل ایک ایسے نظام پر بھروسا کر رہے ہوتے ہیں جو پس منظر میں خاموشی سے کام کر رہا ہوتا ہے۔ کنسائی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی کامیابی اسی خاموش محنت اور اجتماعی ذمہ داری کا نتیجہ ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر توجہ، نظم و ضبط اور احترام کو بنیادی اصول بنا لیا جائے تو روزمرہ کے کام بھی عالمی معیار قائم کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی اصل کمال شور مچانے میں نہیں، بلکہ خاموشی سے درست کام کرتے رہنے میں ہوتا ہے۔
