دھوپ یا خوراک؟ جلد کے کینسر پر حیران کن سائنسی انکشاف

دھوپ یا خوراک؟ جلد کے کینسر پر حیران کن سائنسی انکشاف

حال ہی میں جانوروں پر کی جانے والی ایک دلچسپ سائنسی تحقیق نے خوراک، دھوپ اور کینسر کے درمیان تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق جن چوہوں کی خوراک میں سیڈ آئلز شامل تھے، ان میں الٹرا وائلٹ روشنی کے سامنے آنے کے بعد جلد کا کینسر پیدا ہوا، جبکہ وہ چوہے جو سچوریٹڈ چکنائیاں استعمال کر رہے تھے، اسی دھوپ میں رہنے کے باوجود کینسر سے محفوظ رہے۔ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صرف دھوپ ہی نہیں بلکہ ہماری خوراک بھی اس بات پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ جسم بیرونی عوامل پر کیسے ردعمل دیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے چوہوں کو دو الگ گروپس میں تقسیم کیا۔ ایک گروپ کو ایسی غذائیں دی گئیں جن میں پولی اَن سیچوریٹڈ سیڈ آئلز شامل تھے، جو عام طور پر پروسیسڈ فوڈ، فاسٹ فوڈ اور پیک شدہ اشیاء میں پائے جاتے ہیں۔ دوسرے گروپ کی خوراک میں سچوریٹڈ فیٹس شامل تھیں، جیسا کہ ناریل کا تیل یا جانوروں سے حاصل ہونے والی چکنائیاں۔ دونوں گروپس کو بالکل یکساں مقدار میں الٹرا وائلٹ شعاعوں کے سامنے رکھا گیا تاکہ سورج کی روشنی کا اثر برابر رہے۔

نتائج حیران کن تھے۔ جن چوہوں کی خوراک میں سیڈ آئلز شامل تھے، ان کی جلد پر تیزی سے بڑھنے والے خطرناک ٹیومرز بننے لگے۔ اس کے برعکس، وہ چوہے جو سچوریٹڈ فیٹس کھا رہے تھے، ان میں نہ صرف کینسر کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں بلکہ ان کی جلد نسبتاً نارمل حالت میں رہی۔ اس فرق نے محققین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ شاید اصل مسئلہ صرف دھوپ نہیں بلکہ وہ چکنائی ہے جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں۔


Read This Also

ایک انجیکشن، نئی ریڑھ کی ہڈی: کمر درد کے علاج میں انقلابی دریافت

تحقیق کے مطابق سیڈ آئلز میں پائے جانے والے اومیگا سکس پولی اَن سیچوریٹڈ فیٹس جسم میں سوزش کو بڑھانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ چکنائیاں جسم کے اندر جلدی آکسیڈائز ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں فری ریڈیکلز پیدا ہوتے ہیں۔ فری ریڈیکلز وہ نقصان دہ ذرات ہیں جو خلیوں کے ڈی این اے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور یہی نقصان وقت کے ساتھ کینسر جیسی بیماریوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔ جب جلد پہلے ہی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے دباؤ میں ہو، تو یہ اضافی آکسیڈیٹو اسٹریس صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

اس کے برعکس، سچوریٹڈ فیٹس نسبتاً زیادہ مستحکم سمجھی جاتی ہیں۔ یہ نہ تو آسانی سے آکسیڈائز ہوتی ہیں اور نہ ہی جسم میں شدید سوزش پیدا کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے محققین کا خیال ہے کہ یہ چکنائیاں الٹرا وائلٹ روشنی کے نقصان دہ اثرات کو بڑھانے کے بجائے کسی حد تک غیر جانبدار رہتی ہیں۔ تاہم سائنس دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ نتائج ابھی ابتدائی ہیں اور انسانوں پر لاگو کرنے سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔

یہ تحقیق اس بات کا مطلب ہرگز نہیں کہ سورج کی روشنی مکمل طور پر نقصان دہ ہے یا تمام سیڈ آئلز فوری طور پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ سورج کی روشنی وٹامن ڈی کے لیے ضروری ہے، اور چکنائیاں بھی متوازن غذا کا اہم حصہ ہیں۔ اصل پیغام یہ ہے کہ تمام چکنائیاں جسم میں ایک جیسا رویہ اختیار نہیں کرتیں۔ ان کا اثر اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ جسم کن حالات سے گزر رہا ہے، جیسے دھوپ، ماحول یا طرزِ زندگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جہاں لوگ زیادہ وقت دھوپ میں گزارتے ہیں اور ساتھ ہی پروسیسڈ فوڈ بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں، وہاں یہ امتزاج صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوراک کے انتخاب پر دوبارہ غور کرنا ضروری ہے۔ قدرتی اور کم پروسیسڈ غذائیں، اور متوازن چکنائیاں، شاید جسم کو بیرونی خطرات سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد دے سکیں۔

یہ تحقیق ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا ہماری روزمرہ خوراک اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ ہمارا جسم سورج جیسی قدرتی چیزوں کو فائدہ سمجھے گا یا نقصان؟ اگر ایسا ہے تو پھر صحت مند زندگی کے لیے صرف دھوپ سے بچاؤ یا سن اسکرین کافی نہیں، بلکہ پلیٹ میں موجود کھانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

آخرکار، یہ مطالعہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ صرف ہماری توانائی نہیں بنتا بلکہ ہمارے جسم کے ردعمل کو بھی تشکیل دیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ روشنی بھی جو روز ہمیں چھوتی ہے، اس کا اثر ہماری خوراک کے ذریعے بدل سکتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.