ایک انجیکشن، نئی ریڑھ کی ہڈی: کمر درد کے علاج میں انقلابی دریافت

ایک انجیکشن، نئی ریڑھ کی ہڈی: کمر درد کے علاج میں انقلابی دریافت

طبی دنیا میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جو کمر درد اور ریڑھ کی ہڈی کے مسائل سے دوچار لاکھوں لوگوں کے لیے امید کی نئی کرن بن سکتی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے محققین نے ایک ایسا انجیکشن تیار کیا ہے جو خراب ہو چکے اسپائنل ڈسکس کو دوبارہ زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کوئی عام دوا نہیں بلکہ ایک خاص قسم کا جیل ہے جو جسم کے اندر جا کر قدرتی طریقے سے اپنا کام کرتا ہے۔

ریڑھ کی ہڈی میں موجود ڈسکس دراصل نرم اور لچکدار کشن کی طرح ہوتی ہیں جو ہڈیوں کے درمیان جھٹکے برداشت کرتی ہیں اور حرکت کو ہموار بناتی ہیں۔ وقت گزرنے، چوٹ لگنے یا مسلسل دباؤ کی وجہ سے یہی ڈسکس خراب ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید درد، اکڑاؤ اور بعض اوقات چلنے پھرنے میں بھی مشکل پیش آتی ہے۔ اب تک اس مسئلے کا حل زیادہ تر سرجری، اسپائنل فیوژن یا ڈسک ری پلیسمنٹ تک محدود تھا، جن میں خطرات بھی ہوتے ہیں اور مکمل صحت یابی کی گارنٹی بھی نہیں۔

یہ نیا انجیکشن جیل اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ صحت مند ڈسک کی قدرتی ساخت کی نقل کرتا ہے۔ جب اسے خراب ڈسک میں انجیکٹ کیا جاتا ہے تو یہ خالی جگہ کو بھر دیتا ہے، اردگرد کے ٹشوز کے ساتھ مضبوطی سے جڑ جاتا ہے اور ڈسک میں دوبارہ نمی پیدا کرتا ہے۔ نمی کی یہ واپسی ڈسک کو وہی لچک اور طاقت دیتی ہے جو صحت مند حالت میں ہوتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ جیل ڈسک کو نئی زندگی دیتا ہے۔


Read This Also

جب سڑک مڑ گئی مگر فطرت بچا لی گئی: آئس لینڈ کا حیران کن فیصلہ

اس جیل کی ایک بڑی خوبی اس کی لچک ہے۔ یہ سخت یا جامد نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی کی حرکت کے ساتھ قدرتی انداز میں حرکت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو نہ صرف سہارا ملتا ہے بلکہ آزادی سے حرکت کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہتی ہے۔ یہی بات اسے روایتی علاج سے بالکل مختلف بناتی ہے۔

محققین نے اس ٹیکنالوجی کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ یہ جسم کے لیے اجنبی محسوس نہ ہو۔ انجیکشن کے بعد یہ جیل جسم کے اندر قدرتی عمل کو متحرک کرتا ہے، جس سے نئے ٹشوز بننے لگتے ہیں اور سوزش میں کمی آتی ہے۔ ابتدائی تجربات میں دیکھا گیا کہ جن ڈسکس پر یہ جیل استعمال کیا گیا، وہ چند ہفتوں میں دوبارہ مکمل طور پر فعال ہو گئیں۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ وقت گزرنے کے باوجود ان میں دوبارہ خرابی کے آثار نظر نہیں آئے۔

ابھی تک ہونے والے تجربات جانوروں پر کیے گئے ہیں، لیکن نتائج اتنے مثبت ہیں کہ سائنس دان انسانی آزمائشوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگر یہ ٹیکنالوجی انسانوں میں بھی اسی طرح کامیاب رہی تو یہ ریڑھ کی ہڈی کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔

اس علاج کی ایک اور بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ کم سے کم مداخلت والا طریقہ ہے۔ ایک ہی انجیکشن ممکنہ طور پر بڑی سرجری کی ضرورت ختم کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کم درد، کم خطرہ اور تیز تر بحالی۔ مریض شاید اسی دن چل پھر سکے اور لمبے آرام یا مہینوں کی بحالی کی ضرورت نہ پڑے۔

دنیا بھر میں اندازاً پچاس کروڑ سے زیادہ لوگ کمر درد کا شکار ہیں، اور یہ معذوری کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ موجودہ علاج زیادہ تر درد کو وقتی طور پر دبانے پر توجہ دیتے ہیں، اصل مسئلے کو ٹھیک نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ مریض برسوں دوائیں لیتے رہتے ہیں یا بار بار علاج کرواتے ہیں۔ یہ نیا جیل علاج اس سوچ کو بدل سکتا ہے کیونکہ یہ علامات نہیں بلکہ جڑ سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اگر یہ ٹیکنالوجی عام استعمال میں آ گئی تو نہ صرف مریضوں کی زندگی آسان ہو جائے گی بلکہ صحت کے نظام پر پڑنے والا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔ مہنگی سرجریز، طویل اسپتال قیام اور پیچیدہ بحالی کے مراحل شاید ماضی کی بات بن جائیں۔

یوں ایک چھوٹا سا انجیکشن ریڑھ کی ہڈی کے علاج میں ایک بہت بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے لیے درد سے نجات اور بہتر زندگی کی امید ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.