انسانی جسم کا نیا راز: دریافت ہونے والا نیا عضو جو سب کچھ بدل سکتا ہے

انسانی جسم کا نیا راز: دریافت ہونے والا نیا عضو جو سب کچھ بدل سکتا ہے

سائنس کی دنیا میں حالیہ برسوں میں ایک ایسی دریافت سامنے آئی ہے جس نے انسانی جسم کے بارے میں ہماری سمجھ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ محققین نے انسانی جسم میں ایک ایسے نئے عضو کی نشاندہی کی ہے جسے پہلے کبھی باقاعدہ طور پر عضو تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اس نئے دریافت شدہ عضو کو انٹرسٹیشیم کہا جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ عضو کوئی نئی چیز نہیں بلکہ برسوں سے ہمارے جسم میں موجود تھا، مگر ہماری نظروں سے اوجھل رہا۔

انٹرسٹیشیم دراصل سیال سے بھری ہوئی باریک جگہوں کا ایک جال ہے جو پورے جسم میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ جلد کے نیچے، شریانوں کے اردگرد، پٹھوں کے درمیان، نظامِ ہاضمہ کے اطراف اور حتیٰ کہ پھیپھڑوں کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ پہلے ان جگہوں کو سخت کنیکٹو ٹشو سمجھا جاتا تھا، مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہ ایک متحرک اور فعال نظام ہے جو جسم کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

اس عضو کا ایک اہم کردار جسم کو جھٹکوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ چونکہ یہ سیال سے بھرا ہوتا ہے، اس لیے یہ ایک قدرتی شاک ایبزاربر کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم چلتے ہیں، دوڑتے ہیں یا کوئی حرکت کرتے ہیں تو جسم کے اندر پیدا ہونے والا دباؤ اس سیال کے ذریعے متوازن ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ نظام جسم کے مختلف حصوں کے درمیان معلومات اور کیمیائی سگنلز کی ترسیل میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انٹرسٹیشیم کی سب سے منفرد بات اس کی ساخت ہے۔ یہ کوئی سخت یا جامد عضو نہیں بلکہ ایک لچکدار اور بہتا ہوا نظام ہے، جس میں جیل جیسا سیال موجود ہوتا ہے۔ یہی سیال خلیات کو حرکت کی آزادی دیتا ہے اور ممکنہ طور پر انفیکشن یا کینسر جیسے امراض کے پھیلاؤ میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عضو کی دریافت نے طبی تحقیق میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنے سالوں تک یہ عضو ہماری نظروں سے کیسے چھپا رہا؟ اس کی وجہ روایتی طریقۂ تحقیق ہے۔ ماضی میں جب ٹشوز کو مائیکروسکوپ کے لیے تیار کیا جاتا تھا تو انہیں خشک کر دیا جاتا تھا۔ اس عمل میں سیال سے بھری یہ جگہیں دب جاتیں اور غائب ہو جاتیں، جس سے وہ عام کنیکٹو ٹشو کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔ یوں انٹرسٹیشیم کو کبھی الگ شناخت نہیں مل سکی۔

جدید امیجنگ ٹیکنالوجی نے یہ منظر بدل دیا۔ کنفوکل لیزر اینڈومائیکروسکوپی جیسے جدید آلات کی مدد سے سائنس دانوں نے زندہ ٹشوز کو حقیقی وقت میں دیکھا۔ اسی دوران انہیں یہ سیال سے بھرا ہوا جال نظر آیا، جو پہلے کبھی اس انداز میں مشاہدے میں نہیں آیا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب محققین کو احساس ہوا کہ وہ کسی بالکل نئے عضو کو دیکھ رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ انٹرسٹیشیم کا کردار صرف ساختی سہارا فراہم کرنے تک محدود نہیں۔ یہ مدافعتی نظام، سوزش، بڑھاپے کے عمل اور جسم میں سیال کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کچھ سائنس دانوں کے مطابق یہ عضو اس بات کی وضاحت بھی کر سکتا ہے کہ بعض بیماریاں جسم کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک کیسے پھیلتی ہیں۔

کینسر کی تحقیق کے حوالے سے بھی انٹرسٹیشیم خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چونکہ یہ ایک کھلا اور سیال سے بھرا ہوا راستہ فراہم کرتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ کینسر کے خلیات اسی راستے سے جسم میں سفر کرتے ہوں۔ اگر یہ بات درست ثابت ہو گئی تو کینسر کے علاج اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقوں میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

اسی طرح، دواؤں کی ترسیل کے نئے راستے بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر سائنس دان اس عضو کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو ممکن ہے کہ ادویات کو براہِ راست انٹرسٹیشیم کے ذریعے جسم کے مخصوص حصوں تک پہنچایا جا سکے، جس سے علاج زیادہ مؤثر اور کم مضر اثرات والا ہو سکتا ہے۔

یہ دریافت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانی جسم کے بارے میں ہمارا علم ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ہم صدیوں سے جسم کی نقشہ سازی کرتے آ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود قدرت نے کچھ راز اب بھی ہمارے لیے چھپا رکھے ہیں۔ انٹرسٹیشیم شاید حالیہ دہائی کی سب سے اہم حیاتیاتی دریافتوں میں سے ایک ثابت ہو۔

ایک نیا عضو، نئی سوچ اور طب کی دنیا میں ایک نیا باب۔ یہ دریافت نہ صرف سائنس دانوں کے لیے بلکہ عام انسان کے لیے بھی حیرت اور تجسس کا باعث ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.