حالیہ سائنسی تحقیق نے خواتین کی صحت اور طویل عمر سے متعلق ایک دلچسپ پہلو کو اجاگر کیا ہے، جس نے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق وہ خواتین جنہوں نے اپنا آخری بچہ 33 برس کی عمر کے بعد پیدا کیا، ان میں 95 برس یا اس سے زیادہ عمر پانے کے امکانات اُن خواتین کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ پائے گئے، جنہوں نے نسبتاً کم عمر میں بچوں کی پیدائش مکمل کر لی تھی۔ بظاہر یہ بات حیران کن محسوس ہوتی ہے، مگر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تعلق کے پیچھے مضبوط حیاتیاتی وجوہات موجود ہیں۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ وہ خواتین جو قدرتی طور پر عمر کے نسبتاً آخری حصے میں حاملہ ہو سکتی ہیں، ان میں تولیدی نظام کی عمر رسیدگی کا عمل سست ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا تولیدی نظام دیر سے کمزور ہوتا ہے، اسی طرح جسم کے دیگر نظام بھی نسبتاً آہستہ آہستہ عمر رسیدگی کی طرف بڑھتے ہیں۔ خلیات کی صحت، ڈی این اے کی مرمت کی صلاحیت، اور ہارمونز کا توازن زیادہ عرصے تک برقرار رہتا ہے، جو مجموعی صحت اور جسمانی مضبوطی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ خصوصیات زیادہ تر جینیاتی عوامل سے جڑی ہوتی ہیں۔ بعض خواتین میں ایسے جینز پائے جاتے ہیں جو نہ صرف زرخیزی کی مدت کو طول دیتے ہیں بلکہ جسم کو عمر کے اثرات سے بچانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یہ جینز خلیات کی مرمت، بافتوں کی حفاظت، اور عمر کے ساتھ آنے والی کمزوریوں کے خلاف قدرتی دفاع فراہم کرتے ہیں۔ یہی حیاتیاتی طاقتیں بڑھتی عمر میں بھی جسم کو بہتر طریقے سے کام کرنے کے قابل بناتی ہیں۔
سائنس دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس تحقیق کا مقصد یہ تاثر دینا ہرگز نہیں کہ طویل عمر کے لیے دیر سے حاملہ ہونا ضروری ہے یا اس کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عمر کے ساتھ حمل کے طبی خطرات بڑھ جاتے ہیں، جن میں ماں اور بچے دونوں کے لیے پیچیدگیاں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس تحقیق کا اصل مقصد یہ سمجھنا ہے کہ تولیدی صحت دراصل جسم کی مجموعی عمر رسیدگی کے عمل کی ایک جھلک فراہم کرتی ہے۔
تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ خواتین جو نسبتاً دیر سے ماں بنتی ہیں، عموماً سماجی طور پر زیادہ متحرک ہوتی ہیں۔ وہ مضبوط خاندانی اور سماجی تعلقات قائم رکھتی ہیں، جسمانی سرگرمی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھتی ہیں، اور مستقبل کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ یہ تمام عوامل پہلے ہی طویل اور صحت مند زندگی سے جڑے ہوئے سمجھے جاتے ہیں۔ یوں حیاتیاتی عوامل کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی کے یہ پہلو بھی مجموعی عمر پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق یہ تحقیق ایک بڑے سائنسی تصور کو تقویت دیتی ہے، اور وہ یہ کہ عمر کا طویل ہونا صرف صحت مند عادات یا خوش قسمت حالات کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیاد اکثر انسانی جسم کی اندرونی حیاتیات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہمارا جسم کس رفتار سے بوڑھا ہوتا ہے، اس کا تعین بہت حد تک ہمارے جینز اور خلیاتی نظام کرتے ہیں، جبکہ طرزِ زندگی اس عمل کو تیز یا سست کر سکتا ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ 33 برس کے بعد بچے کی پیدائش خود لمبی عمر کی وجہ نہیں بنتی۔ بلکہ یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ ایسی خواتین کے جسم میں وہ حیاتیاتی خصوصیات موجود ہیں جو انہیں دیر تک صحت مند رکھتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، دیر سے ماں بننا ایک سبب نہیں بلکہ ایک اشارہ ہے، جو بہتر جینیاتی ساخت اور سست عمر رسیدگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس تحقیق نے خواتین کی صحت سے متعلق سوچ میں ایک نیا زاویہ متعارف کرایا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تولیدی تاریخ کو محض خاندانی منصوبہ بندی کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ یہ مجموعی صحت اور مستقبل کی جسمانی حالت کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں ایسی تحقیقات ڈاکٹروں کو اس بات میں مدد دے سکتی ہیں کہ وہ خواتین کی عمر رسیدگی کے عمل کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور صحت مند بڑھاپے کے لیے مزید مؤثر حکمتِ عملی تیار کر سکیں۔
مختصر یہ کہ یہ سائنسی دریافت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ طویل عمر کا راز صرف بیرونی عادات میں نہیں بلکہ ہمارے جسم کے اندرونی نظام میں بھی چھپا ہوتا ہے۔ دیر سے ماں بننا لمبی زندگی کی ضمانت نہیں، مگر یہ اس بات کی نشانی ضرور ہو سکتا ہے کہ جسم عمر کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
