سمندروں میں پھیلتی پلاسٹک کی آلودگی طویل عرصے سے ایک عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے، مگر اب اس کے خلاف عملی اور امید افزا پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔ ہالینڈ کے ماہر انجینئرز کی تیار کردہ ایک غیر معمولی ایجاد نے سمندری صفائی کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا پلاسٹک جمع کرنے والا نظام، جسے بعض لوگ علامتی طور پر “سمندری ویکیوم کلینر” بھی کہتے ہیں، اب بحرالکاہل میں فعال ہو چکا ہے اور آلودگی کے شکار سمندری علاقوں سے کچرا ہٹانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر گریٹ پیسیفک گاربیج پیچ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے اور خطرناک سمندری کچرے کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے۔ یہ علاقہ برسوں سے پلاسٹک کے ذرات، ٹوٹے ہوئے جالوں اور انسانی فضلے کا مرکز بنا ہوا ہے، جس نے سمندری حیات کو شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ اس نئے نظام کا مقصد صرف کچرا ہٹانا نہیں، بلکہ سمندری ماحولیاتی نظام کو دوبارہ سانس لینے کا موقع دینا بھی ہے۔
اس جدید ڈیوائس کا طریقہ کار روایتی مشینوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کسی طاقتور موٹر یا سکشن سسٹم پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ قدرتی سمندری لہروں اور بہاؤ کو استعمال کرتی ہے۔ لمبے یو (U) کی شکل کے تیرتے ہوئے حصے سمندر کی سطح پر اس طرح نصب کیے جاتے ہیں کہ پلاسٹک کا کچرا آہستہ آہستہ ان کی طرف جمع ہوتا جائے۔ چونکہ یہ نظام سطح پر تیرتا رہتا ہے، اس لیے مچھلیاں اور دیگر آبی جاندار اس کے نیچے سے باآسانی گزر سکتے ہیں، اور ان کی زندگی متاثر نہیں ہوتی۔
یہی پہلو اس ایجاد کو خاص بناتا ہے۔ عام طور پر سمندری صفائی کے منصوبوں پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ آبی حیات کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، مگر اس نظام میں یہ خدشہ کم سے کم کر دیا گیا ہے۔ پلاسٹک اور دیگر فضلہ سطح پر پھنس جاتا ہے، جبکہ سمندری جانور اپنی قدرتی رفتار سے آزادانہ حرکت کرتے رہتے ہیں۔ جب کافی مقدار میں کچرا جمع ہو جاتا ہے تو اسے نکال کر ساحل تک منتقل کیا جاتا ہے، جہاں اسے ری سائیکل کر کے دوبارہ قابلِ استعمال مواد میں بدلا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک اور بڑی خوبی اس کا حجم اور پائیداری ہے۔ یہ نظام سینکڑوں میٹر تک پھیلا ہوا ہوتا ہے اور اسے چلانے کے لیے کسی روایتی ایندھن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سمندری لہریں اور قابلِ تجدید توانائی ہی اس کی طاقت ہیں۔ یہ نہ صرف بڑے پلاسٹک کے ٹکڑوں کو بلکہ مائیکرو پلاسٹکس اور پرانے ماہی گیری کے جالوں کو بھی جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو سمندری جانوروں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔
ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس نظام نے اب تک دسیوں ہزار کلوگرام پلاسٹک سمندر سے نکال لیا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ سمندری کچھوؤں، پرندوں، مچھلیوں اور وہیلز کو پہنچ رہا ہے، جو اکثر پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں یا اس میں پھنس کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صاف پانی سمندری پودوں کی افزائش میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے پورا ماحولیاتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع میں بہتری آتی ہے۔
یہ منصوبہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اگر انجینئرنگ، جدت اور ماحولیاتی ذمہ داری کو یکجا کر دیا جائے تو بڑے مسائل کا حل ممکن ہے۔ اگرچہ سمندر سے پلاسٹک نکالنا اکیلا مکمل حل نہیں، کیونکہ اصل مسئلہ پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال اور غلط تلفی کا ہے، مگر ایسے منصوبے ماضی کی دہائیوں میں ہونے والے نقصان کی تلافی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس ایجاد کی کامیابی دنیا بھر کے سائنس دانوں، پالیسی سازوں اور نوجوانوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ ماحول کی حفاظت محض نعروں سے ممکن نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے ہی فرق پڑتا ہے۔ اس طرح کے منصوبے نہ صرف موجودہ آلودگی کو کم کرتے ہیں بلکہ مستقبل میں زیادہ پائیدار اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز کی راہ بھی ہموار کرتے ہیں۔
مختصر یہ کہ سمندر میں تیرتا یہ عظیم نظام انسانی تخلیقی صلاحیت اور قدرت کے احترام کا حسین امتزاج ہے۔ یہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر ارادہ مضبوط ہو اور سمت درست ہو، تو انسان اپنے ہی پیدا کیے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور زمین کے زخمی نظام کو دوبارہ متوازن کرنے کی امید ابھی زندہ ہے۔
