فضا سے کاربن کا خاتمہ: آئس لینڈ نے ماحولیاتی جنگ میں تاریخ رقم کر دی


آئس لینڈ نے ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا ڈائریکٹ ایئر کیپچر کاربن ریموول پلانٹ باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے۔ اس منصوبے کو ماحولیاتی سائنس کی دنیا میں ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ صرف مستقبل میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے تک محدود نہیں بلکہ فضا میں پہلے سے موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو براہِ راست نکال کر ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ جدید پلانٹ ایک منفرد اور سائنسی طور پر مضبوط طریقہ کار پر کام کرتا ہے۔ اس میں طاقتور پنکھے استعمال کیے جاتے ہیں جو اردگرد کی فضا کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خصوصی فلٹرز کے ذریعے الگ کیا جاتا ہے، جو اس گیس کو باقی اجزا سے جدا کر لیتے ہیں۔ جب یہ گیس جمع ہو جاتی ہے تو اسے پانی میں حل کیا جاتا ہے، جس کے بعد اس آمیزے کو زمین کی گہرائی میں موجود بیسالٹ چٹانوں میں انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔

بیسالٹ چٹانیں اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ جب کاربن ڈائی آکسائیڈ ملا پانی ان چٹانوں کے اندر جاتا ہے تو قدرتی کیمیائی عمل کے ذریعے یہ آہستہ آہستہ پتھر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کاربن نہ صرف فضا سے نکل جاتا ہے بلکہ ہزاروں سال تک زمین کے اندر محفوظ بھی رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کاربن کو محفوظ کرنے کے سب سے پائیدار اور محفوظ طریقوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں دوبارہ فضا میں شامل ہونے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

اس منصوبے کی سب سے بڑی خاص بات اس کا حجم ہے۔ ماضی میں کاربن نکالنے کے لیے بنائے گئے پلانٹس محدود پیمانے پر کام کرتے تھے، مگر آئس لینڈ کا یہ نیا پلانٹ ہر سال دسیوں ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگرچہ یہ مقدار عالمی سطح پر خارج ہونے والے کاربن کے مقابلے میں اب بھی کم ہے، لیکن سائنس دانوں کے نزدیک یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے، کیونکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ بڑے پیمانے پر کاربن ریموول اب محض ایک خیال نہیں رہا بلکہ عملی حقیقت بن چکا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے صرف اخراج میں کمی کافی نہیں ہوگی۔ صنعتی دور کے آغاز سے اب تک فضا میں اتنی زیادہ کاربن جمع ہو چکی ہے کہ اس کے اثرات دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ اسی لیے اب توجہ اس بات پر بھی دی جا رہی ہے کہ فضا میں موجود اضافی کاربن کو کس طرح واپس نکالا جائے۔ آئس لینڈ کا یہ منصوبہ اسی سوچ کا عملی مظہر ہے۔

سائنس دان یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ یہ پلانٹ اکیلا موسمیاتی بحران کا حل نہیں۔ قابلِ تجدید توانائی، جنگلات کا تحفظ، اور صنعتی اخراج میں کمی جیسے اقدامات اب بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ تاہم، کاربن ریموول ٹیکنالوجی ان تمام کوششوں کو مکمل کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ ان شعبوں میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے جہاں اخراج کو مکمل طور پر ختم کرنا فی الحال ممکن نہیں، جیسے ہوابازی اور بھاری صنعتیں۔

اس منصوبے کی کامیابی ایک اور اہم پیغام بھی دیتی ہے، اور وہ یہ کہ موسمیاتی وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کا وقت آ چکا ہے۔ برسوں سے عالمی کانفرنسوں میں ماحولیاتی تحفظ پر بات تو ہوتی رہی، مگر ایسے ٹھوس منصوبے کم ہی دیکھنے میں آئے جو براہِ راست فضا سے کاربن نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ آئس لینڈ کا یہ پلانٹ اس خلا کو پُر کرتا نظر آتا ہے۔

یہ پیش رفت ٹیکنالوجی اور فطرت کے درمیان ایک نئے توازن کی امید بھی دلاتی ہے۔ اگر جدید سائنسی حل کو درست پالیسیوں اور عالمی تعاون کے ساتھ جوڑا جائے تو زمین کے ماحولیاتی نظام کو دوبارہ متوازن کرنا ناممکن نہیں۔ آئس لینڈ کا یہ قدم دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی کو ماحول کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ دنیا کے سب سے بڑے ڈائریکٹ ایئر کیپچر پلانٹ کا آغاز اس بات کی علامت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ اب نظری بحث سے نکل کر عملی میدان میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف سائنسی ترقی کا ثبوت ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور محفوظ زمین کی امید بھی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.