بغیر تار کے بجلی: فن لینڈ کا تجربہ جو مستقبل بدل دے گ

بغیر تار کے بجلی: فن لینڈ کا تجربہ جو مستقبل بدل دے گ

ٹیکنالوجی کی دنیا میں فن لینڈ نے ایک ایسی کامیابی حاصل کر لی ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف سائنس فکشن فلموں کا حصہ سمجھی جاتی تھی۔ فن لینڈ کے سائنس دانوں نے کامیابی کے ساتھ بجلی کو ہوا کے ذریعے، بغیر کسی تار یا کیبل کے، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے دکھا دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس سمت ایک بڑا قدم ہے جہاں مستقبل میں بجلی کے تار، چارجرز اور پلگ شاید ماضی کی چیز بن جائیں۔

یہ تجربہ ایک خاص سائنسی طریقے سے کیا گیا جسے ریزوننٹ انڈکٹیو کپلنگ کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں دو یا زیادہ کوائلز کو ایک ہی فریکوئنسی پر سیٹ کیا جاتا ہے۔ جب ایک کوائل میں بجلی کا بہاؤ پیدا ہوتا ہے تو وہ ہوا کے ذریعے دوسری کوائل تک توانائی منتقل کر دیتی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ریڈیو اسٹیشن مخصوص فریکوئنسی پر نشریات کرتا ہے اور ریڈیو اسی فریکوئنسی پر سگنل پکڑ لیتا ہے۔

عام وائرلیس چارجنگ پیڈز میں فون یا ڈیوائس کو بالکل قریب رکھنا ضروری ہوتا ہے، اور ذرا سا فاصلہ بڑھنے پر چارجنگ رک جاتی ہے۔ لیکن فن لینڈ میں تیار کیے گئے اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زیادہ فاصلے پر بھی مؤثر انداز میں کام کرتا ہے، اور توانائی کا ضیاع بھی نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عملی زندگی میں استعمال کے قابل سمجھا جا رہا ہے۔

اس تجربے میں محققین نے ثابت کیا کہ بجلی بغیر کسی جسمانی رابطے کے محفوظ اور مسلسل انداز میں مختلف آلات تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ نہ کوئی تار، نہ کوئی پلگ، اور نہ ہی کسی قسم کا براہِ راست کنکشن۔ یہ تصور سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، عملی طور پر اتنا ہی انقلابی ہے۔

اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا جائے تو اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ تصور کریں کہ گھر، فیکٹریاں، الیکٹرک گاڑیاں یا حتیٰ کہ فضا میں اڑنے والے ڈرونز بھی بغیر کسی تار کے توانائی حاصل کر رہے ہوں۔ نہ سڑکوں پر بجلی کے کھمبے ہوں، نہ دیواروں میں الجھی ہوئی تاریں، اور نہ ہی ہر جگہ چارجرز کا ڈھیر۔

یہ کامیابی دراصل ایک طویل سائنسی سفر کا نتیجہ ہے۔ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے مشہور موجد نیکولا ٹیسلا نے بغیر تار کے بجلی منتقل کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ اس وقت یہ خیال بہت آگے کا سمجھا جاتا تھا، لیکن جدید ٹیکنالوجی نے اب اس خواب کو حقیقت کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ آج کے نظام زیادہ درست، محفوظ اور بڑے پیمانے پر قابلِ استعمال ہیں۔

فن لینڈ کے انجینئرز کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی توانائی کی ترسیل کے موجودہ طریقوں کو مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں بجلی کی تاریں بچھانا مشکل یا ناممکن ہوتا ہے، جیسے دور دراز دیہات، پہاڑی علاقے یا آفات سے متاثرہ خطے۔ وہاں یہ نظام فوری طور پر بجلی فراہم کرنے کا ایک مؤثر حل بن سکتا ہے۔

شہری علاقوں میں بھی اس کے فوائد کم نہیں۔ پرانے شہروں میں نئی وائرنگ کرنا ایک مشکل اور مہنگا عمل ہوتا ہے۔ وائرلیس پاور ٹرانسمیشن کے ذریعے اس مسئلے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، چونکہ چارجرز اور اڈاپٹرز کی ضرورت کم ہو جائے گی، اس لیے الیکٹرانک کچرے میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے، جو آج ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور عام صارفین تک پہنچنے میں چند سال لگ سکتے ہیں۔ اس کے لیے مزید تجربات، بہتری اور حفاظتی معیارات پر کام جاری ہے۔ تاہم یہ حقیقت کہ بجلی کو ہوا کے ذریعے کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ تصور قابلِ عمل اور مستقبل میں قابلِ توسیع ہے۔

جس طرح وائی فائی نے انٹرنیٹ کے استعمال کا انداز بدل دیا، اسی طرح وائرلیس بجلی بھی ہماری روزمرہ زندگی میں ایک نئی سہولت بن سکتی ہے۔ شاید آنے والے وقت میں ہم دیوار میں پلگ لگانے کے تصور کو اتنا ہی پرانا سمجھیں جتنا آج ڈائل اپ انٹرنیٹ کو سمجھا جاتا ہے۔

یہ پیش رفت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ بجلی کا مستقبل آہستہ آہستہ ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں توانائی آزاد ہوگی، بغیر تار کے، اور ہر جگہ دستیاب۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.