طبی تاریخ میں ایک ایسی پیش رفت سامنے آ رہی ہے جسے اگر مکمل کامیابی مل گئی تو یہ کینسر کے علاج کا پورا تصور بدل سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسی ویکسین تیار کی ہے جسے “یونیورسل کینسر ویکسین” کہا جا رہا ہے۔ اس ویکسین کا مقصد کسی ایک خاص قسم کے کینسر کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ جسم کے مدافعتی نظام کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ تقریباً ہر قسم کے کینسر کو پہچان سکے اور خود ہی اسے ختم کر دے۔
روایتی کینسر علاج عموماً مخصوص ٹیومر یا کینسر کی ایک قسم پر توجہ دیتا ہے۔ کیموتھراپی، ریڈی ایشن یا ٹارگٹڈ ادویات اکثر کینسر کے ساتھ ساتھ صحت مند خلیوں کو بھی نقصان پہنچا دیتی ہیں۔ اسی وجہ سے مریض کو شدید سائیڈ ایفیکٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ نئی ویکسین ایک بالکل مختلف حکمتِ عملی اپناتی ہے۔ یہ جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو تربیت دیتی ہے کہ وہ کینسر کے خلیوں میں موجود مشترکہ حیاتیاتی نشانات کو پہچان سکے۔
یہ ویکسین جدید ایم آر این اے ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جو حالیہ برسوں میں کووڈ ویکسینز کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ اس ٹیکنالوجی میں جسم کو براہِ راست دوا دینے کے بجائے مخصوص ہدایات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ہدایات خلیوں کو بتاتی ہیں کہ کن نشانات کو خطرہ سمجھنا ہے اور کن خلیوں پر حملہ کرنا ہے۔ یوں مدافعتی نظام خود فیصلہ کرتا ہے کہ دشمن کون ہے۔
ابتدائی آزمائشوں میں اس ویکسین نے خاص طور پر ٹی سیلز کو متحرک کرنے میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ ٹی سیلز جسم کا وہ حصہ ہیں جو بیماریوں سے لڑنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ یہ ٹی سیلز کینسر زدہ خلیوں کو مؤثر طریقے سے تلاش کر کے ختم کرنے لگے، جبکہ صحت مند خلیے محفوظ رہے۔ یہی وہ مسئلہ تھا جس نے برسوں سے کینسر کے علاج کو پیچیدہ بنا رکھا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ ویکسین پھیپھڑوں، چھاتی، لبلبے، دماغ، جلد اور بڑی آنت کے کینسر سمیت کئی اقسام پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ کیسز بھی، جہاں کینسر کافی حد تک پھیل چکا ہو یا کیموتھراپی اور ریڈی ایشن کے خلاف مزاحمت پیدا کر چکا ہو، اس ویکسین سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہی بات اسے غیر معمولی بناتی ہے۔
چونکہ یہ ویکسین مختلف کینسرز میں پائے جانے والے مشترکہ مالیکیولر خواص کو نشانہ بناتی ہے، اس لیے اسے ایک عالمگیر دفاعی نظام کہا جا رہا ہے۔ یہ ہر مریض کے لیے الگ دوا بنانے کے بجائے ایک بنیادی فریم ورک فراہم کرتی ہے، جسے ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے سے نہ صرف علاج زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے بلکہ وقت اور اخراجات میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس ویکسین کو صرف علاج کے لیے ہی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر بچاؤ کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد جن میں کینسر کا خطرہ زیادہ ہو، انہیں یہ ویکسین دی جا سکتی ہے تاکہ بیماری شروع ہونے سے پہلے ہی مدافعتی نظام تیار ہو جائے۔ یہ تصور آنکولوجی کے میدان میں ایک نئی سوچ کو جنم دیتا ہے۔
اگرچہ یہ ویکسین ابھی کلینیکل آزمائشوں کے مراحل میں ہے اور عام استعمال کے لیے دستیاب نہیں، لیکن ماہرین اسے ذاتی نوعیت کی اور حفاظتی آنکولوجی کی طرف ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد جو کینسر کے خوف یا اس کے علاج سے گزر رہے ہیں، ان کے لیے یہ تحقیق امید کی ایک مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ کینسر اب صرف ایک ناقابلِ شکست بیماری نہیں رہا۔ سائنس تیزی سے اس سمت بڑھ رہی ہے جہاں علاج کا مرکز بیماری نہیں بلکہ جسم کا اپنا دفاعی نظام ہوگا۔ اگر یہ ویکسین کامیاب ہو گئی تو ممکن ہے آنے والی نسلیں کینسر کو ایک قابلِ قابو بیماری کے طور پر دیکھیں۔
ایک ایسا مستقبل جہاں کینسر سے پاک زندگی ممکن ہو، اب محض سائنسی افسانہ نہیں رہا۔ یہ آہستہ آہستہ سائنسی حقیقت میں بدل رہا ہے۔
.png)