یہ تحریر ایک ذاتی کرب، سماجی رویّوں اور اندرونی جدوجہد کی کہانی ہے۔
میرا تعلق پنجاب، پاکستان کے ایک عام سے شہر سے ہے۔ میں ایک متوسط گھرانے میں پلی بڑھی۔ والد صاحب کی ایک چھوٹی سی جوتوں کی دکان تھی، جس سے گھر کا نظام بمشکل چلتا تھا۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، اس لیے کم عمری سے ہی ذمہ داری کا احساس دل میں بیٹھ گیا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ حالات بدلیں، گھر میں آسانی آئے، والدین کو سکون ملے۔
گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ایک قریبی عزیز نے بتایا کہ ایک بڑی ائیر لائن میں ائیر ہوسٹس کی چند اسامیاں خالی ہیں۔ میں نے زیادہ سوچے بغیر ہاں کر دی۔ گھر والوں نے بھی اجازت دے دی، شاید اس امید پر کہ بیٹی خودمختار ہو جائے گی اور مستقبل محفوظ ہو گا۔
نوکری کے ابتدائی دنوں میں ہی میری زندگی نے عجیب رخ اختیار کیا۔ ایک کریو ممبر نے مجھ سے قربت بڑھانا شروع کی۔ اس نے محبت کا اظہار کیا، شادی کے خواب دکھائے، مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ ابھی وقت درکار ہے۔ میں ناسمجھ تھی، جذبات میں بہہ گئی۔ ہم ساتھ سفر کرتے، ساتھ وقت گزارتے، اور میں یہ سمجھ بیٹھی کہ شاید یہی محبت ہے۔
وقت کے ساتھ میری آنکھیں کھلنے لگیں۔ مجھے احساس ہوا کہ میں اس کے لیے صرف وقتی دلچسپی ہوں۔ میں نے خود کو پیچھے کھینچنا چاہا، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ گھر میں میرے لیے رشتے دیکھے جانے لگے، مگر حقیقت یہ تھی کہ زیادہ تر پڑھے لکھے اور所谓 شریف خاندان ائیر ہوسٹس سے شادی کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔
آہستہ آہستہ مجھے لگنے لگا کہ معاشرہ مجھے میری نوکری کی بنیاد پر پرکھ رہا ہے، میرے کردار کی بنیاد پر نہیں۔ فلائٹس میں کچھ لوگ ٹپ کے ساتھ فون نمبر تھما دیتے، کچھ رابطے کی فرمائش کرتے۔ جب تجسس میں کبھی رابطہ ہوتا تو سامنے صرف خواہش، ہوس اور مطلب نکلتا۔ کسی کو میری ذات، میرے دکھ، میرے خواب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔
دل اندر سے ٹوٹنے لگا۔ روح بے چین رہنے لگی۔ اللہ نے عمرے کی سعادت عطا کی تو میں نے سب کچھ اس کے حوالے کر دیا۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ اب کسی کے لفظوں پر نہیں، صرف عمل پر یقین کروں گی۔ مگر افسوس، جن مردوں سے بھی بات ہوئی، انہوں نے مجھے ایک انسان نہیں بلکہ ایک جسم کے طور پر دیکھا۔
میں نے اپنے بہن بھائیوں کی شادیاں عزت اور وقار کے ساتھ کر دیں۔ اپنی شادی کا خیال کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔ پھر زندگی نے ایک اور غلط موڑ لیا۔ میں نے ایک شادی شدہ مرد پر بھروسا کر لیا، صرف اس امید پر کہ شاید وہ مجھے عزت دے سکے گا۔ اس نے نکاح کیا، چھ ماہ ساتھ رکھا، اور جیسے ہی میں نے ماں بننے کی خواہش کا اظہار کیا، اس نے طلاق دے دی۔
اس کے بعد زندگی بے معنی سی لگنے لگی۔ کچھ عرصہ چھٹی لی، خود سے سوال کیے، اپنی روح کو جھنجھوڑا۔ والدہ بار بار پوچھتیں کہ دوبارہ نوکری کب شروع کرو گی۔ گھر میں رہ کر بھی سکون نہ ملا، اس لیے دوبارہ کام پر لوٹ گئی۔
وقت گزرتا رہا، اور مجھے یوں محسوس ہوتا رہا جیسے یہ وقت مجھے کاٹ رہا ہو۔ میں نے کبھی بڑے گھروں، قیمتی گاڑیوں یا شاہانہ زندگی کے خواب نہیں دیکھے تھے۔ میری خواہش بس اتنی تھی کہ ایک سادہ، باعزت زندگی مل جائے، ایک اپنا گھر ہو، ایک اپنا انسان ہو۔
میں نے دنیا کے کئی ممالک دیکھے، بے شمار مواقع ملے، سینکڑوں بار تعلقات کی پیشکش ہوئی۔ مگر ائیر ہوسٹس بننا میرا شوق نہیں تھا، میری مجبوری تھی۔ میں اس کے علاوہ اور کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔
مکہ میں ایک پاکستانی بزنس مین نے نکاح کی پیشکش کی۔ میں نے سوچا، یہ شخص مکہ میں رہتا ہے، شاید اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ اس نے بار بار اصرار کیا، یقین دہانیاں کرائیں، اور آخرکار میں مان گئی۔ ہم ملے، بات ہوئی، مگر پھر اس نے وہی کیا جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ نکاح کے نام پر مکہ کی حرمت تک کا خیال نہ رکھا۔ بعد میں جب میں نے نکاح کی بات کی تو اس نے ٹال مٹول کی، اور پھر اچانک مجھے بلاک کر دیا۔
آج مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کس گناہ کی سزا کاٹ رہی ہوں۔ میں نے ہمیشہ شادی چاہی، بچے چاہے، ایک خاندان کا خواب دیکھا۔ مگر اب مجھ میں ہمت نہیں رہی کہ کسی اور پر اعتماد کر سکوں۔
ہمارا معاشرہ عورت کو آسانی سے بدنام کر دیتا ہے، مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ہر غلط رشتے میں ایک مرد بھی برابر کا شریک ہوتا ہے۔ عورت بدنام ہو جاتی ہے، مرد بچ نکلتا ہے۔
میں نے عبادتیں کیں، دعائیں مانگیں، توبہ کی، مگر شاید یہ سب ایک آزمائش ہے۔ آج بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ کسی مجبور، تنہا عورت کے جذبات سے کھیل کر وقتی لذت حاصل کرنے والے یہ یاد رکھیں، اس کی قیمت ایک دن ضرور ادا کرنی پڑتی ہے۔
عورت نکاح چاہتی ہے، تحفظ چاہتی ہے، مگر اکثر مرد ایک عورت پر ٹھہر نہیں پاتے۔
نوٹ: سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے، مگر افسوس، اکثریت ایسے ہی رویّوں سے بھری ہوئی ہے۔
ہمارا مقصد کسی کو برا کہنا نہیں، بلکہ معاشرے کی اصلاح ہے۔
اللہ ہر بیٹی کو محفوظ رکھے۔
.png)