کیا سونا اب نایاب نہیں رہا؟ ایک سائنسی خبر جس نے دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا


کیا سونا اب نایاب نہیں رہا؟ یہ سوال اس وقت عالمی سطح پر زیرِ بحث آ گیا جب چین سے یہ خبریں سامنے آئیں کہ سائنس دانوں نے لیبارٹری میں سونا بنانے کے امکانات پر تجربات کیے ہیں۔ اس خبر نے مالیاتی دنیا میں ایک ہلچل پیدا کر دی، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور محتاط تشریح کی متقاضی ہے۔

سب سے پہلے یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ یہاں کسی فیکٹری میں تیار ہونے والے سونے کی بات نہیں ہو رہی، نہ ہی ایسا سونا مارکیٹ میں آنے والا ہے جو قیمتوں کو فوری طور پر گرا دے۔ جو کچھ زیرِ بحث ہے وہ انتہائی سطح کی سائنسی تحقیق ہے، جسے عام زبان میں نیوکلیئر لیول تجربات کہا جا سکتا ہے۔ ان تجربات میں یہ نظریہ آزمایا جاتا ہے کہ کیا ایک عنصر کے ایٹمز کو خاص حالات میں تبدیل کر کے سونا بنایا جا سکتا ہے۔ یہ عمل نہایت مہنگا، سست اور عملی زندگی کے لیے فی الحال بے حد غیر مؤثر ہے۔

سائنس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ایٹمز کی ساخت بدلنا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی تجربہ گاہوں میں عناصر کو ایک شکل سے دوسری شکل میں بدلنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس عمل پر آنے والی لاگت، توانائی کی مقدار اور وقت، حاصل ہونے والے سونے کی قیمت سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر آج لیبارٹری میں ایک گرام سونا تیار بھی ہو جائے تو اس کی قیمت لاکھوں گنا زیادہ پڑے گی۔ اسی لیے اسے تجارتی سطح پر ممکن نہیں سمجھا جاتا۔

اس کے باوجود، اس خبر کی اہمیت حقیقت سے زیادہ اس کے اثرات میں چھپی ہے۔ سونے کی قدر ایک بنیادی تصور پر قائم ہے، اور وہ ہے نایابی۔ صدیوں سے انسان سونے کو قیمتی اس لیے سمجھتا آیا ہے کیونکہ یہ محدود مقدار میں پایا جاتا ہے، آسانی سے پیدا نہیں کیا جا سکتا، اور وقت کے ساتھ اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔ اگر کبھی یہ خیال بھی مضبوط ہو جائے کہ مستقبل میں سونا عام دھاتوں کی طرح بنایا جا سکتا ہے تو یہ تصور ہی مالیاتی نظام کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک، سرمایہ کار، اور بڑے مالیاتی ادارے سونے کو ایک محفوظ اثاثہ سمجھتے ہیں۔ جب معیشتیں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوں، جنگیں ہوں، یا کرنسیز دباؤ میں آئیں، تو سونا ایک پناہ گاہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی اعتماد کی بنیاد پر ممالک اپنے ذخائر میں سونا رکھتے ہیں اور سرمایہ کار اسے تحفظ کے طور پر خریدتے ہیں۔

اب تصور کریں کہ اگر اس اعتماد میں دراڑ پڑنے لگے، چاہے وہ دراڑ محض ایک نظریے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو۔ اگر مارکیٹ کو یہ احساس ہو جائے کہ آنے والے برسوں یا دہائیوں میں ٹیکنالوجی سونے کی نایابی کو کمزور کر سکتی ہے تو اس کا اثر فوری طور پر نظر آ سکتا ہے۔ سرمایہ کار خوف کے تحت فیصلے کرتے ہیں، اور مالیاتی منڈیاں اکثر مستقبل کے خدشات پر آج ہی ردِعمل ظاہر کر دیتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس بحث نے کرنسیز، سونے کی قیمت، اور عالمی مالی استحکام کے بارے میں سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر سونے کی حیثیت ایک محفوظ اثاثے کے طور پر کمزور پڑی تو اس کے اثرات دیگر سرمایہ کاری ذرائع پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ مرکزی بینکوں کے ذخائر، ہیج فنڈز کی حکمتِ عملی، اور عالمی مالی توازن سب متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم، موجودہ حقیقت یہ ہے کہ سونا آج بھی نایاب ہے، اس کی پیداوار محدود ہے، اور اس پر مکمل کنٹرول قائم ہے۔ لیبارٹری میں ہونے والے یہ تجربات ابھی عملی دنیا سے بہت دور ہیں۔ نہ تو یہ سونا مارکیٹ میں آ رہا ہے، نہ ہی اس سے کان کنی کی صنعت یا عالمی سپلائی چین کو کوئی فوری خطرہ لاحق ہے۔

اس کہانی سے ایک بڑی حقیقت ضرور سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ ٹیکنالوجی کو اثر ڈالنے کے لیے کل آنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات محض یہ خیال کہ مستقبل میں کچھ بدل سکتا ہے، آج کے فیصلوں کو بدل دیتا ہے۔ مارکیٹس صرف موجودہ حالات پر نہیں بلکہ امکانات، خدشات اور توقعات پر بھی چلتی ہیں۔

سونا شاید آج بھی وہی پرانا، بھروسے مند اثاثہ ہے، مگر یہ بحث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جو چیزیں کبھی ناقابلِ تصور تھیں، آج تحقیق کا موضوع بن چکی ہیں۔ اور بعض اوقات، حقیقت سے زیادہ طاقتور چیز وہ خوف ہوتا ہے جو ممکنہ مستقبل سے جڑا ہوتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.