سمندر کی گہرائی میں انٹرنیٹ | چین کا زیرِ آب ڈیٹا سینٹر انقلاب


دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے، اور اس ڈیجیٹل دنیا کی بنیاد ڈیٹا سینٹرز پر قائم ہے۔ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں انٹرنیٹ، کلاؤڈ سروسز، ویڈیوز، ایپس اور آن لائن معلومات محفوظ اور پراسیس کی جاتی ہیں۔ مگر جیسے جیسے ڈیٹا کی مقدار بڑھتی جا رہی ہے، ویسے ویسے روایتی زمینی ڈیٹا سینٹرز کے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ چین نے انہی مسائل کا ایک ایسا حل پیش کیا ہے جس نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ چین نے دنیا کا پہلا کمرشل زیرِ آب ڈیٹا سینٹر سمندر کی تہہ میں نصب کر دیا ہے۔

یہ زیرِ آب ڈیٹا سینٹر ایک بہت بڑے اور مضبوط بند کیبن پر مشتمل ہے جس کا وزن تقریباً 1,433 ٹن ہے۔ اس کیبن کو مکمل طور پر سیل کیا گیا ہے تاکہ سمندری پانی، نمی اور زنگ اس کے اندر موجود جدید سرورز کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ پورا نظام سمندر کی گہرائی میں اس طرح رکھا گیا ہے کہ وہ ماحول سے الگ رہتے ہوئے بھی قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا سکے۔

روایتی ڈیٹا سینٹرز کا سب سے بڑا مسئلہ ٹھنڈک یعنی کولنگ ہوتا ہے۔ ہزاروں سرورز مسلسل کام کرتے ہیں اور بہت زیادہ حرارت پیدا کرتے ہیں۔ اس حرارت کو قابو میں رکھنے کے لیے بے پناہ بجلی استعمال ہوتی ہے، جو نہ صرف مہنگی پڑتی ہے بلکہ ماحول پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ چین کے اس زیرِ آب ڈیٹا سینٹر میں اس مسئلے کا حل سمندر نے خود فراہم کر دیا ہے۔ سمندر کا پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا ہوتا ہے، اور اسی ٹھنڈک کو استعمال کرتے ہوئے سرورز کا درجہ حرارت قابو میں رکھا جاتا ہے۔

یہ نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ سمندری پانی براہِ راست سرورز سے نہیں ٹکراتا بلکہ ایک محفوظ طریقے سے حرارت کو باہر منتقل کرتا ہے۔ یوں نہ صرف بجلی کی بچت ہوتی ہے بلکہ کولنگ کے لیے الگ سے بڑے سسٹمز لگانے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طریقے سے ٹھنڈک پر آنے والی توانائی کی کھپت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

اس زیرِ آب ڈیٹا سینٹر کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے زمین پر بننے والے ڈیٹا سینٹرز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔ زمینی ڈیٹا سینٹر کے لیے زمین کی خریداری، عمارت کی تعمیر، بجلی اور کولنگ کے بڑے نظام لگانے جیسے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں، جو وقت اور پیسے دونوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، زیرِ آب کیبن کو تیار کر کے سمندر میں مخصوص مقام پر منتقل کیا جاتا ہے اور وہاں نصب کر دیا جاتا ہے۔

ماحولیات کے لحاظ سے بھی یہ منصوبہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ چونکہ یہ ڈیٹا سینٹر کم توانائی استعمال کرتا ہے، اس لیے اس کا کاربن فٹ پرنٹ بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ آج کے دور میں، جب موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے، ایسے حل مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے نہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اگر ڈیٹا سینٹرز کم بجلی میں زیادہ کام کرنے لگیں تو اس سے ماحول پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال بھی آتا ہے کہ کیا اس طرح کے منصوبے سمندری حیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے انجینئرز نے خاص احتیاط برتی ہے۔ یہ زیرِ آب کیبن مکمل طور پر بند ہے اور سمندری حیات کے ساتھ براہِ راست تعامل نہیں رکھتا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ترقی کرے، مگر قدرتی نظام متاثر نہ ہو۔

یہ منصوبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں انٹرنیٹ کا جسمانی ڈھانچہ ہماری نظروں سے اوجھل جگہوں پر منتقل ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے آنے والے برسوں میں ڈیٹا سینٹرز پہاڑوں، صحراؤں یا سمندروں کی گہرائیوں میں خاموشی سے کام کر رہے ہوں، اور ہم روزمرہ زندگی میں اس کا احساس بھی نہ کریں۔ مگر انہی پوشیدہ نظاموں پر ہماری ڈیجیٹل دنیا قائم ہوگی۔

چین کا یہ اقدام صرف ایک تکنیکی تجربہ نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو پائیدار بنانے کے لیے ہمیں روایتی راستوں سے ہٹ کر نئے حل تلاش کرنے ہوں گے۔ زیرِ آب ڈیٹا سینٹر اسی سوچ کا عملی نمونہ ہے، جو مستقبل میں دیگر ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ سمندر کی گہرائی میں نصب یہ ڈیٹا سینٹر ہمیں ایک ایسے دور کی جھلک دکھاتا ہے جہاں قدرت اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مددگار ہوں گے۔ انٹرنیٹ کا شور شاید ہمیں سنائی نہ دے، مگر اس کی بنیادیں خاموشی سے سمندر کی تہہ میں مضبوط ہوتی جا رہی ہوں گی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.