بندروں کا شہر اور ایک لڑکی: لوپبوری کی سڑکوں سے وائرل ہونے والی حقیقت

بندروں کا شہر اور ایک لڑکی: لوپبوری کی سڑکوں سے وائرل ہونے والی حقیقت

تھائی لینڈ کے شہر لوپبوری میں روزمرہ زندگی کچھ ایسی ہے جو دنیا کے بیشتر شہروں سے بالکل مختلف محسوس ہوتی ہے۔ یہاں سڑکوں، مندروں اور بازاروں میں ہزاروں بندر آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں۔ یہ بندر اس شہر کی پہچان بن چکے ہیں، لیکن مقامی لوگوں کے لیے یہی پہچان اکثر ایک مشکل امتحان بھی بن جاتی ہے۔ کھانا چھین لینا، تھیلے کھول دینا، اور راہ چلتے لوگوں کا پیچھا کرنا یہاں معمول کی بات ہے۔

ایسے ہی ایک عام دن میں ایک تصویر نے سوشل میڈیا پر سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ تصویر میں ایک لڑکی سکول یا گھر کی طرف جاتی دکھائی دے رہی تھی، لیکن اس کے ہاتھ میں ایک ایئر سافٹ کھلونا بندوق تھی۔ پہلی نظر میں یہ منظر حیران کن لگتا ہے، مگر جب اس کے پیچھے کی حقیقت سامنے آئی تو لوگوں کو اندازہ ہوا کہ یہ خوف نہیں بلکہ مجبوری کی کہانی ہے۔

اس لڑکی کا نام نوی (Noey) بتایا جاتا ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق نوی کا کہنا تھا کہ وہ بندروں کے ہاتھوں بار بار اپنے اسنیکس اور کھانا کھو دینے سے تنگ آ چکی تھی۔ روزانہ گھر سے نکلنا ایک چھوٹا سا معرکہ بن جاتا تھا۔ کبھی بندر تھیلا چھین لیتے، کبھی ہاتھ میں پکڑی چیز اچک کر بھاگ جاتے۔ ایسے میں نوی نے ایک سادہ مگر مؤثر حل سوچا۔ اس نے ایک ایئر سافٹ کھلونا بندوق اپنے ساتھ رکھنا شروع کر دی، تاکہ بندروں کو ڈرایا جا سکے اور وہ قریب نہ آئیں۔

یہ بات قابلِ غور ہے کہ نوی کا مقصد کسی جانور کو نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ ایئر سافٹ بندوق صرف ڈرانے کے لیے تھی، نہ کہ استعمال کے لیے۔ بندر عام طور پر ایسی چیزوں سے فاصلہ رکھتے ہیں جن سے انہیں خطرے کا احساس ہو۔ یہی وجہ تھی کہ نوی کا یہ طریقہ کسی حد تک کارآمد ثابت ہوا اور بندر اس کے قریب آنے سے کترانے لگے۔

یہ تصویر ایک وائلڈ لائف فوٹوگرافر نے لی، جو لوپبوری میں بندروں کی زندگی کو کیمرے میں محفوظ کر رہا تھا۔ جیسے ہی یہ تصویر آن لائن سامنے آئی، دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔ کچھ لوگوں نے اسے مزاحیہ سمجھا، کچھ نے حیرت کا اظہار کیا، جبکہ بہت سے افراد نے اسے مقامی لوگوں کی مجبوری اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی مثال قرار دیا۔

لوپبوری میں بندروں کے ساتھ رہنا کوئی نئی بات نہیں، مگر ان کی تعداد میں اضافہ مقامی آبادی کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ سیاحوں کی طرف سے دی جانے والی خوراک نے بندروں کو انسانوں پر زیادہ انحصار کرنا سکھا دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب بندر خود کھانا تلاش کرنے کے بجائے لوگوں سے چھیننے لگے ہیں۔ اس رویے نے شہری زندگی کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے۔

نوی کی کہانی دراصل ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے شہر کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہاں کے لوگ روزانہ نت نئے طریقے اپناتے ہیں تاکہ بندروں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح گزارا ہو سکے۔ کوئی اپنا کھانا چھپا کر رکھتا ہے، کوئی مخصوص راستے اختیار کرتا ہے، اور کوئی ہاتھ میں چھڑی یا چھتری رکھتا ہے۔ نوی کا ایئر سافٹ بندوق لے کر چلنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے نے دنیا بھر میں لوگوں کو لوپبوری کے اصل مسائل سے آگاہ کیا۔ سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی کہ آیا یہ بندروں کے تحفظ اور انسانی زندگی کے درمیان توازن کا مسئلہ ہے۔ کچھ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بندروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی جائے، جبکہ دیگر نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ بندروں کو بلا ضرورت کھانا نہ دیں۔

یہ تصویر محض ایک وائرل لمحہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کی جھلک ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ انسان اور جنگلی حیات کے درمیان جب فاصلہ کم ہو جائے تو زندگی کتنی پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ نوی نے کوئی غیر معمولی کام نہیں کیا، بلکہ اپنے حالات کے مطابق ایک عملی حل اختیار کیا۔

آخر میں، نوی کی یہ سادہ سی کوشش ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان مشکل حالات میں بھی راستہ نکال لیتا ہے۔ لوپبوری کے لوگ بندروں سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ ان کے ساتھ جینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی مزاح کے ساتھ، کبھی صبر کے ساتھ، اور کبھی ایک کھلونا بندوق کے سہارے۔ یہی انسانی فطرت ہے کہ وہ حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے، چاہے وہ حالات کتنے ہی غیر معمولی کیوں نہ ہوں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.