پلاسٹک کی بوتل، ایک جان: استنبول کا انوکھا حل جو ماحول اور جانوروں دونوں کو بچا رہا ہے

پلاسٹک کی بوتل، ایک جان: استنبول کا انوکھا حل جو ماحول اور جانوروں دونوں کو بچا رہا ہے

ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں ایک ایسا سادہ مگر زبردست خیال عملی شکل اختیار کر چکا ہے جو ماحول اور بے زبان جانوروں دونوں کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔ یہاں نصب کی گئی خصوصی وینڈنگ مشینیں آوارہ کتوں اور بلیوں کو خوراک اور پانی فراہم کرتی ہیں، لیکن اس کا طریقہ عام مشینوں سے بالکل مختلف ہے۔ ان مشینوں میں پیسے ڈالنے کے بجائے لوگ خالی پلاسٹک کی بوتلیں ڈالتے ہیں، اور بدلے میں مشین جانوروں کے لیے کھانا یا پانی جاری کر دیتی ہے۔

یہ منصوبہ ایک مقامی ترک کمپنی “پگیڈون” نے تیار کیا، جس کا مقصد ایک ہی وقت میں دو بڑے مسائل کو حل کرنا تھا۔ پہلا مسئلہ پلاسٹک کے فضلے میں تیزی سے اضافہ، اور دوسرا استنبول کی سڑکوں پر رہنے والے ہزاروں بے سہارا جانوروں کی خوراک اور پانی کی کمی۔ اس خیال کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی ایک فریق پر بوجھ نہیں ڈالتا بلکہ عوام کو اس نیکی کا حصہ بنا دیتا ہے۔

ان وینڈنگ مشینوں میں ایک خاص حصہ ایسا بھی بنایا گیا ہے جہاں لوگ اپنے پاس بچا ہوا صاف پانی ڈال سکتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ پینے کے بعد بوتل میں کچھ پانی چھوڑ دیتے ہیں، جو عام حالات میں ضائع ہو جاتا ہے۔ مگر یہاں وہی پانی آوارہ جانوروں کے کام آ جاتا ہے۔ اس طرح نہ پانی ضائع ہوتا ہے اور نہ ہی جانور پیاس سے تڑپتے ہیں۔

استنبول ایک ایسا شہر ہے جہاں آوارہ جانوروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اندازوں کے مطابق یہاں ڈیڑھ لاکھ سے زائد آوارہ کتے اور بلیاں سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگرچہ مقامی لوگ عام طور پر جانوروں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور انہیں کھانا بھی کھلاتے ہیں، لیکن اتنی بڑی تعداد میں جانوروں کی مستقل خوراک کا انتظام کرنا آسان کام نہیں۔ خاص طور پر سردیوں میں، جب خوراک کم اور موسم سخت ہو جاتا ہے، بھوک اور پیاس ان جانوروں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتی ہے۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ وینڈنگ مشینیں ایک خاموش مددگار کا کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف جانوروں کو ایک مستقل اور قابلِ اعتماد خوراک کا ذریعہ فراہم کرتی ہیں بلکہ لوگوں کو ری سائیکلنگ کی طرف بھی راغب کرتی ہیں۔ بہت سے لوگ جو پہلے پلاسٹک کی بوتلیں کوڑے میں پھینک دیتے تھے، اب انہیں ان مشینوں میں ڈال کر ایک نیکی کا کام انجام دیتے ہیں۔ یوں ایک خالی بوتل کسی بے زبان جانور کے لیے زندگی کا سہارا بن جاتی ہے۔

اس منصوبے کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ ماحول کے لیے بھی مفید ہے۔ پلاسٹک کا کچرا دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے، اور استنبول بھی اس سے محفوظ نہیں۔ جب لوگ بوتلیں ان مشینوں میں ڈالتے ہیں تو وہ سیدھا ری سائیکلنگ کے عمل میں چلی جاتی ہیں۔ اس طرح سڑکوں، نالوں اور سمندر میں جانے والے پلاسٹک کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

یہ منصوبہ صرف مشینوں تک محدود نہیں بلکہ اس نے لوگوں کی سوچ پر بھی اثر ڈالا ہے۔ بچے، نوجوان اور بزرگ سب اس عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اب خالی بوتل کو کچرا نہیں بلکہ ایک موقع سمجھتے ہیں، ایک ایسا موقع جس سے وہ کسی بھوکے جانور کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں ہمدردی اور ذمہ داری کا جذبہ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وینڈنگ مشینیں دن رات کام کرتی ہیں۔ کسی بھی وقت کوئی شخص بوتل ڈال سکتا ہے، اور مشین فوراً ردِعمل دیتی ہے۔ آوارہ کتے اور بلیاں بھی آہستہ آہستہ ان مشینوں کے قریب آنے لگے ہیں، جیسے انہیں معلوم ہو کہ یہاں انہیں بھوکا نہیں لوٹنا پڑے گا۔

استنبول کا یہ ماڈل اب دنیا کے دوسرے شہروں کے لیے ایک مثال بن چکا ہے۔ کئی ممالک میں لوگ اس خیال کو سراہ رہے ہیں اور اسے اپنے شہروں میں نافذ کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مہنگے یا پیچیدہ منصوبوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ایک سادہ اور انسان دوست سوچ بھی دنیا بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔

آخرکار، یہ وینڈنگ مشینیں صرف کھانا یا پانی نہیں دیتیں، بلکہ یہ ایک پیغام بھی دیتی ہیں۔ یہ پیغام ہے کہ انسان اگر چاہے تو اپنے روزمرہ کے معمولات میں معمولی سی تبدیلی لا کر ماحول کی حفاظت بھی کر سکتا ہے اور بے زبان جانوروں کی زندگی بھی آسان بنا سکتا ہے۔ استنبول کی یہ خاموش مشینیں دراصل انسانیت کی ایک بلند آواز ہیں، جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.