چین نے حال ہی میں ایک ایسے تصوراتی فوجی منصوبے کا خاکہ پیش کیا ہے جس نے دنیا بھر میں تجسس اور بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس منصوبے کو “لوان نیاؤ” کا نام دیا گیا ہے، جسے چینی ذرائع ابلاغ ایک انتہائی جدید اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ جنگی جہاز قرار دے رہے ہیں۔ بعض رپورٹس میں اسے فلمی دنیا کے “اسٹار وارز” طرز کے خلائی کیریئر سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جو سننے میں کسی سائنس فکشن کہانی کا حصہ لگتا ہے، مگر چین اسے ایک ممکنہ مستقبل کی حقیقت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق لوان نیاؤ کو اب تک کا سب سے بڑا اور منفرد جنگی جہاز تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کے مجوزہ خدوخال حیران کن ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی لمبائی تقریباً 242 میٹر ہوگی، جبکہ چوڑائی 684 میٹر تک جا سکتی ہے۔ وزن کے حوالے سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ دیو ہیکل جہاز تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ٹن وزنی ہوگا۔ یہ اعداد و شمار عام بحری جنگی جہازوں سے کہیں زیادہ ہیں، اسی لیے ماہرین اسے روایتی نیوی کے بجائے ایک بالکل نئے تصور کا حصہ سمجھتے ہیں۔
اس منصوبے کی سب سے غیر معمولی بات یہ ہے کہ لوان نیاؤ کو زمین کی فضا کے آخری کنارے پر معلق رہنے کے قابل دکھایا گیا ہے۔ یعنی یہ نہ مکمل طور پر خلا میں ہوگا اور نہ ہی زمین کے اندرونی فضائی حصے میں۔ اس مقام پر موجودگی کا فائدہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ موجودہ دفاعی نظاموں کی بڑی تعداد وہاں تک مؤثر انداز میں رسائی نہیں رکھتی۔ یوں یہ جنگی جہاز دشمن کے بیشتر دفاعی حصار سے باہر رہتے ہوئے کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لوان نیاؤ کے اندر جدید ترین بغیر پائلٹ جنگی طیارے موجود ہوں گے۔ ان طیاروں کو “شیوان نیو” یا Xuan Nu جیٹس کہا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس جنگی جہاز میں ایسے 88 اسٹیلتھ ڈرون طیارے رکھے جا سکیں گے۔ یہ طیارے نہایت تیز رفتار، انتہائی پھرتیلے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے۔ ان کا سب سے خطرناک پہلو یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ ہائپرسونک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
ہائپرسونک میزائل وہ ہتھیار ہیں جو آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیز ہوتے ہیں، اور موجودہ دفاعی نظاموں کے لیے انہیں روکنا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ چینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر لوان نیاؤ حقیقت بن جاتا ہے تو اس سے داغے گئے میزائل دنیا کے کسی بھی حصے میں ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس طرح یہ جہاز ایک تیرتے ہوئے اڈے کی حیثیت اختیار کر لے گا، جو زمین کے قریب خلا میں موجود ہو کر عالمی سطح پر کارروائی کر سکتا ہے۔
اس منصوبے کے مطابق لوان نیاؤ صرف ایک جنگی جہاز نہیں ہوگا بلکہ ایک مکمل فضائی اور خلائی بیس کی طرح کام کرے گا۔ یہاں سے بغیر پائلٹ طیارے روانہ ہوں گے، مشن مکمل کریں گے اور دوبارہ اسی پلیٹ فارم پر واپس آئیں گے۔ اس تصور کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح چین کو وہ اسٹریٹجک برتری حاصل ہو سکتی ہے جو اس سے پہلے کسی ملک کے پاس نہیں رہی۔
تاہم، تمام ماہرین اس منصوبے کو حقیقت کے قریب نہیں سمجھتے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کے مطابق چینی حکام کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو لوان نیاؤ اگلے 20 سے 30 برس میں قابلِ استعمال ہو سکتا ہے۔ مگر دفاعی تجزیہ کار اس دعوے پر خاصے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جہاز کی تعمیر میں بے شمار تکنیکی رکاوٹیں ہیں۔ زمین کی فضا کے کنارے پر کسی دیو ہیکل ڈھانچے کو مستحکم رکھنا، اس کے لیے توانائی کا انتظام، کنٹرول سسٹمز، اور اس پر موجود طیاروں کی محفوظ لینڈنگ اور ٹیک آف جیسے مسائل آج بھی مکمل طور پر حل طلب ہیں۔ اس کے علاوہ، اس منصوبے پر آنے والی لاگت بھی ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ہو سکتی ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لوان نیاؤ دراصل ایک عملی منصوبے سے زیادہ ایک علامتی اعلان ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے تصورات عوام میں قومی فخر کو ابھارنے اور دنیا کو چین کی تکنیکی خواہشات دکھانے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ ممالک نے مستقبل کے بڑے منصوبے دکھا کر اپنی طاقت اور وژن کا اظہار کیا، چاہے وہ منصوبے کبھی مکمل نہ ہو سکے ہوں۔
یوں لوان نیاؤ ایک ایسی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے جو مستقبل کی جنگوں کو زمین، فضا اور خلا کی سرحدوں سے آزاد دیکھتی ہے۔ یہ منصوبہ حقیقت بنے یا نہ بنے، لیکن اس نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے وقت میں عالمی طاقتیں روایتی جنگی تصورات سے کہیں آگے سوچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
.png)