لمبی اور صحت مند زندگی کا راز شاید اتنا پیچیدہ نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ اکثر لوگ لمبی عمر کے لیے مہنگے علاج، سخت ورزش یا خاص غذاؤں کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن تحقیق یہ اشارہ دیتی ہے کہ کچھ سادہ اور پرسکون مشغلے بھی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کے لیے باغبانی، بنائی، سلائی، کھانا پکانا یا اسی نوعیت کی سرگرمیاں حیرت انگیز فوائد رکھتی ہیں۔
بڑھتی عمر کے ساتھ انسان کو صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی چیلنجز کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مصروفیات کم ہو جاتی ہیں، سماجی دائرہ سکڑ سکتا ہے اور بعض اوقات تنہائی کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں اگر روزمرہ زندگی میں کوئی بامقصد سرگرمی شامل ہو تو وہ نہ صرف وقت کو بہتر بناتی ہے بلکہ دل و دماغ کو بھی سہارا دیتی ہے۔
مثال کے طور پر باغبانی کو ہی لے لیجیے۔ مٹی میں ہاتھ ڈالنا، پودے لگانا، پانی دینا اور پھر ان کو بڑھتے دیکھنا ایک تسلی بخش تجربہ ہے۔ یہ عمل ہلکی پھلکی جسمانی حرکت فراہم کرتا ہے، جوڑوں کو متحرک رکھتا ہے اور دھوپ سے وٹامن ڈی بھی ملتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پودوں کی دیکھ بھال ایک ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جب کوئی بیج پھول یا سبزی کی شکل اختیار کرتا ہے تو اس میں ایک فطری خوشی شامل ہوتی ہے جو ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہے۔
اسی طرح بنائی یا سلائی جیسی سرگرمیاں ہاتھوں اور دماغ کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کرتی ہیں۔ باریک کام پر توجہ مرکوز کرنے سے ذہن منتشر خیالات سے ہٹ کر ایک پرسکون حالت میں آ جاتا ہے۔ کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تخلیقی سرگرمیاں دماغی صحت کے لیے مفید ہو سکتی ہیں کیونکہ وہ یادداشت اور توجہ کی صلاحیت کو متحرک رکھتی ہیں۔
کھانا پکانا بھی صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک تخلیقی عمل ہے۔ نئی تراکیب آزمانا، ذائقوں کو متوازن کرنا اور گھر والوں کے لیے کچھ خاص تیار کرنا ایک گہرا اطمینان دیتا ہے۔ اس عمل میں کھڑے رہنا، سبزیاں کاٹنا اور برتن سنبھالنا ہلکی جسمانی سرگرمی بھی فراہم کرتا ہے۔ مزید یہ کہ جب تیار شدہ کھانا دوسروں کے ساتھ بانٹا جائے تو سماجی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، جو لمبی اور خوشگوار زندگی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ان سرگرمیوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ذہنی دباؤ کو کم کرتی ہیں۔ جب انسان کسی سادہ مگر بامعنی کام میں مصروف ہوتا ہے تو دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار متوازن ہو سکتی ہے۔ سکون کی یہ کیفیت جسم پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ معمولی عادتیں مجموعی صحت میں نمایاں بہتری لا سکتی ہیں۔
یہ بھی اہم ہے کہ ایسے مشغلے انسان کو مقصد کا احساس دیتے ہیں۔ بڑھاپے میں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ اب کرنے کو کچھ خاص نہیں رہا۔ لیکن اگر روزانہ کسی پودے کی دیکھ بھال کرنی ہو، کسی سویٹر کو مکمل کرنا ہو یا کسی خاص ڈش کی تیاری کرنی ہو تو دن میں ایک سمت آ جاتی ہے۔ مقصد کا یہ احساس ذہنی صحت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
بظاہر یہ سب چھوٹی اور عام سی باتیں لگتی ہیں۔ مگر یہی سادہ عادتیں وقت کے ساتھ ایک مضبوط بنیاد بن سکتی ہیں۔ لمبی عمر صرف برسوں کی گنتی نہیں بلکہ ان برسوں کے معیار کا نام ہے۔ اگر زندگی میں سکون، تخلیق اور تعلق شامل ہو تو ہر دن زیادہ بھرپور محسوس ہوتا ہے۔
آج کی تیز رفتار دنیا میں جہاں ہر چیز جلدی اور مقابلے کی بنیاد پر ہو رہی ہے، شاید ہمیں تھوڑا سا رکنے کی ضرورت ہے۔ ہاتھوں سے کچھ بنانا، مٹی کی خوشبو محسوس کرنا یا کسی پسندیدہ نسخے کو دھیرے دھیرے تیار کرنا ہمیں حال کے لمحے میں واپس لاتا ہے۔ یہی موجود لمحہ اصل سرمایہ ہے۔
آخرکار، صحت مند اور طویل زندگی کے لیے کوئی ایک جادوئی نسخہ نہیں ہوتا۔ مگر تحقیق اور تجربہ یہ بتاتے ہیں کہ سادگی میں بھی طاقت ہوتی ہے۔ جب ہم چھوٹی خوشیوں کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں اور دل کو مصروف رکھتے ہیں تو زندگی نہ صرف لمبی بلکہ زیادہ بامعنی بھی ہو سکتی ہے۔
