کبھی کبھی زندگی کو بدلنے کے لیے بڑی رقم یا غیر معمولی وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چند سکے، چند نوٹ، اور سادہ سے خطوط بھی کسی کی تقدیر کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ سنہ 1987 میں امریکہ کی ریاست الی نوائے کے ایک کالج میں داخل ہونے والے نئے طالب علم کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا۔ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کا خواہشمند تھا، مگر مالی حالات اس کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اجنبی لوگوں کی چھوٹی چھوٹی مہربانیاں اس کے لیے ایک نئی دنیا کے دروازے کھول دیں گی۔
وہ ایک عام سا نوجوان تھا، خواب بڑے تھے مگر وسائل محدود۔ کالج کی فیس اس کے لیے ایک بوجھ بن چکی تھی۔ خاندان پوری مدد کرنا چاہتا تھا، مگر اخراجات اس حد تک تھے کہ ہر طرف بے یقینی چھائی ہوئی تھی۔ ایسے میں کسی طرح اس کی کہانی لوگوں تک پہنچی۔ شاید کسی مقامی اخبار میں ذکر ہوا یا کسی کمیونٹی نے اس کا حال سنا۔ پھر جو ہوا، وہ غیر متوقع تھا۔
ملک کے مختلف حصوں سے لفافے آنا شروع ہوئے۔ ان میں کچھ سکوں کی کھنک تھی، کہیں ایک یا دو ڈالر کے نوٹ، اور اکثر کے ساتھ مختصر مگر دل کو چھو لینے والے پیغامات۔ کسی نے لکھا کہ وہ خود بھی مشکل حالات سے گزر چکا ہے اور جانتا ہے تعلیم کتنی اہم ہوتی ہے۔ کسی نے دعا دی کہ یہ مدد ایک روشن مستقبل کی بنیاد بنے۔ یہ رقم بظاہر معمولی تھی، مگر آہستہ آہستہ جمع ہو کر ایک بڑی شکل اختیار کرنے لگی۔
ہر لفافہ صرف پیسوں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ اس میں ایک پیغام بھی شامل تھا کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ اجنبی لوگوں کی یہ خاموش حمایت اس نوجوان کے حوصلے کو مضبوط کرتی گئی۔ وہ صرف مالی سہارا نہیں تھا بلکہ ایک اخلاقی طاقت بھی تھی، جو اسے یہ احساس دلا رہی تھی کہ دنیا میں ہمدردی اب بھی زندہ ہے۔
وقت کے ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی امداد اتنی ہو گئی کہ اس کی پوری ٹیوشن فیس ادا ہو سکی۔ جس راستے پر اندھیرا دکھائی دے رہا تھا، وہاں اچانک روشنی پھیل گئی۔ غیر یقینی کی جگہ امید نے لے لی۔ ایک ایسا خواب جو ٹوٹتا محسوس ہو رہا تھا، دوبارہ جڑ گیا۔
اس واقعے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ دینے والوں میں سے اکثر خود بہت امیر نہیں تھے۔ کئی لوگوں نے شاید اپنی محدود آمدنی میں سے تھوڑا سا حصہ نکالا ہوگا۔ مگر انہوں نے یہ سوچ کر ہاتھ بڑھایا کہ اگر ہر شخص تھوڑا سا بھی دے دے تو بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔ یہی سوچ اس پوری کہانی کا مرکز ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ سخاوت کا تعلق دولت سے نہیں بلکہ نیت سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری معمولی سی مدد کسی کے کام نہیں آئے گی۔ مگر جب یہی معمولی مدد کئی ہاتھوں سے مل کر ایک جگہ جمع ہوتی ہے تو اس کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے بارش کے قطرے مل کر دریا بن جاتے ہیں۔
اس نوجوان کے لیے یہ صرف فیس کی ادائیگی نہیں تھی، بلکہ انسانیت پر اعتماد کی بحالی بھی تھی۔ اس نے اپنی تعلیم مکمل کی، آگے بڑھا، اور شاید زندگی میں وہ مقام حاصل کیا جس کا اس نے خواب دیکھا تھا۔ مگر اس کے دل میں یہ احساس ہمیشہ زندہ رہا ہوگا کہ اس کی کامیابی میں بے شمار نامعلوم چہروں کا حصہ ہے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کی زندگی میں کردار ادا کر سکتے ہیں، چاہے وہ کردار کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ ایک حوصلہ افزا جملہ، ایک مختصر خط، یا چند سکے بھی کسی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب ہمدردی ایک دل سے دوسرے دل تک پہنچتی ہے تو وہ فاصلے مٹا دیتی ہے اور امکانات کے دروازے کھول دیتی ہے۔
آخرکار، زندگی کی بڑی تبدیلیاں اکثر چھوٹے قدموں سے شروع ہوتی ہیں۔ اس طالب علم کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ اجتماعی مہربانی میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ اگر ہم سب تھوڑا سا حصہ ڈالیں تو کسی کی دنیا بدل سکتی ہے۔ اور شاید یہی انسانیت کی اصل خوبصورتی ہے۔
