رفتار کا تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔ جو چیزیں کبھی سائنسی افسانوں میں دکھائی دیتی تھیں، وہ اب حقیقی تجربہ گاہوں میں آزمائی جا رہی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق چین نے ایک تجرباتی ہائپرسونک طیارے کا کامیاب تجربہ کیا ہے جو تقریباً میک 6 کی رفتار تک پہنچ سکتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ رفتار لگ بھگ 8,100 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر قابلِ استعمال شکل اختیار کر لے تو سفر، دفاعی نظام اور عالمی نقل و حمل کا پورا نقشہ بدل سکتا ہے۔
ہائپرسونک رفتار سے مراد ایسی رفتار ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا یا اس سے زیادہ ہو۔ عام مسافر طیارے عموماً آواز کی رفتار سے کم پرواز کرتے ہیں، جبکہ کچھ فوجی جیٹ طیارے اس حد کو عبور کر لیتے ہیں۔ مگر میک 6 کی رفتار ایک بالکل مختلف سطح ہے۔ اس رفتار پر فضا کے ساتھ رگڑ اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ طیارے کی بیرونی سطح شدید حرارت کا سامنا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے منصوبوں میں جدید مواد، خاص ڈیزائن اور انتہائی درست انجینئرنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر ہم تصور کریں کہ بیجنگ سے لندن یا نیویارک تک کا سفر چند گھنٹوں کے بجائے شاید ایک گھنٹے سے بھی کم میں طے ہو سکے، تو یہ بات غیر معمولی محسوس ہوتی ہے۔ فاصلے جو آج ہمیں طویل لگتے ہیں، وہ مستقبل میں مختصر ہو سکتے ہیں۔ کاروباری ملاقاتیں، ہنگامی امداد، اور حتیٰ کہ سیاحتی سفر بھی ایک نئی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ وقت کی بچت کا مطلب صرف سہولت نہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرا اثر ہو سکتا ہے۔
دفاعی شعبے میں اس ٹیکنالوجی کی اہمیت اور بھی زیادہ سمجھی جا رہی ہے۔ ہائپرسونک رفتار پر حرکت کرنے والی مشینوں کو روایتی دفاعی نظاموں سے روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس میدان میں تحقیق اور سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ عالمی سلامتی کے خدشات بھی جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ہر نئی عسکری پیش رفت طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ سب سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، عملی طور پر اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ میک 6 کی رفتار پر پرواز کرنے کے لیے انجن کا ڈیزائن روایتی جیٹ انجن سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض تصورات میں اسکریمجیٹ جیسے انجن شامل ہیں جو انتہائی رفتار پر فضا کی ہوا کو براہ راست استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حرارت سے بچاؤ کے لیے خصوصی دھاتیں اور مرکبات درکار ہوتے ہیں جو نہ صرف مضبوط ہوں بلکہ ہلکے بھی ہوں۔
ان تجربات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کی تخلیقی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔ چند دہائیاں پہلے تک آواز کی رفتار کو عبور کرنا ہی ایک بڑا کارنامہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر سپرسونک طیارے آئے۔ اب ہائپرسونک رفتار کی بات ہو رہی ہے۔ ہر نئی پیش رفت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انجینئرنگ کی حدود مستقل طور پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
البتہ ابھی بہت سی رکاوٹیں باقی ہیں۔ لاگت ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایسی ٹیکنالوجی کو محفوظ، قابلِ اعتماد اور معاشی طور پر قابلِ عمل بنانا آسان نہیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی اثرات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ اتنی زیادہ رفتار اور توانائی کے استعمال سے فضا پر کیا اثر پڑے گا، یہ سوال بھی اہم ہے۔ اگر مستقبل کا سفر تیز تر ہو تو اسے پائیدار بھی ہونا چاہیے۔
اس کے باوجود، ایسے تجربات مستقبل کی سمت کا اشارہ دیتے ہیں۔ آج جو چیز ایک تجرباتی پروٹوٹائپ ہے، وہ کل ایک عام حقیقت بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہوابازی کے شعبے میں کئی تصورات ابتدا میں ناممکن سمجھے جاتے تھے، مگر وقت کے ساتھ وہ عام ہو گئے۔ یہی عمل یہاں بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
انسان ہمیشہ سے رفتار کا متلاشی رہا ہے۔ گھوڑوں سے لے کر بھاپ کے انجن تک، پھر کاروں اور ہوائی جہازوں تک، ہر دور میں ہم نے فاصلوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہائپرسونک ٹیکنالوجی اسی سفر کی تازہ کڑی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ آسمان اب بھی حدود کا آخری کنارہ نہیں بلکہ ایک نئی شروعات ہو سکتا ہے۔
آخرکار، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہائپرسونک مسافر طیارے کب عام ہوں گے۔ مگر ایک بات واضح ہے: جدت کی رفتار خود بھی تیز ہو چکی ہے۔ جو تجربات آج آسمان میں کیے جا رہے ہیں، وہ کل کی دنیا کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ شاید آنے والے برسوں میں ہم وقت اور فاصلے کے بارے میں بالکل مختلف انداز میں سوچ رہے ہوں گے۔
