وقت ایک لمحے کے لیے پیچھے چل پڑا: کوانٹم کمپیوٹر کا حیران کن تجربہ

وقت ایک لمحے کے لیے پیچھے چل پڑا: کوانٹم کمپیوٹر کا حیران کن تجربہ

وقت کو ہم ہمیشہ ایک سیدھی لکیر کی طرح سمجھتے آئے ہیں جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف بڑھتی رہتی ہے۔ جو گزر گیا وہ واپس نہیں آتا، اور جو ہو چکا اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن حالیہ ایک سائنسی تجربے نے اس پُرانے تصور کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سائنس دانوں نے ایک کوانٹم کمپیوٹر کی مدد سے وقت کو ایک سیکنڈ کے لیے پیچھے موڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگرچہ یہ سائنس فکشن فلموں والی ٹائم ٹریول نہیں، لیکن پھر بھی یہ کامیابی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وقت شاید اتنا سخت اور ناقابلِ تبدیل نہیں جتنا ہم سمجھتے رہے ہیں۔

یہ تجربہ کوانٹم دنیا میں کیا گیا، جہاں چیزیں ہمارے روزمرہ تجربے سے بالکل مختلف انداز میں کام کرتی ہیں۔ عام فزکس میں ذرات کو ٹھوس اشیاء سمجھا جاتا ہے، لیکن کوانٹم فزکس میں یہ ذرات امکانات کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ یعنی وہ ایک ہی وقت میں کئی حالتوں میں ہو سکتے ہیں۔ اسی خاصیت کو استعمال کرتے ہوئے سائنس دانوں نے ایک کوانٹم سسٹم کو پروگرام کیا۔

تحقیق کے دوران ایک ذرے کو پہلے ایک بے ترتیب حالت میں رکھا گیا۔ پھر اسے وقت کے ساتھ آگے بڑھنے دیا گیا، بالکل ویسے ہی جیسے قدرتی طور پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد سائنس دانوں نے کوانٹم کمپیوٹر کو ہدایات دیں کہ وہ اسی عمل کو الٹا کر دے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ذرہ اپنی پچھلی حالت میں واپس آ گیا، گویا وقت ایک سیکنڈ کے لیے پیچھے چلا گیا ہو۔

اس عمل کو سمجھنے کے لیے سائنس دان ایک دلچسپ مثال دیتے ہیں۔ جیسے ایک انڈا ٹوٹنے کے بعد واپس اپنی اصل حالت میں نہیں آ سکتا، ویسے ہی عام فزکس میں کسی عمل کو الٹا کرنا ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کوانٹم قوانین کے تحت یہ ناممکن کام ممکن ہو گیا۔ یہاں قوانین مختلف ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کوانٹم دنیا ہمیں بار بار حیران کرتی ہے۔

اس تجربے میں کوانٹم بٹس، یعنی کیوبٹس، استعمال کیے گئے۔ کیوبٹس عام کمپیوٹر کے بٹس کی طرح صرف صفر یا ایک نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی وقت میں دونوں حالتوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ آپس میں الجھ بھی سکتے ہیں، جسے کوانٹم انٹینگلمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہی خصوصیات اس تجربے کی بنیاد بنیں اور وقت کے بہاؤ کو پلٹنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ تجربہ صرف ایک ذرے تک محدود تھا اور وقت کی واپسی بھی صرف ایک لمحے کے لیے ہوئی۔ نہ کوئی انسان پیچھے گیا، نہ کوئی واقعہ بدلا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ یہ کامیابی مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ، فزکس اور انفارمیشن تھیوری میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تجربے سے ہمیں اینٹروپی، یعنی بے ترتیبی کے تصور، کو نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اینٹروپی ہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر وقت آگے کی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اگر اینٹروپی کو قابو میں لایا جا سکے تو شاید وقت کے بہاؤ کے بارے میں ہماری سوچ بھی بدل جائے۔

اس کے علاوہ یہ تحقیق کوانٹم کمپیوٹرز میں غلطیوں کو درست کرنے کے نئے طریقے بھی فراہم کر سکتی ہے۔ چونکہ کوانٹم سسٹمز بہت نازک ہوتے ہیں اور ذرا سی خلل سے خراب ہو جاتے ہیں، اس لیے وقت کو پیچھے لے جانے جیسی تکنیکیں ڈیٹا کو محفوظ رکھنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

یہ دریافت ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وقت، یادداشت، سبب اور نتیجہ جیسے تصورات اصل میں کتنے مضبوط ہیں۔ ممکن ہے کہ مستقبل میں ایسی تحقیق انسانی شعور اور کائنات کی گہری حقیقتوں کو سمجھنے میں بھی کردار ادا کرے۔

فی الحال سائنس نے وقت کے قوانین کو توڑا نہیں، لیکن یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ ان میں لچک موجود ہے۔ کوانٹم ٹیکنالوجی جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے، ویسے ویسے کائنات کے وہ راز سامنے آ رہے ہیں جن کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا۔ شاید آنے والے برسوں میں ہم وقت کو صرف گزرتا ہوا لمحہ نہیں بلکہ ایک قابلِ فہم اور کسی حد تک قابلِ کنٹرول حقیقت کے طور پر دیکھنے لگیں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.