رات میں بھی سورج کی طاقت: چین کا شمسی توانائی میں حیران کن کارنامہ

رات میں بھی سورج کی طاقت: چین کا شمسی توانائی میں حیران کن کارنامہ

صاف توانائی کے میدان میں چین نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرین کو چونکا دیا ہے۔ عام طور پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سورج غروب ہوتے ہی شمسی توانائی کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، مگر چین نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک جدید شمسی منصوبے کے تحت چین نے بارہ ہزار آئینوں کی مدد سے ایسا پاور پلانٹ تیار کیا ہے جو رات کے وقت بھی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ منصوبہ روایتی سولر پینلز سے بالکل مختلف ہے۔ عام سولر پینلز صرف دن کی روشنی میں کام کرتے ہیں اور رات ہوتے ہی بجلی کی پیداوار رک جاتی ہے۔ لیکن چین میں استعمال ہونے والی یہ ٹیکنالوجی، جسے کنسنٹریٹڈ سولر پاور کہا جاتا ہے، سورج کی روشنی کو براہِ راست بجلی میں بدلنے کے بجائے پہلے حرارت میں تبدیل کرتی ہے اور پھر اس حرارت کو محفوظ کر لیتی ہے۔

اس پاور پلانٹ میں ہزاروں آئینے، جنہیں ہیلیو اسٹیٹس کہا جاتا ہے، ایک وسیع میدان میں نصب کیے گئے ہیں۔ یہ تمام آئینے سورج کی روشنی کو ایک مرکزی ٹاور کی طرف منعکس کرتے ہیں۔ جب سورج کی شعاعیں ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو بے پناہ حرارت پیدا ہوتی ہے۔ اس حرارت کا استعمال ایک خاص مادے، یعنی پگھلے ہوئے نمک، کو گرم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

یہ پگھلا ہوا نمک اس نظام کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ یہ کئی گھنٹوں تک حرارت کو اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے، حتیٰ کہ پوری رات بھی۔ جب سورج غروب ہو جاتا ہے اور بجلی کی ضرورت برقرار رہتی ہے تو یہی محفوظ شدہ حرارت استعمال میں لائی جاتی ہے۔ اس حرارت سے بھاپ پیدا کی جاتی ہے، جو ٹربائن کو چلاتی ہے، اور یوں بجلی پیدا ہوتی رہتی ہے۔ یہ عمل بالکل کسی روایتی پاور پلانٹ جیسا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں کوئلہ، گیس یا تیل نہیں جلایا جاتا۔

یہ شمسی پاور پلانٹ چین کے صحرائی علاقے میں قائم کیا گیا ہے، جہاں سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے اور زمین بھی کھلی ہوتی ہے۔ اس منصوبے کا ایک بڑا مقصد کوئلے پر انحصار کم کرنا اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لانا ہے۔ چین، جو ماضی میں کوئلے کے زیادہ استعمال کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے، اب صاف توانائی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نظام سورج غروب ہونے کے بعد بھی تیرہ سے پندرہ گھنٹوں تک مسلسل بجلی فراہم کر سکتا ہے۔ یہ صلاحیت اسے دیگر قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے ممتاز بناتی ہے، کیونکہ اکثر ممالک کو سب سے بڑا مسئلہ یہی درپیش ہوتا ہے کہ رات کے وقت بجلی کہاں سے آئے۔ یہ ٹیکنالوجی اس مسئلے کا عملی حل پیش کرتی ہے۔

اس منصوبے کا ایک اور فائدہ بجلی کے نظام کا استحکام ہے۔ چونکہ بجلی مسلسل فراہم کی جا سکتی ہے، اس لیے گرڈ پر دباؤ کم ہوتا ہے اور بلیک آؤٹ کے امکانات بھی گھٹ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے مستقبل کی توانائی کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں سورج کی روشنی زیادہ اور زمین وسیع ہو۔

یہ صرف انجینئرنگ کی کامیابی نہیں بلکہ ایک سوچ کی تبدیلی بھی ہے۔ اس منصوبے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ شمسی توانائی صرف دن تک محدود نہیں۔ صحیح ٹیکنالوجی اور منصوبہ بندی کے ساتھ سورج کی طاقت کو چوبیس گھنٹے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ خیال کہ رات میں بھی سورج ہمارے لیے کام کر سکتا ہے، اب محض تصور نہیں رہا بلکہ حقیقت بن چکا ہے۔

دنیا اس وقت توانائی کے بحران اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں یہ منصوبہ ایک امید کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم قدرتی وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کریں تو نہ صرف توانائی کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے بلکہ زمین کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

یوں چین کا یہ شمسی پاور پلانٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کی سرحدیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اب یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سورج صرف دن میں نہیں، بلکہ رات میں بھی ہماری روشنی بن سکتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.