کافی عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ زہرہ ایک مردہ سیارہ ہے۔ وہاں نہ زندگی کا امکان ہے، نہ سکون، نہ کوئی سرگرمی۔ اس کی سطح اتنی زیادہ گرم ہے کہ سیسہ تک پگھل سکتا ہے۔ گھنے بادل، زہریلی گیسیں اور شدید دباؤ اسے نظامِ شمسی کے خطرناک ترین مقامات میں شامل کرتے ہیں۔ مگر حالیہ ریڈار تجزیے نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ لگتا ہے زہرہ مکمل طور پر خاموش نہیں، بلکہ اپنے راز زمین کے نیچے چھپا کر بیٹھا ہے۔
تازہ فلائی بائی مشاہدات سے ملنے والے ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر سائنس دانوں کو ایسے اشارے ملے ہیں جو زیرِ زمین وسیع لاوا ٹیوبز کے جال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لاوا ٹیوب دراصل وہ سرنگیں ہوتی ہیں جو آتش فشانی سرگرمی کے دوران بنتی ہیں۔ جب پگھلا ہوا لاوا بہتا ہے تو اس کی بیرونی تہہ ٹھنڈی ہو کر سخت ہو جاتی ہے، جبکہ اندر سے گرم لاوا بہتا رہتا ہے۔ بعد میں جب اندر کا مواد خالی ہو جاتا ہے تو ایک کھوکھلی سرنگ باقی رہ جاتی ہے۔
زمین پر بھی ایسی سرنگیں پائی جاتی ہیں، مگر زہرہ پر ان کا پیمانہ کہیں زیادہ بڑا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ وہاں کا آتش فشانی ماضی نہایت شدید رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ سرنگیں کئی کلومیٹر طویل اور انتہائی کشادہ ہو سکتی ہیں۔ ریڈار سے ملنے والے اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان میں سے کچھ ڈھانچے اب بھی حرارتی طور پر فعال ہو سکتے ہیں، یعنی زہرہ مکمل طور پر ٹھنڈا نہیں پڑا۔
زہرہ کی سطح کو اکثر “جہنم جیسی” کہا جاتا ہے۔ درجہ حرارت تقریباً 450 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے، اور فضائی دباؤ زمین کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی مشن کا زیادہ دیر تک زندہ رہنا مشکل ہوتا ہے۔ ماضی میں بھیجے گئے کئی خلائی مشن چند گھنٹوں سے زیادہ کام نہیں کر سکے۔ مگر اگر زیرِ زمین یہ لاوا ٹیوبز واقعی موجود ہیں، تو صورتحال بدل سکتی ہے۔
ان سرنگوں کے اندر درجہ حرارت نسبتاً کم اور ماحول کچھ حد تک مستحکم ہو سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں انسان یا روبوٹک پروب زہرہ پر بھیجے جائیں تو وہ ان زیرِ زمین غاروں میں پناہ لے سکتے ہیں۔ یہ خیال ابھی نظریاتی ہے، مگر سائنسی بنیاد رکھتا ہے۔ جیسے زمین پر غار بیرونی موسم سے کچھ تحفظ فراہم کرتے ہیں، ویسے ہی زہرہ پر یہ سرنگیں سطح کی شدید گرمی سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
یہ دریافت صرف ایک جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ مستقبل کی خلائی تحقیق کے لیے امید کی کرن ہے۔ اگر زہرہ کے نیچے محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں تو وہاں طویل مدتی مشن کا تصور بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ سائنس دان ایسے آلات تیار کرنے پر غور کر رہے ہیں جو نہ صرف سطح کا مقابلہ کر سکیں بلکہ زیرِ زمین ڈھانچوں کا جائزہ بھی لے سکیں۔
زہرہ کو اکثر زمین کا جڑواں سیارہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا سائز اور ساخت کچھ حد تک ملتی جلتی ہے۔ مگر اس کا ماحول بالکل مختلف سمت میں چلا گیا۔ اسی فرق کو سمجھنے کے لیے اس کی اندرونی سرگرمی کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ اگر لاوا ٹیوبز اب بھی فعال ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ زہرہ کا اندرونی حصہ زندہ اور متحرک ہے۔
یہ تصور کہ “جہنم کے نیچے پناہ” ممکن ہے، ایک دلچسپ تضاد پیش کرتا ہے۔ اوپر کی سطح تباہ کن، اور نیچے ممکنہ طور پر محفوظ راستہ۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی سیارے کو صرف اس کی سطح سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ اکثر اصل کہانی اندر چھپی ہوتی ہے۔
سائنس کی دنیا میں ہر نیا ڈیٹا ایک دروازہ کھولتا ہے۔ زہرہ کے بارے میں یہ تازہ معلومات ہمیں اس سیارے کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔ شاید وہ مکمل طور پر مردہ نہیں، بلکہ خاموشی سے اپنی حرارت اور سرگرمی کو زمین کے نیچے سنبھالے ہوئے ہے۔
آخرکار یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ زہرہ ابھی بھی ہمیں حیران کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی جھلسا دینے والی سطح کے نیچے ممکن ہے ایسے راز موجود ہوں جو مستقبل کے خلائی مسافروں کے لیے تحفظ کا ذریعہ بن سکیں۔ جہنم جیسی دنیا کے نیچے اگر پناہ گاہیں موجود ہوں، تو یہ کائنات کی ایک اور دلچسپ کہانی ہے جو ابھی پوری طرح سامنے آنا باقی ہے۔
