جیٹ لیگ کا خاتمہ؟ نئی دوا جو جسمانی گھڑی کو فوراً بدل دے


جو لوگ اکثر ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے ہیں، وہ جیٹ لیگ کی تکلیف سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ لمبی پرواز کے بعد جسم تھکا ہوا ہوتا ہے، نیند کا نظام بگڑ جاتا ہے، دن میں غنودگی اور رات کو بے خوابی محسوس ہوتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارا جسمانی گھڑیال، جسے بایولوجیکل کلاک کہا جاتا ہے، نئے ٹائم زون کے مطابق فوراً خود کو ڈھال نہیں پاتا۔ اب ایک نئی سائنسی تحقیق نے امید دلائی ہے کہ شاید مستقبل میں جیٹ لیگ لازمی مسئلہ نہ رہے۔

حالیہ تجربات میں ایک کیمیائی مرکب، جسے Mic-628 کا نام دیا گیا ہے، کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ دماغ کو وقتی طور پر یہ یقین دلانے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ دن کا وقت بدل چکا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ جسمانی گھڑی کو تیز رفتاری سے نئے شیڈول کے مطابق ایڈجسٹ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جانوروں پر کیے گئے تجربات میں دیکھا گیا کہ اس دوا کی ایک خوراک سے بحالی کا وقت تقریباً پچاس فیصد تک کم ہو گیا۔

ہمارے جسم کے اندر ایک نہایت منظم نظام کام کرتا ہے جو روشنی اور اندھیرے کے مطابق ہارمونز خارج کرتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت ہمیں رات کو نیند آتی ہے اور دن میں چستی محسوس ہوتی ہے۔ جب ہم اچانک کئی ٹائم زون عبور کر لیتے ہیں تو یہ اندرونی گھڑی پرانے وقت کے مطابق چلتی رہتی ہے، جبکہ اردگرد کا ماحول نیا وقت دکھا رہا ہوتا ہے۔ یہی تضاد جیٹ لیگ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

Mic-628 کا طریقہ کار دماغ کے اس حصے پر اثر انداز ہونا بتایا جا رہا ہے جو جسمانی گھڑی کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ مرکب مخصوص کیمیائی راستوں کو متحرک کر کے دماغ کو نیا سگنل دیتا ہے کہ اب دن یا رات کا وقت بدل چکا ہے۔ نتیجتاً نیند اور بیداری کے چکر میں تیزی سے تبدیلی آتی ہے۔ جانوروں میں کیے گئے مطالعے سے ظاہر ہوا کہ وہ نسبتاً جلد نئے شیڈول کے مطابق ڈھل گئے۔

اگر یہ نتائج انسانوں میں بھی اسی طرح مؤثر ثابت ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف مسافروں تک محدود نہیں رہیں گے۔ شفٹ ڈیوٹی کرنے والے افراد، پائلٹس، فضائی میزبان، یا وہ لوگ جو رات کی ملازمت کرتے ہیں، سب اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان کے لیے نیند کا بے ترتیب ہونا ایک عام مسئلہ ہے جو طویل مدت میں صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

البتہ یہ بات اہم ہے کہ ابھی تک یہ تحقیق جانوروں کے تجربات تک محدود ہے۔ انسانوں پر آزمائش اور اس کے ممکنہ مضر اثرات کا جائزہ لینا باقی ہے۔ جسمانی گھڑی ایک حساس نظام ہے اور اس میں مداخلت سوچ سمجھ کر کرنی ہوتی ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی نئی دوا کو مکمل حفاظتی مراحل سے گزارنا ضروری ہے۔

جیٹ لیگ کا تعلق صرف نیند سے نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی، توجہ اور مزاج سے بھی ہوتا ہے۔ کئی افراد سفر کے بعد چڑچڑاپن یا سستی محسوس کرتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی ایسا حل سامنے آتا ہے جو اس بحالی کے وقت کو نصف کر دے تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس اب صرف بیماریوں کے علاج تک محدود نہیں رہی، بلکہ انسانی کارکردگی کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ وقت کے فرق کو چند گھنٹوں میں ایڈجسٹ کر لینا کبھی ایک خواب جیسا خیال تھا، مگر جدید کرونوبایولوجی یعنی حیاتیاتی وقت کے مطالعے نے اسے ممکنات کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

بہر حال، یہ دریافت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے جسم کا وقت کے ساتھ تعلق کتنا گہرا ہے۔ سورج کی روشنی، دن اور رات کا چکر، سب ہماری صحت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اس نظام کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو نہ صرف سفر آسان ہو سکتا ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی توازن پیدا کیا جا سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ Mic-628 کے ابتدائی نتائج امید افزا ہیں، مگر حتمی فیصلہ مزید تحقیق کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ اگر یہ طریقہ محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتا ہے تو شاید مستقبل میں جیٹ لیگ ایک لازمی تکلیف کے بجائے ایک قابلِ کنٹرول مسئلہ بن جائے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.