ہم اکثر نوزائیدہ بچوں کو دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بس اردگرد کی روشنی اور آوازوں پر ردعمل دے رہے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ اصل سیکھنے اور سمجھنے کا عمل تو بعد میں شروع ہوتا ہے، جب بچہ بولنا یا چیزوں کو پکڑنا سیکھتا ہے۔ مگر حالیہ سائنسی تحقیق نے اس خیال کو بدل دیا ہے۔ دماغی اسکینز سے پتا چلا ہے کہ صرف آٹھ ہفتے کے بچوں کا دماغ پہلے ہی چیزوں کو مختلف خانوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسانی ذہانت کی بنیاد بہت ابتدائی مرحلے میں رکھ دی جاتی ہے۔ ماہرین نے جدید برین امیجنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ننھے بچوں کے دماغ کا مشاہدہ کیا۔ جب انہیں مختلف اشیاء کی تصاویر دکھائی گئیں، جیسے چہرے، جانور، یا عام استعمال کی چیزیں، تو ان کے دماغ کے بصری حصے میں خاص سرگرمی دیکھی گئی۔ یہ سرگرمی اس بات کا ثبوت تھی کہ دماغ صرف تصویر نہیں دیکھ رہا، بلکہ اسے ایک مخصوص زمرے میں رکھ رہا ہے۔
بصری کارٹیکس دماغ کا وہ حصہ ہے جو آنکھوں سے آنے والی معلومات کو پروسیس کرتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ حصہ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا ہے اور تجربے کے ذریعے بہتر ہوتا ہے۔ مگر اس نئی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ نظام بہت جلد فعال ہو جاتا ہے۔ یعنی بچہ بولنے سے پہلے اور ہاتھ بڑھا کر چیز پکڑنے سے پہلے ہی اپنے اردگرد کی دنیا کو ترتیب دینا شروع کر دیتا ہے۔
مثال کے طور پر، اگر بچے کو مختلف جانوروں کی تصاویر دکھائی جائیں تو اس کا دماغ ان سب کو ایک ہی قسم کی معلومات کے طور پر شناخت کر سکتا ہے، چاہے وہ کتا ہو یا بلی۔ اسی طرح انسانی چہرے الگ طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ یہ درجہ بندی الفاظ کے بغیر ہو رہی ہوتی ہے۔ یعنی بچہ “چہرہ” یا “جانور” کا لفظ نہیں جانتا، مگر اس کا دماغ فرق سمجھ رہا ہوتا ہے۔
یہ دریافت انسانی نشوونما کے بارے میں ہمارے نظریات کو نئی سمت دیتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیکھنے کا عمل صرف تجربے پر منحصر نہیں، بلکہ دماغ میں کچھ بنیادی صلاحیتیں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بچے بہت تیزی سے زبان اور ماحول کو سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا دماغ پہلے ہی معلومات کو منظم کرنے کی مشق کر چکا ہوتا ہے۔
اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سے بچوں کی ابتدائی ذہنی نشوونما کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ دماغ کس عمر میں کون سی صلاحیت ظاہر کرتا ہے، تو ہم تعلیمی اور طبی میدان میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی بچے کے بصری نظام میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جائے تو ابتدائی مرحلے پر مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔
والدین کے لیے بھی یہ خبر حیران کن ہے۔ وہ جو ننھی آنکھیں خاموشی سے اردگرد دیکھ رہی ہوتی ہیں، دراصل مسلسل سیکھ رہی ہوتی ہیں۔ ہر رنگ، ہر شکل، ہر چہرہ دماغ میں ایک ترتیب بنا رہا ہوتا ہے۔ بچہ بظاہر خاموش اور بے خبر لگ سکتا ہے، مگر اس کے دماغ میں ایک منظم عمل جاری ہوتا ہے۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ زبان کے بغیر درجہ بندی کرنا ذہانت کی بنیادی شکلوں میں سے ایک ہے۔ جب دماغ چیزوں کو مختلف خانوں میں بانٹتا ہے تو وہ دنیا کو سمجھنے کا فریم ورک بنا رہا ہوتا ہے۔ یہی فریم ورک آگے چل کر الفاظ، خیالات اور پیچیدہ سوچ کی بنیاد بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی ذہانت کا آغاز ہماری توقع سے کہیں پہلے ہو جاتا ہے۔ آٹھ ہفتوں کا بچہ ابھی دنیا کو چھو بھی نہیں سکتا، مگر وہ اسے ذہنی طور پر ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔ یہ تصور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انسانی دماغ کتنی حیران کن رفتار سے کام کرتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تحقیق ہمیں بچوں کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ صرف معصوم اور بے بس مخلوق نہیں، بلکہ ایک فعال ذہن کے مالک ہوتے ہیں جو خاموشی سے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ ذہانت بولنے سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ شاید آنکھ کھولنے کے کچھ ہی ہفتوں بعد اپنا سفر شروع کر دیتی ہے۔
