ڈولفن کی خفیہ حکمتِ عملی | سمندر کے ذہین شکاریوں کی حیران کن دنیا


بوتل نوز ڈولفن سمندری دنیا کی اُن مخلوقات میں شمار ہوتی ہیں جنہیں غیر معمولی ذہانت حاصل ہے۔ ان کی ذہانت صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی رویّوں میں بھی صاف نظر آتی ہے، خاص طور پر شکار کے دوران۔ ساحلی علاقوں میں ڈولفن جس انداز سے مل کر مچھلیوں کا شکار کرتی ہیں، وہ منصوبہ بندی، باہمی رابطے اور سماجی سمجھ بوجھ کی ایک شاندار مثال ہے۔

ڈولفن اکیلے شکار کرنے کے بجائے عموماً گروہ کی شکل میں کام کرتی ہیں۔ یہ گروہ مل کر مچھلیوں کے غول کو آہستہ آہستہ کم گہرے پانی کی طرف ہانک لیتا ہے۔ اس عمل میں وہ سمندری لہروں کا استعمال کرتی ہیں، اپنے جسموں کی مخصوص حرکات دکھاتی ہیں اور آوازوں کے ذریعے ایک دوسرے کو اشارے دیتی ہیں۔ ان آوازوں کا مقصد صرف رابطہ قائم کرنا نہیں بلکہ مچھلیوں کے فرار کے راستوں کو محدود کرنا بھی ہوتا ہے۔ یوں شکار کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق میں ایک خاص طریقہ بار بار دیکھا گیا ہے جس میں ڈولفن آدھے دائرے کی شکل بنا لیتی ہیں۔ اس ترتیب میں وہ مچھلیوں کو ساحل یا ریتلے کناروں کی طرف دھکیلتی ہیں۔ جیسے جیسے مچھلیاں کم پانی میں پھنستی جاتی ہیں، ان کے پاس بچنے کے مواقع کم رہ جاتے ہیں۔ اس مرحلے پر ڈولفن باری باری شکار کرتی ہیں، تاکہ پورا گروہ توانائی بچا سکے اور کسی ایک فرد پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ یہ صرف طاقت کا کھیل نہیں بلکہ سمجھ داری اور نظم و ضبط کی بہترین مثال ہے۔

یہ طریقہ کار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈولفن محض فوری ردِعمل پر نہیں بلکہ وقت اور ترتیب کو سمجھ کر فیصلے کرتی ہیں۔ ہر ڈولفن کو معلوم ہوتا ہے کہ کب آگے بڑھنا ہے اور کب پیچھے رہنا ہے۔ اس طرح کی ہم آہنگی تبھی ممکن ہے جب گروہ کے افراد ایک دوسرے کے ارادوں اور حرکات کو بخوبی سمجھتے ہوں۔

کچھ علاقوں میں ڈولفن اس سے بھی زیادہ حیران کن طریقے استعمال کرتی ہیں، جن میں سب سے مشہور “اسٹرینڈ فیڈنگ” ہے۔ اس تکنیک میں ڈولفن جان بوجھ کر خود کو چند لمحوں کے لیے ساحل پر لے آتی ہیں تاکہ مچھلیوں کو پکڑ سکیں۔ شکار کے فوراً بعد وہ پھسل کر واپس پانی میں چلی جاتی ہیں۔ یہ طریقہ نہایت خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر ڈولفن بروقت واپس نہ جا سکے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، کچھ ڈولفن نسلیں یہ طریقہ مہارت سے استعمال کرتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹرینڈ فیڈنگ کوئی پیدائشی جبلّت نہیں بلکہ سیکھا ہوا عمل ہے۔ نوجوان ڈولفن بڑی ڈولفن کو دیکھ کر یہ تکنیک سیکھتی ہیں، اور یوں یہ مہارت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رویّہ ڈولفن کی ثقافت کی عکاسی کرتا ہے، یعنی ان کے پاس صرف حیاتیاتی جبلّت ہی نہیں بلکہ سماجی علم بھی موجود ہے جو وقت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

سائنسی مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شکار کے دوران ڈولفن اپنے اپنے کردار پہچانتی ہیں۔ کوئی مچھلیوں کو گھیرنے کا کام کرتی ہے، کوئی راستے بند کرتی ہے، اور کوئی آخری مرحلے میں شکار کرتی ہے۔ اگر ماحول بدل جائے یا شکار کا رویہ مختلف ہو تو ڈولفن اپنی حکمتِ عملی بھی بدل لیتی ہیں۔ یہ لچکدار سوچ انہیں بہت سے زمینی شکاری جانوروں، جیسے بھیڑیوں اور شیروں، کے برابر لا کھڑا کرتی ہے۔

یہ تمام حقائق اس بات کو مضبوط کرتے ہیں کہ ڈولفن صرف ذہین جانور نہیں بلکہ پیچیدہ سماجی نظام رکھنے والی مخلوق ہیں۔ ان کا انحصار صرف طاقت یا رفتار پر نہیں بلکہ تعاون، یادداشت اور تجربے پر بھی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ان کی بقا صرف خوراک کی دستیابی سے نہیں بلکہ ان کے سماجی ڈھانچے کے تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

بدقسمتی سے، ساحلی ماحول کو درپیش خطرات ڈولفن کے لیے سنجیدہ مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ آلودگی، کشتیوں کی بڑھتی ہوئی آمد و رفت اور حد سے زیادہ ماہی گیری نہ صرف مچھلیوں کی تعداد کم کر رہی ہے بلکہ ڈولفن کے روایتی شکار کے طریقوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ جب ماحول بدلتا ہے تو وہ سماجی روایات بھی خطرے میں پڑ جاتی ہیں جو صدیوں میں تشکیل پائی ہیں۔

اسی لیے ماہرین زور دیتے ہیں کہ ساحلی علاقوں کا تحفظ صرف قدرتی حسن یا ماحولیاتی توازن کے لیے نہیں بلکہ ان ذہین مخلوقات کی ثقافت اور بقا کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم نے سمندری ماحول کا خیال نہ رکھا تو ہم صرف جانور ہی نہیں بلکہ ان کے علم، تجربے اور سماجی ورثے کو بھی کھو بیٹھیں گے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.