قدرت نے بعض جانداروں کو ایسی حیرت انگیز صلاحیتیں دی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کو بھی حیران کر دیتی ہیں۔ انہی میں سے ایک ننھا مگر بے حد ذہین کیڑا ہے جسے کیٹی ڈِڈ کہا جاتا ہے۔ یہ کیڑا بظاہر عام سا لگتا ہے، مگر رات کی تاریکی میں یہ ایک نہایت خطرناک شکاری، یعنی چمگادڑ، کو بھی چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چمگادڑ اپنی خوراک تلاش کرنے کے لیے سونار یا الٹراسونک آوازوں کا سہارا لیتی ہے، لیکن کیٹی ڈِڈ نے اس نظام کے خلاف ایک مکمل دفاعی حکمتِ عملی بنا رکھی ہے۔
چمگادڑ رات کے وقت فضا میں الٹراسونک لہریں خارج کرتی ہے۔ یہ لہریں کسی شے سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں، اور چمگادڑ انہی بازگشتی آوازوں کی مدد سے اپنے شکار کا مقام، رفتار اور سمت کا اندازہ لگاتی ہے۔ یوں سمجھیں کہ یہ اس کا ریڈار سسٹم ہے۔ زیادہ تر کیڑے اس نظام کے سامنے بے بس ہوتے ہیں، مگر کیٹی ڈِڈ ایسا نہیں۔ اس کے کان اس قدر حساس ہوتے ہیں کہ وہ چمگادڑ کی آواز کو بہت دور سے سن لیتا ہے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب چمگادڑ ابھی حملے کی تیاری میں ہو۔
جیسے ہی کیٹی ڈِڈ کو خطرے کا احساس ہوتا ہے، وہ فوراً اپنی حکمتِ عملی بدل لیتا ہے۔ سب سے پہلا قدم خاموشی ہے۔ کیٹی ڈِڈ عام حالات میں آواز نکال سکتا ہے، لیکن خطرے کے وقت وہ مکمل خاموش ہو جاتا ہے تاکہ چمگادڑ کو اس کی موجودگی کا کوئی اشارہ نہ ملے۔ آواز بند کرنا اس کا پہلا دفاعی حصار ہے۔
خاموشی کے بعد دوسرا مرحلہ چھپنا ہے۔ کیٹی ڈِڈ کا جسم عموماً پتوں جیسا ہوتا ہے، رنگ اور ساخت دونوں میں۔ یہ خاصیت اسے قدرتی طور پر کیموفلاج فراہم کرتی ہے۔ جب وہ پتے کے نیچے یا شاخ کے ساتھ چپک جاتا ہے تو اسے دیکھنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طرح چمگادڑ کا سونار بھی اکثر دھوکہ کھا جاتا ہے، کیونکہ واپس آنے والی آوازیں واضح تصویر نہیں بنا پاتیں۔
لیکن کیٹی ڈِڈ کا سب سے حیران کن ہتھیار ابھی باقی ہے۔ بعض اقسام کے کیٹی ڈِڈ خطرے کے وقت خود الٹراسونک آوازیں پیدا کرتے ہیں۔ یہ آوازیں اتنی تیز اور بے ترتیب ہوتی ہیں کہ چمگادڑ کا ریڈار سسٹم الجھ جاتا ہے۔ یوں سمجھیں جیسے کسی جہاز کے ریڈار میں اچانک بے شمار جھوٹے سگنل آ جائیں۔ چمگادڑ کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اصل ہدف کہاں ہے، اور وہ یا تو راستہ بدل لیتی ہے یا حملہ ناکام ہو جاتا ہے۔
یہ صلاحیت کسی جدید مشین سے کم نہیں۔ ایک چھوٹا سا کیڑا، جس کے پاس نہ دماغی طاقت زیادہ ہے اور نہ جسمانی قوت، صرف قدرتی ارتقا کی بدولت ایسا دفاعی نظام رکھتا ہے جو ایک ماہر شکاری کو بھی ناکام بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین حیاتیات کیٹی ڈِڈ کو بقا کی ایک شاندار مثال قرار دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیٹی ڈِڈ نے سیکھا نہیں بلکہ اسے وراثت میں ملا ہے۔ لاکھوں سال کے ارتقائی عمل کے دوران وہ کیڑے زندہ بچتے رہے جو چمگادڑ کے حملوں سے بچنے کے بہتر طریقے رکھتے تھے۔ یوں آہستہ آہستہ کیٹی ڈِڈ میں یہ صلاحیتیں مضبوط ہوتی گئیں۔ آج یہ کیڑا نہ صرف خود کو بچاتا ہے بلکہ سائنس دانوں کے لیے تحقیق کا ایک قیمتی موضوع بھی بن چکا ہے۔
جدید سائنس میں ریڈار، سونار اور اسٹیلتھ ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے ماہرین بھی کیٹی ڈِڈ جیسے جانداروں سے متاثر ہوتے ہیں۔ قدرت کے یہ قدرتی دفاعی نظام انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ کم وسائل کے باوجود مؤثر حل کیسے نکالا جا سکتا ہے۔ ایک کیڑا، جو بظاہر معمولی ہے، حقیقت میں ایک چلتا پھرتا دفاعی ماڈل ہے۔
یوں کیٹی ڈِڈ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ طاقت ہمیشہ جسامت یا ہتھیاروں میں نہیں ہوتی، بلکہ سمجھداری، وقت پر ردِعمل اور درست حکمتِ عملی میں ہوتی ہے۔ رات کے اندھیرے میں، جب چمگادڑ خود کو آسمان کا بے تاج بادشاہ سمجھتی ہے، تب یہی ننھا سا کیڑا اس کے ریڈار کو ناکارہ بنا کر خاموشی سے زندگی کی جنگ جیت لیتا ہے۔
