یہ گردن غلطی نہیں تھی، یہی بقا کا راز بن گئی



اگر آپ پہلی بار اس کیڑے کو دیکھیں تو سب سے پہلے اس کی گردن آپ کی توجہ کھینچتی ہے۔ ایک لمبی، غیر معمولی اور حیران کن گردن، جو بظاہر کسی غلطی کا نتیجہ لگتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی قدرتی حادثہ نہیں بلکہ ارتقا کا ایک شاندار شاہکار ہے۔ اس کیڑے کو جراف ویول کہا جاتا ہے، اور اس کی گردن بعض اوقات اس کے پورے جسم سے بھی زیادہ لمبی ہو جاتی ہے۔

جراف ویول کا تعلق مڈغاسکر کے جنگلات سے ہے، جہاں قدرت نے اسے ایک انوکھا روپ دیا۔ اس کی غیر معمولی گردن کو دیکھ کر اکثر لوگ حیران رہ جاتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ آخر اس قدر لمبی گردن کی ضرورت کیا تھی؟ اس کا جواب ہمیں قدرت کے سخت اصولوں میں ملتا ہے، جہاں ہر جسمانی خاصیت بقا اور نسل کو آگے بڑھانے کے لیے کسی نہ کسی مقصد سے جڑی ہوتی ہے۔

نر جراف ویول کے لیے اس کی گردن طاقت اور برتری کی علامت ہے۔ جب افزائشِ نسل کا موسم آتا ہے تو نر کیڑے ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں۔ یہ لڑائی عام لڑائی جیسی نہیں ہوتی بلکہ ایک قسم کی کشتی ہوتی ہے۔ نر جراف ویول اپنی لمبی گردنوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کو دھکیلتے، گراتے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جس نر کی گردن زیادہ مضبوط اور لمبی ہوتی ہے، وہ عموماً میدان جیت لیتا ہے اور مادہ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔

یوں یہ لمبی گردن صرف خوبصورتی یا عجیب پن کے لیے نہیں بلکہ نسل کو آگے بڑھانے کا ایک اہم ہتھیار ہے۔ قدرت نے اسے وہ فائدہ دیا جس کی بدولت مضبوط نر منتخب ہوتے ہیں اور ان کی خصوصیات اگلی نسل میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جراف ویول کی گردن صرف نر کی لڑائی تک محدود نہیں۔ مادہ جراف ویول کے لیے بھی یہ گردن ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر بالکل مختلف انداز میں۔ جب مادہ انڈا دینے کا وقت آتا ہے تو وہ ایک پتے کا انتخاب کرتی ہے۔ اپنی لمبی گردن اور مضبوط جبڑوں کی مدد سے وہ اس پتے کو آہستہ آہستہ لپیٹنا شروع کرتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک نلکی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

اس پتے کے اندر مادہ اپنا انڈا رکھ دیتی ہے۔ یہ نلکی نما پتا انڈے کو دشمنوں، موسم کی سختیوں اور دیگر خطرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ یوں ایک عجیب سی دکھائی دینے والی گردن دراصل آنے والی نسل کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

یہاں ہمیں ارتقا کی ایک خوبصورت مثال نظر آتی ہے۔ جو چیز بظاہر غیر فطری یا عجیب لگتی ہے، وہ دراصل زندگی کو بچانے اور آگے بڑھانے کا ایک مؤثر طریقہ ہوتی ہے۔ جراف ویول کی گردن نہ ہوتی تو نہ نر اپنی طاقت ثابت کر پاتے اور نہ ہی مادہ اپنے انڈوں کو اس قدر محفوظ بنا سکتی۔

ماہرین حیاتیات کے مطابق جراف ویول کی گردن لاکھوں سال کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ وقت کے ساتھ وہ کیڑے زیادہ کامیاب رہے جن کی گردنیں لمبی اور مضبوط تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اس کیڑے کو اس منفرد شکل میں دیکھتے ہیں۔ قدرت نے اسے وہی شکل دی جو اس کے ماحول اور ضروریات کے عین مطابق تھی۔

جراف ویول ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قدرت میں خوبصورتی ہمیشہ روایتی معیار کے مطابق نہیں ہوتی۔ بعض اوقات عجیب نظر آنے والی چیزیں ہی سب سے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ ایک لمبی گردن، جو ابتدا میں کمزوری لگ سکتی تھی، دراصل اس کیڑے کی سب سے بڑی طاقت بن گئی۔

یوں جراف ویول کی کہانی ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ارتقا کوئی بے مقصد عمل نہیں۔ ہر جسمانی تبدیلی کے پیچھے ایک وجہ ہوتی ہے، ایک ضرورت ہوتی ہے۔ جو چیز ہمیں عجیب لگے، وہ دراصل فطرت کی گہری سمجھ اور توازن کا ثبوت ہو سکتی ہے۔ جراف ویول کی لمبی گردن اسی حقیقت کی ایک زندہ مثال ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.