پتنگ: ایک سادہ کھلونا یا تہذیبوں، جنگوں اور ایجادات کی بنیاد؟


پتنگ: ایک سادہ کھلونا یا تہذیبوں، جنگوں اور ایجادات کی بنیاد؟

جب بھی بہار کا موسم آتا ہے اور آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا ہے تو زیادہ تر لوگ اسے محض ایک تہوار یا کھیل سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پتنگ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی ان چند چیزوں میں شامل ہے جنہوں نے جنگوں، سائنس، ثقافت اور حتیٰ کہ ہوائی جہاز جیسی عظیم ایجاد کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فروری کے پہلے ہفتے بسنت کا میلہ دو دہائیوں بعد دوبارہ منعقد ہونا اسی بات کی یاد دہانی ہے کہ پتنگ بازی محض کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس تہوار کی اجازت ضرور دی، مگر سخت شرائط کے ساتھ، تاکہ خوشی کا یہ موقع کسی کے لیے جان لیوا ثابت نہ ہو۔ یہ احتیاط اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پتنگ بازی کے انداز اور اس کے اثرات بدل چکے ہیں۔

بسنت، مکر سنکرانتی اور اترائین

پاکستان میں بسنت کو بہار کی آمد کا جشن سمجھا جاتا ہے، جبکہ بھارت میں یہی تہوار مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ 14 جنوری کو بھارت میں مکر سنکرانتی یا اترائین منائی جاتی ہے، جس کے دوران آسمان پتنگوں سے بھر جاتا ہے۔ گجرات، راجستھان اور دیگر علاقوں میں یہ دن ایک قومی تہوار جیسی حیثیت رکھتا ہے۔

بھارت کے شہر احمد آباد میں ہر سال بین الاقوامی پتنگ میلہ منعقد ہوتا ہے، جہاں دنیا بھر سے پتنگ باز شریک ہوتے ہیں۔ روس، یوکرین، اسرائیل، اردن، آسٹریلیا، انڈونیشیا، چلی، کولمبیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک سے آنے والے شرکا اس بات کا ثبوت ہیں کہ پتنگ بازی کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی روایت ہے۔

پتنگ کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟

اگرچہ آج پتنگ بازی پاکستان اور بھارت سے منسوب کی جاتی ہے، مگر اس کی اصل ابتدا چین سے ہوئی مانی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً دو ہزار سال قبل چین میں پتنگیں بنائی اور اڑائی جاتی تھیں۔ امریکن کائٹ فلائرز ایسوسی ایشن کے مطابق زیادہ تر محققین اس بات پر متفق ہیں کہ پتنگ سب سے پہلے چین میں ایجاد ہوئی۔

البتہ کچھ شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا، خاص طور پر ملائیشیا، انڈونیشیا اور جنوبی بحرالکاہل کے علاقوں میں لوگ پتوں، بانس اور سرکنڈوں سے بنی ہوئی پتنگوں کو ماہی گیری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مختلف تہذیبوں میں پتنگ نے مختلف شکلیں اور مقاصد اختیار کیے۔

قدیم چین اور پتنگ کا سائنسی استعمال

450 قبل مسیح میں چین کے مشہور فلسفی موزی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لکڑی سے ایک پرندہ نما ساخت تیار کی، جو تار کے ذریعے اڑ سکتی تھی۔ کچھ لوگ اسے دنیا کی پہلی پتنگ قرار دیتے ہیں، اگرچہ اس پر ماہرین کے درمیان اختلاف موجود ہے۔

پتنگ کا سب سے قدیم تحریری ذکر 200 قبل مسیح کے چینی متون میں ملتا ہے۔ ہان خاندان کے ایک فوجی جنرل ہان زن نے جنگ کے دوران پتنگ کو ایک انوکھے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے شہر کی فصیل پر حملے سے قبل پتنگ اڑا کر اس بات کا اندازہ لگایا کہ دیوار کے نیچے سرنگ کتنی لمبی ہونی چاہیے۔ یہ تاریخ میں پتنگ کے عسکری استعمال کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔

پتنگ کا ایشیا اور برصغیر تک سفر

13ویں صدی تک چینی تاجر اور سیاح پتنگوں کو کوریا، ہندوستان، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے دیگر علاقوں تک لے گئے۔ ہر علاقے نے پتنگ کو اپنی ثقافت کے مطابق ڈھال لیا۔ کہیں یہ مذہبی علامت بنی، کہیں کھیل اور کہیں مقابلے کا ذریعہ۔

برصغیر میں پتنگ بازی کی تاریخ مغل دور سے جڑی ہوئی سمجھی جاتی ہے۔ 1500 عیسوی کی منی ایچر پینٹنگز میں نوجوانوں کو پتنگ کے ذریعے پیغامات بھیجتے دکھایا گیا ہے۔ اس دور میں جب سماجی پابندیاں سخت تھیں، پتنگ ایک خاموش پیغام رساں بھی بن گئی۔

گجرات کی سرزمین، جہاں ہندو اور مسلم ثقافتوں کا ملاپ ہے، پتنگ بازی کا ایک اہم مرکز رہی ہے۔ یہاں مسلمان تاجروں یا چینی بدھ راہبوں کے ذریعے پتنگ کا رواج پھیلا، جو بعد میں ہندو تہواروں کا حصہ بن گیا۔

مذہب، شاعری اور ثقافت میں پتنگ

ابتدائی طور پر پتنگ کو بعض علاقوں میں مذہبی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ لوگ اپنی دعائیں اور خواہشات آسمان تک پہنچانے کے لیے پتنگ اڑاتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ عمل ایک اجتماعی خوشی میں بدل گیا اور پتنگ میلے وجود میں آئے۔

اردو اور فارسی شاعری میں پتنگ کو آزادی، محبت، جدائی اور خوابوں کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ کہیں پتنگ کی ڈور محبوب سے تعلق کی مثال بنی اور کہیں اس کی کٹ جانا جدائی کا استعارہ۔

جنگوں میں پتنگ کا کردار

پتنگ کا استعمال صرف تہواروں تک محدود نہیں رہا۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ، فرانس، اٹلی اور روس نے پتنگ بازی کے خصوصی یونٹ قائم کیے۔ ان پتنگوں کو دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور پیغامات پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

دوسری عالمی جنگ میں امریکی بحریہ نے پتنگوں کو فضائی مشقوں، ریسکیو آپریشنز اور نشانہ بازی کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔ واشنگٹن کے ورلڈ کائٹ میوزیم میں آج بھی ایک مخصوص کمرہ موجود ہے جہاں صرف جنگی پتنگیں رکھی گئی ہیں۔

ایک خاص قسم کی پتنگ، جسے بیراج پتنگ کہا جاتا ہے، تجارتی جہازوں کے دفاع کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ اس پتنگ سے جڑی تار دشمن کے طیاروں کے لیے خطرہ بن جاتی اور ان کے پروں کو نقصان پہنچا سکتی تھی۔

کیا ہوائی جہاز کا خیال پتنگ سے آیا؟

یہ سوال سننے میں عجیب لگتا ہے، مگر اس کا جواب تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ ہوائی جہاز کے موجد رائٹ برادران پتنگ بازی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے برسوں تک پتنگوں کے ذریعے ہوا کے دباؤ، توازن اور پرواز کے اصولوں کا مطالعہ کیا۔

1899 میں انہوں نے ایک خاص بائپلین پتنگ بنائی، جس میں چار تاروں کے ذریعے پروں کو موڑا جا سکتا تھا، بالکل اسی طرح جیسے پرندے اپنے پروں کو حرکت دیتے ہیں۔ یہی تجربات بعد میں ہوائی جہاز کی ایجاد کا سبب بنے۔

اسی طرح الیگزینڈر گراہم بیل نے 1901 میں ٹیٹراہیڈرل پتنگ تیار کی، جو اپنی مضبوطی کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ اس پتنگ نے بعد میں تقریباً 130 کلوگرام وزن اٹھا کر یہ ثابت کیا کہ ہوا میں اٹھنے کی طاقت کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

پتنگ محض کاغذ، لکڑی اور ڈور کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی ذہانت، تخلیق اور جستجو کی علامت ہے۔ اس نے کبھی جنگوں کا رخ بدلا، کبھی محبت کے پیغامات پہنچائے اور کبھی انسان کو آسمانوں تک پہنچنے کا خواب دکھایا۔ آج جب ہم پتنگ کو تفریح سمجھ کر اڑاتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہی سادہ سی چیز انسانی تاریخ کی کئی عظیم کہانیوں سے جڑی ہوئی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.