تولیدی طب کی تاریخ میں ایک غیر معمولی سنگِ میل عبور کیا جا چکا ہے۔ دنیا میں پہلی بار ایک ایسا بچہ پیدا ہوا ہے جسے سائنس دان “فرٹائلو بے بی” کا نام دے رہے ہیں۔ اس بچے کی پیدائش جدید ترین اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوئی، جس کے ذریعے ماں کے انڈوں کو مکمل طور پر جسم سے باہر، لیبارٹری میں پختہ کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انسان میں لیبارٹری میں تیار کیے گئے انڈوں کے ذریعے کامیاب پیدائش ہوئی ہو، اور یہی بات اس کامیابی کو خاص بناتی ہے۔
عام حالات میں عورت کے انڈے بیضہ دانی کے اندر ہی پختہ ہوتے ہیں۔ اس عمل کے لیے جسم میں قدرتی ہارمونز کا توازن ضروری ہوتا ہے، یا پھر آئی وی ایف جیسے طریقوں میں اضافی ہارمونز دیے جاتے ہیں تاکہ انڈے تیار ہو سکیں۔ لیکن اس نئی تکنیک میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اس میں بیضہ دانی سے ایسے انڈے حاصل کیے جاتے ہیں جو ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے۔ ان ناپختہ انڈوں کو ایک خاص لیبارٹری ماحول میں رکھا جاتا ہے، جہاں اسٹیم سیلز کی مدد سے انہیں پختگی کے تمام مراحل سے گزارا جاتا ہے۔
جب یہ انڈے مکمل طور پر تیار ہو جاتے ہیں تو انہیں اسپرم کے ساتھ فرٹیلائز کیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے روایتی آئی وی ایف میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد بننے والے ایمبریو کو دوبارہ ماں کے رحم میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس پورے عمل میں ماں کے جسم کو ہارمونز کے شدید اثرات سے نہیں گزرنا پڑتا، اور نہ ہی مکمل اوویولیشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ طریقہ خاص طور پر ان خواتین کے لیے امید کی نئی روشنی بن کر سامنے آیا ہے جو بانجھ پن کا سامنا کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ خواتین جن میں وقت سے پہلے بیضہ دانی کام کرنا چھوڑ دیتی ہے، یا وہ کینسر کے مریض جو علاج کے دوران اپنی زرخیزی کھو بیٹھتے ہیں، یا پھر وہ عورتیں جن کے پاس انڈوں کی تعداد بہت کم رہ جاتی ہے۔ ایسی خواتین کے لیے روایتی طریقے اکثر ناکام ثابت ہوتے ہیں، لیکن لیبارٹری میں انڈوں کو پختہ کرنے کی یہ ٹیکنالوجی ان کے لیے ایک نیا راستہ کھول سکتی ہے۔
اس طریقے کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس میں ہارمونز کے زیادہ استعمال سے بچا جا سکتا ہے۔ روایتی فرٹیلٹی ٹریٹمنٹس میں خواتین کو کئی ہفتوں تک انجیکشنز اور دوائیں لینا پڑتی ہیں، جو نہ صرف جسمانی طور پر مشکل ہوتی ہیں بلکہ مالی طور پر بھی بوجھ بن سکتی ہیں۔ اس نئی تکنیک کے ذریعے یہ عمل نسبتاً آسان، محفوظ اور کم خرچ ہو سکتا ہے۔
“فرٹائلو بے بی” کی اصطلاح دراصل اس مخصوص پلیٹ فارم سے لی گئی ہے جو اسٹیم سیل سائنس اور تولیدی طب کو یکجا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک نیا طریقہ نہیں بلکہ انسانی تولید کے بارے میں سوچنے کا ایک نیا انداز ہے۔ اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی انڈے جسم سے باہر بھی قدرتی انداز میں نشوونما پا سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح ماحول فراہم کیا جائے۔
اس بچے کی پیدائش مکمل مدت کے بعد ہوئی اور ڈاکٹرز کے مطابق بچہ بالکل صحت مند ہے۔ اس کی نشوونما پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ طویل مدت میں بھی اس کی صحت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، لیکن پھر بھی مزید وقت اور تحقیق درکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی فرٹیلٹی کیئر کو یکسر بدل سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ خواتین جو کسی وجہ سے انڈے نکالنے کے روایتی عمل سے نہیں گزر سکتیں، یا وہ جو کم عمری میں اپنی زرخیزی محفوظ کرنا چاہتی ہیں، ان کے لیے یہ طریقہ بے حد فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، نوجوان خواتین اپنے ناپختہ انڈے محفوظ کروا سکتی ہیں اور بعد میں انہیں لیبارٹری میں پختہ کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال یہ طریقہ کلینیکل آزمائشوں کے ابتدائی مراحل میں ہے اور ہر جگہ دستیاب نہیں۔ تاہم ماہرین پرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ تکنیک زیادہ عام ہو جائے گی اور لاکھوں خاندانوں کے لیے خوشی کا باعث بنے گی۔
یوں یہ سائنسی کامیابی صرف ایک بچے کی پیدائش نہیں بلکہ ان تمام افراد کے لیے امید کی علامت ہے جو برسوں سے والدین بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ایک نیا راستہ، ایک نئی امید اور تولیدی طب کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔
.png)