آرکٹک کا مسکراتا ریچھ: سکون کا لمحہ یا بدلتی دنیا کا اشارہ؟


گرمیوں کے موسم میں جب آرکٹک کا برفانی منظر کچھ نرم پڑ جاتا ہے اور سمندری برف کے ٹکڑے بکھرنے لگتے ہیں، ایک پولر بیئر کو ٹھنڈے پانی میں پیٹھ کے بل تیرتے ہوئے فلمایا گیا۔ منظر حیران کن حد تک پُرسکون تھا۔ وہ طاقتور جانور جو عام طور پر سخت حالات میں بقا کی علامت سمجھا جاتا ہے، اس لمحے میں نہایت مطمئن اور بے فکر دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے آہستگی سے اپنا ایک پنجہ اوپر اٹھایا، جیسے کسی کو دوستانہ اشارہ کر رہا ہو۔ یہی سادہ سا لمحہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔

لوگوں کو اس ویڈیو میں ایک مختلف پہلو نظر آیا۔ عموماً قطبی ریچھ کو برفانی میدانوں میں شکار کرتے یا طویل فاصلے طے کرتے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی زندگی جدوجہد اور طاقت سے جڑی ہوئی ہے۔ مگر یہاں وہ پانی کی سطح پر ہلکے ہلکے جھولتا ہوا دکھائی دیا، جیسے چند لمحوں کے لیے دنیا کی سختیوں سے آزاد ہو گیا ہو۔ اس منظر نے بہت سوں کے دلوں میں نرمی پیدا کی۔

ماہرین کے مطابق یہ طرزِ عمل غیر معمولی نہیں، بلکہ ایک حکمتِ عملی ہے۔ آرکٹک کی گرمیوں میں جب برف تیزی سے پگھلتی ہے، پولر بیئر کو خوراک کی تلاش میں زیادہ فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ پہلے وہ برفانی چادروں پر چلتے ہوئے شکار تک پہنچ جاتے تھے، مگر اب انہیں اکثر کھلے پانی میں تیرنا پڑتا ہے۔ طویل تیراکی توانائی طلب عمل ہے، اس لیے درمیان میں رک کر پانی میں آرام کرنا ان کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔

پیٹھ کے بل تیرنا دراصل توانائی بچانے کا ایک طریقہ ہے۔ اس حالت میں جسم کا بڑا حصہ پانی پر ٹکا رہتا ہے اور پٹھوں پر دباؤ کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹھنڈا پانی گرمی کے اثر کو کم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ یوں وہ اپنی طاقت بحال کر کے دوبارہ سفر یا شکار کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

اگرچہ یہ منظر خوشگوار اور ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بڑی حقیقت بھی چھپی ہے۔ آرکٹک کا ماحول تیزی سے بدل رہا ہے۔ سمندری برف ہر سال پہلے کے مقابلے میں جلد پگھلتی ہے اور دیر سے جمتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولر بیئر کو شکار کے لیے کم وقت اور زیادہ محنت ملتی ہے۔ انہیں پہلے سے زیادہ تیرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی توانائی جلد ختم ہو سکتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ برف کی کمی براہِ راست ان کی خوراک تک رسائی پر اثر ڈالتی ہے۔ وہ عموماً سیل کا شکار برف کے کناروں سے کرتے ہیں۔ جب وہ کنارے کم ہو جائیں تو شکار بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے گرمیوں کے مہینے ان کے لیے خاص طور پر چیلنج بن چکے ہیں۔

اس وائرل ویڈیو نے لوگوں کو ایک خوبصورت لمحہ ضرور دکھایا، مگر ساتھ ہی یہ یاد دہانی بھی کرائی کہ ان جانوروں کی بقا کا دارومدار ایک نازک توازن پر ہے۔ ہم انہیں دور دراز خطے میں رہنے والی مخلوق سمجھتے ہیں، مگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ان کی زندگی کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔

ایسے مناظر کم ہی کیمرے میں قید ہو پاتے ہیں۔ وسیع اور سرد سمندر میں ایک تنہا ریچھ کا اس طرح آرام کرنا واقعی خاص لمحہ ہے۔ یہ ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم ان کی روزمرہ جدوجہد کو قریب سے سمجھ سکیں۔ وہ صرف طاقتور شکاری نہیں بلکہ ماحول کے ساتھ مسلسل ہم آہنگ ہونے والی مخلوق ہیں۔

آخرکار، اس مختصر ویڈیو نے دو پہلو سامنے رکھے۔ ایک طرف سکون اور معصومیت کا احساس، اور دوسری طرف بدلتی دنیا کی حقیقت۔ ایک لمحے کے لیے تیرتا ہوا ریچھ ہمیں مسکرا دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے کہ اگر برف کا سلسلہ اسی رفتار سے کم ہوتا رہا تو آنے والی نسلیں شاید ایسے مناظر کم ہی دیکھ سکیں۔

قدرتی حیات کی حفاظت صرف دور دراز علاقوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ عالمی ذمہ داری ہے۔ پولر بیئر کا وہ پرسکون لمحہ خوبصورت ضرور تھا، مگر اس کے پیچھے ایک پیغام بھی تھا کہ توازن برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.