خاموشی کا جادو: کیا سکون دماغ کو بڑھا سکتا ہے؟


ایک نئی تحقیق نے ذہن کے بارے میں ہماری عام سوچ کو چیلنج کر دیا ہے۔ نتائج کے مطابق روزانہ صرف دو گھنٹے کی خاموشی دماغ میں نئے خلیات کی افزائش میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ بات سن کر بہت سے لوگ حیران ہوئے، کیونکہ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ سیکھنے اور ذہنی ترقی کے لیے مسلسل مصروف رہنا ضروری ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ کتابیں، لیکچرز، ویڈیوز اور مسلسل معلومات ہی ذہن کو مضبوط بناتی ہیں۔ مگر یہ تحقیق ایک مختلف زاویہ پیش کرتی ہے۔

سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا کہ جب ماحول پُرسکون ہو اور بیرونی شور کم ہو جائے تو دماغ دراصل غیر فعال نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، وہ اندرونی سطح پر متحرک ہو جاتا ہے۔ خاموشی کے دوران دماغ اپنے نیورل نیٹ ورکس کو منظم کرتا ہے، کمزور رابطوں کو مضبوط بناتا ہے اور یادداشت سے متعلق حصوں میں سرگرمی بڑھ جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ علاقے جو توجہ، سیکھنے اور جذباتی توازن سے جڑے ہوتے ہیں، خاموشی کے وقت زیادہ فعال دکھائی دیے۔

یہ خیال ہماری جدید طرزِ زندگی کے بالکل برعکس ہے۔ آج کا انسان تقریباً ہر وقت کسی نہ کسی آواز میں گھرا رہتا ہے۔ موبائل فون کی گھنٹیاں، سوشل میڈیا کی اطلاعات، ٹی وی، موسیقی، ٹریفک کا شور، یہ سب ذہن کو مسلسل مصروف رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ آرام کے لمحات میں بھی ہم مکمل سکون کو کم ہی قبول کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کو مکمل خاموشی بے چینی کا احساس دلاتی ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ خاموشی دراصل دماغ کے لیے مرمت کا وقت ہے۔ جیسے جسم کو نیند کی ضرورت ہوتی ہے، ویسے ہی ذہن کو بھی وقفے درکار ہوتے ہیں جہاں وہ بیرونی محرکات سے آزاد ہو کر خود کو ترتیب دے سکے۔ اس دوران یادداشت سے جڑی معلومات بہتر انداز میں محفوظ ہو سکتی ہیں اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عمل صرف سکون کا احساس نہیں بلکہ حقیقی حیاتیاتی تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے۔ دماغ میں نئے خلیات کی افزائش، جسے نیورو جینیسس کہا جاتا ہے، سیکھنے اور یادداشت کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر خاموشی اس عمل کو تقویت دیتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ سادہ سا سکون بھی ذہنی صحت کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔

ہم عموماً یہ سوچتے ہیں کہ جتنا زیادہ مصروف رہیں گے، اتنا ہی زیادہ سیکھیں گے۔ مگر اس تحقیق کے مطابق مسلسل شور اور معلومات کا بہاؤ دماغ کو تھکا سکتا ہے۔ بغیر وقفے کے کام کرنے سے توجہ بکھر سکتی ہے اور یادداشت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس، دن میں کچھ وقت کے لیے خاموش بیٹھنا یا بغیر کسی اسکرین کے پرسکون ماحول میں رہنا ذہن کو دوبارہ توانائی دے سکتا ہے۔

یہ ضروری نہیں کہ خاموشی کا مطلب کسی خاص مشق یا تکنیک ہو۔ سادہ سا عمل جیسے پارک میں بیٹھنا، بغیر موسیقی کے چہل قدمی کرنا، یا چند لمحے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لینا بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ دماغ کو بیرونی شور سے کچھ دیر کے لیے آزاد کر دیا جائے۔

ایک اور اہم پہلو جذباتی توازن کا ہے۔ خاموشی کے دوران دماغ اپنے احساسات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے۔ روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں ہم اکثر اپنے جذبات کو دبائے رکھتے ہیں یا ان پر توجہ نہیں دے پاتے۔ سکون کے لمحات ہمیں موقع دیتے ہیں کہ ہم اپنے خیالات کو ترتیب دیں اور ذہنی دباؤ کو کم کریں۔

آج کے دور میں جہاں ہر طرف معلومات کی بھرمار ہے، خاموشی نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ مگر شاید یہی نایابی اسے اور بھی قیمتی بناتی ہے۔ یہ تحقیق ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی صرف بیرونی محرکات سے نہیں بلکہ اندرونی ترتیب سے بھی آتی ہے۔ ذہن کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری نہیں کہ ہم ہر وقت کچھ سنتے یا دیکھتے رہیں۔

آخرکار، دن میں دو گھنٹے مکمل خاموشی شاید ہر کسی کے لیے ممکن نہ ہو، مگر چھوٹے چھوٹے وقفے بھی فائدہ دے سکتے ہیں۔ یہ کوئی سستی یا وقت کا ضیاع نہیں بلکہ ذہنی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے۔ اگر ہم اپنے دماغ کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو شور سے دوری اختیار کرنا ایک سادہ مگر مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.