کولیسٹرول: دشمن نہیں، راز؟ نئی تحقیق نے پرانی سوچ کو بدل دیا

کولیسٹرول: دشمن نہیں، راز؟ نئی تحقیق نے پرانی سوچ کو بدل دیا

کئی دہائیوں تک طب کی دنیا میں کولیسٹرول کو تقریباً ایک ہی زاویے سے دیکھا جاتا رہا۔ عام تاثر یہ تھا کہ جتنا کولیسٹرول کم ہوگا، صحت اتنی بہتر ہوگی۔ دل کی بیماریوں، فالج اور دیگر مسائل کا ذکر آتے ہی کولیسٹرول کو مرکزی ملزم سمجھ لیا جاتا تھا۔ مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہے، جو اس پرانے تصور کو چیلنج کر رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں کی گئی طویل المدتی آبادیاتی تحقیقات نے ایک حیران کن رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ان مطالعات کے مطابق کچھ ایسے افراد جن کے جسم میں قدرتی طور پر کولیسٹرول کی سطح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، وہ نہ صرف زیادہ عمر پاتے ہیں بلکہ ان میں بعض اقسام کے کینسر کی شرح بھی کم دیکھی گئی ہے۔ یہ نتائج اس سادہ سوچ کے خلاف ہیں جس میں کولیسٹرول کو صرف نقصان دہ عنصر سمجھا جاتا رہا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق کولیسٹرول دراصل انسانی جسم میں کئی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ صرف خون کی نالیوں میں جمع ہونے والا مادہ نہیں بلکہ ہارمونز کی تیاری، خلیوں کی مرمت، دماغی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، کئی اہم ہارمونز جیسے ٹیسٹوسٹیرون اور ایسٹروجن کی تیاری میں کولیسٹرول بنیادی جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح دماغ کے خلیے بھی بڑی مقدار میں کولیسٹرول پر انحصار کرتے ہیں تاکہ پیغامات کو درست انداز میں منتقل کیا جا سکے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں مرمت اور حفاظت کے عمل سست ہو جاتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے میں کولیسٹرول ایک حفاظتی حیاتیاتی ذخیرے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ خلیوں کو مضبوط رکھنے، سوزش کے خلاف دفاع کرنے اور دائمی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض بزرگ افراد میں نسبتاً زیادہ کولیسٹرول ہونے کے باوجود وہ مجموعی طور پر بہتر صحت میں نظر آتے ہیں۔

اس نئی سوچ نے کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کے استعمال پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ کئی محققین کا کہنا ہے کہ سخت اور جارحانہ طریقے سے کولیسٹرول کم کرنا ہر فرد کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں ہوتا۔ خاص طور پر بڑی عمر کے افراد میں، جن کے جسم کو روزمرہ کے افعال کے لیے کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے، بہت کم سطح نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوائیں غیر ضروری ہیں، بلکہ یہ کہ ان کا استعمال ہر شخص کی حالت دیکھ کر ہونا چاہیے۔

طبی ماہرین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کولیسٹرول کو ایک عدد یا ایک لیبل کی صورت میں نہ دیکھا جائے۔ ایل ڈی ایل، ایچ ڈی ایل اور ٹرائی گلیسرائیڈز سب کو ایک ساتھ پرکھنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خوراک، جسم میں سوزش کی سطح، جینیاتی عوامل اور طرزِ زندگی بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ہی شخص میں ایک وقت میں یہ تمام عوامل مل کر صحت یا بیماری کا تعین کرتے ہیں۔

یہ بھی واضح کیا جا رہا ہے کہ دل کی بیماریوں کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جا رہا۔ ہائی کولیسٹرول بعض حالات میں واقعی خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب اس کے ساتھ دیگر مسائل جیسے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا تمباکو نوشی شامل ہوں۔ مگر نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ کولیسٹرول کو صرف دل کی صحت تک محدود کر کے دیکھنا درست نہیں۔ اس کے اثرات پورے جسم پر پڑتے ہیں، اور ہر فرد میں یہ اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔

اس بدلتی ہوئی سائنسی سوچ نے طبی برادری میں خاصی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ ڈاکٹر اب بھی پرانے اصولوں پر قائم ہیں، جبکہ دیگر نئی تحقیق کی روشنی میں زیادہ متوازن نقطۂ نظر اپنانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس بحث کا مثبت پہلو یہ ہے کہ مریضوں کے علاج کو زیادہ ذاتی اور انفرادی بنانے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مستقبل میں کولیسٹرول سے متعلق رہنما اصول یکساں نہیں ہوں گے۔ ممکن ہے کہ ہر مریض کے لیے الگ ہدف مقرر کیا جائے، جو اس کی عمر، صحت، جینیات اور روزمرہ عادات کو مدنظر رکھ کر طے کیا جائے۔ یوں علاج کا مقصد صرف نمبرز کم کرنا نہیں ہوگا بلکہ جسم کی اصل ضروریات کو سمجھنا ہوگا۔

آخرکار، یہ نئی تحقیق ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔ انسانی جسم پیچیدہ ہے اور اسے سادہ فارمولوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ کولیسٹرول نہ مکمل دشمن ہے اور نہ ہی مکمل دوست۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کا کردار حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ بہتر صحت کے لیے ضروری ہے کہ ہم پرانے تصورات پر نظرِ ثانی کریں اور سائنس کی نئی روشنی میں زیادہ سمجھداری سے فیصلے کریں۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.