آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے دماغی علاج کے میدان میں ایک ایسا نیا راستہ متعارف کروایا ہے جو مستقبل میں نیورو سائنس کی سمت بدل سکتا ہے۔ اس تحقیق کا مرکز ایک جدید تکنیک ہے جس میں سرجری کے بغیر، صرف آواز کی مخصوص لہروں کے ذریعے دماغ میں شفا کے عمل کو متحرک کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے امید بن کر سامنے آیا ہے جو دماغی چوٹ یا بیماری کے بعد طویل اور مشکل بحالی کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔
یہ طریقہ الٹراساؤنڈ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، مگر وہ الٹراساؤنڈ نہیں جو عام طور پر میڈیکل اسکین میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں کم شدت کی، نہایت باریک اور کنٹرول شدہ صوتی لہریں دماغ کے مخصوص حصوں کی طرف بھیجی جاتی ہیں۔ ان لہروں کا مقصد دماغی بافتوں کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ان کے اندر چھپی قدرتی بحالی کی صلاحیت کو جگانا ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق، جب یہ ہلکی الٹراساؤنڈ لہریں درست جگہ پر پہنچتی ہیں تو وہ وقتی طور پر خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ کو نرم کر دیتی ہیں۔ اس عمل کو بلڈ برین بیریئر کا عارضی طور پر کھلنا کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شفا بخش عناصر اور کیمیائی سگنلز دماغ کے ان حصوں تک بہتر انداز میں پہنچ سکتے ہیں جہاں نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ صوتی لہریں نیورل پلاسٹیسٹی کو بھی متحرک کرتی ہیں۔ نیورل پلاسٹیسٹی دراصل دماغ کی وہ صلاحیت ہے جس کے تحت وہ خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔ یعنی اگر کچھ نیورونز خراب ہو جائیں تو دماغ نئے راستے بنا کر کام جاری رکھ سکتا ہے۔ آکسفورڈ کے سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے اس قدرتی عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے، جس سے خراب نیورونز دوبارہ جڑنے یا اپنا کام کسی حد تک بحال کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
لیبارٹری تجربات اور ابتدائی طبی آزمائشوں میں اس تکنیک کے نتائج خاصے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ خاص طور پر فالج کے بعد بحالی، دماغی چوٹ، اور بعض اعصابی بیماریوں میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں۔ وہ مریض جو حرکت، بولنے یا یادداشت جیسے مسائل کا سامنا کر رہے تھے، ان میں کچھ حد تک بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، اگرچہ یہ بہتری ہر فرد میں یکساں نہیں تھی۔
اس طریقۂ علاج کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کا چیرا، امپلانٹ یا پیچیدہ سرجری شامل نہیں۔ روایتی دماغی سرجری نہ صرف خطرناک ہو سکتی ہے بلکہ اس کے بعد انفیکشن، خون بہنے اور طویل بحالی جیسے مسائل بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں الٹراساؤنڈ پر مبنی یہ طریقہ کہیں زیادہ محفوظ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں جسم کے اندر براہِ راست مداخلت نہیں ہوتی۔
تاہم سائنس دان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسے کسی جادوئی علاج کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ تکنیک ابھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے، اور ہر مریض کے لیے اس کے نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ علاج کی کامیابی کا انحصار کئی عوامل پر ہوتا ہے، جیسے چوٹ کی نوعیت، اس کا دورانیہ، مریض کی عمر، اور اس کی حیاتیاتی ساخت۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقے کو عام طبی استعمال میں لانے سے پہلے وسیع پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔ ان آزمائشوں کے ذریعے یہ جانچا جائے گا کہ یہ تکنیک کن حالات میں سب سے زیادہ مؤثر ہے اور کن مریضوں کے لیے کم فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس مرحلے پر احتیاط بے حد ضروری سمجھی جا رہی ہے، تاکہ غیر ضروری توقعات نہ پیدا ہوں۔
اس کے باوجود، نیورو سائنس کے ماہرین اس دریافت کو ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اب تک دماغی بیماریوں کے علاج میں زیادہ تر توجہ مکینیکل یا کیمیائی مداخلت پر رہی ہے۔ یعنی یا تو سرجری کی جاتی تھی یا پھر دواؤں کے ذریعے اثر ڈالا جاتا تھا۔ مگر یہ نئی تحقیق ایک تیسرے راستے کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں بغیر جسم کو نقصان پہنچائے، دماغ کے اپنے نظام کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔
آواز پر مبنی یہ علاج مستقبل میں دماغی امراض کے لیے ایک بالکل نیا باب کھول سکتا ہے۔ اگر تحقیق کامیابی سے آگے بڑھتی ہے تو ممکن ہے کہ ایک دن فالج یا دماغی چوٹ کے بعد بحالی کے لیے آپریشن کے بجائے چند سیشنز پر مشتمل الٹراساؤنڈ تھراپی کافی ہو۔ یہ تصور آج سائنس فکشن لگ سکتا ہے، مگر آکسفورڈ کی یہ تحقیق اسے حقیقت کے قریب لا رہی ہے۔
آخرکار، یہ دریافت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ انسانی دماغ اب بھی ایک حد تک غیر دریافت شدہ دنیا ہے۔ جیسے جیسے سائنس آگے بڑھ رہی ہے، ہم نہ صرف دماغ کو بہتر سمجھ رہے ہیں بلکہ اس کی شفا کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بھی سامنے لا رہے ہیں۔ آواز کی لہروں کے ذریعے دماغی بحالی کا یہ تصور مستقبل کے علاج کو زیادہ محفوظ، مؤثر اور انسان دوست بنا سکتا ہے۔
