دنیا کے کئی حصوں میں صاف پانی کی کمی ایک خاموش بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ کہیں خشک سالی ہے، کہیں زیرِ زمین پانی تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اور کہیں آبادی بڑھنے کے ساتھ وسائل دباؤ میں آ گئے ہیں۔ ایسے حالات میں اسرائیل کی جانب سے تیار کی گئی ایک جدید ٹیکنالوجی نے امید کی ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فضا میں موجود نمی سے صاف اور پینے کے قابل پانی تیار کرتی ہے، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
اس جدید نظام کو ایٹموسفیرک واٹر جنریٹر کہا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا آلہ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے برسوں کی تحقیق، تجربہ اور جدید انجینئرنگ کارفرما ہے۔ اس مشین کا بنیادی اصول قدرتی عمل پر مبنی ہے۔ یہ ہوا کو اپنے اندر کھینچتی ہے، اس میں موجود نمی کو کنڈینسیشن کے ذریعے پانی میں تبدیل کرتی ہے، اور پھر کئی مراحل سے گزار کر اسے پینے کے قابل بناتی ہے۔
اس عمل کے دوران سب سے پہلے ہوا میں موجود گرد و غبار اور آلودہ ذرات کو فلٹر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد نمی کو ٹھنڈا کر کے پانی میں بدلا جاتا ہے۔ مگر یہاں عمل ختم نہیں ہوتا۔ حاصل ہونے والے پانی کو جدید صفائی کے نظام سے گزارا جاتا ہے، جہاں بیکٹیریا، جراثیم اور نقصان دہ مادوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جاتا ہے۔ آخر میں پانی میں ضروری معدنیات شامل کی جاتی ہیں، تاکہ اس کا ذائقہ بہتر ہو اور یہ صحت کے لیے مفید بھی رہے۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ شدید گرم اور خشک علاقوں میں بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ نمی صرف مرطوب علاقوں میں ہوتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ فضا میں کہیں نہ کہیں نمی موجود ہوتی ہے۔ اسرائیلی ماہرین نے اسی حقیقت کو بنیاد بنا کر ایسا نظام تیار کیا جو کم نمی میں بھی روزانہ کئی لیٹر پانی پیدا کر سکتا ہے۔
یہ خصوصیت اس ٹیکنالوجی کو صحرائی علاقوں، دور دراز دیہات اور ان خطوں کے لیے نہایت قیمتی بنا دیتی ہے جہاں نہ دریا ہیں اور نہ ہی قابلِ اعتماد پائپ لائن نظام۔ مزید یہ کہ یہ مشینیں توانائی کے لحاظ سے بھی مؤثر ہیں۔ کئی ماڈلز کو شمسی توانائی سے چلایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بجلی نہ ہونے کی صورت میں بھی یہ نظام کام کرتا رہتا ہے۔
دور افتادہ علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ہے۔ نہ انہیں مہنگی بوتلوں والا پانی خریدنا پڑتا ہے، نہ ہی دور دراز سے پانی لانے کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نظام زیرِ زمین پانی پر انحصار بھی کم کرتا ہے، جس سے قدرتی آبی ذخائر محفوظ رہتے ہیں اور ماحول کو کم نقصان پہنچتا ہے۔
اسرائیل نے ماضی میں بھی پانی کے شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔ سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹس، جدید آبپاشی نظام، اور پانی کے مؤثر استعمال کے طریقے پہلے ہی دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ ایٹموسفیرک واٹر جنریٹر اسی طویل تجربے اور سائنسی مہارت کا نتیجہ ہے۔ یہ صرف ایک مشین نہیں بلکہ پانی کے مسئلے کو نئے زاویے سے دیکھنے کا انداز ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کی پورٹیبل شکل ہے۔ کچھ ماڈلز اتنے ہلکے اور قابلِ نقل ہیں کہ انہیں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا سکتا ہے۔ قدرتی آفات، زلزلے، سیلاب یا خشک سالی کے دوران جب پانی کی فراہمی اچانک متاثر ہو جائے، تو یہ یونٹس فوری طور پر نصب کر کے لوگوں کو صاف پانی مہیا کر سکتے ہیں۔
انسانی ہمدردی کے منصوبوں میں بھی اس نظام کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ پناہ گزین کیمپ، جنگ سے متاثرہ علاقے، اور ہنگامی حالات میں یہ مشینیں ایک قیمتی وسیلہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ چند گھنٹوں کے اندر یہ ایسے مقامات پر پانی فراہم کر سکتی ہیں جہاں کوئی اور ذریعہ دستیاب نہیں ہوتا۔
یہ ایجاد اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید مسائل کے حل ہمیشہ روایتی طریقوں سے نہیں نکلتے۔ کبھی کبھی فطرت میں موجود وسائل کو نئے انداز سے استعمال کرنا ہی سب سے مؤثر راستہ ہوتا ہے۔ فضا سے پانی حاصل کرنا بظاہر ایک غیر معمولی خیال لگتا ہے، مگر آج یہ حقیقت بن چکا ہے۔
آخرکار، یہ ٹیکنالوجی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ پانی کی کمی کوئی ناقابلِ حل مسئلہ نہیں۔ درست علم، تحقیق اور نیت کے ساتھ ایسے حل ممکن ہیں جو انسان اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔ اسرائیل کا یہ ایٹموسفیرک واٹر جنریٹر مستقبل میں دنیا کے لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کی ضمانت بن سکتا ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو آج بھی پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے ہیں۔
.png)