مصنوعی گلپھڑے: انسان اب سمندر میں مچھلیوں کی طرح سانس لے سکے گا


سمندروں کی گہرائیوں کو دریافت کرنا ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، مگر اب سائنس اس سمت میں ایک حیران کن قدم اٹھا چکی ہے۔ گہرے سمندر کے ماہرینِ حیاتیات اور انجینئرز نے مل کر ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے مصنوعی گلپھڑے کہا جا رہا ہے۔ یہ نظام پانی کے اندر موجود آکسیجن کو براہِ راست جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے انسان روایتی آکسیجن ٹینک کے بغیر طویل عرصے تک پانی میں رہ سکتا ہے۔ یہ ایجاد مچھلیوں کے سانس لینے کے قدرتی نظام سے متاثر ہو کر تیار کی گئی ہے اور مستقبل میں سمندر کے ساتھ ہمارے تعلق کو یکسر بدل سکتی ہے۔

مصنوعی گلپھڑوں کا بنیادی اصول نہایت دلچسپ ہے۔ اس نظام میں ایک خاص جھلی استعمال کی جاتی ہے جو پانی میں حل شدہ آکسیجن کو الگ کر لیتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے مچھلیوں کے گلپھڑے پانی سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ جب پانی اس آلے کے اندر سے گزرتا ہے تو آکسیجن الگ ہو کر غوطہ خور تک پہنچتی ہے، جبکہ باقی پانی واپس خارج ہو جاتا ہے۔ اس طرح بھاری بھرکم اسکیوبا ٹینکس یا سطح سے فراہم کی جانے والی ہوا کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ آزادی اور سہولت ہے۔ موجودہ ڈائیونگ نظام نہ صرف محدود وقت کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ حرکت میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ مصنوعی گلپھڑے غوطہ خور کو زیادہ آزادانہ حرکت کی سہولت دے سکتے ہیں، جس سے وہ سمندر کی گہرائیوں میں زیادہ دیر تک کام کر سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سائنسی تحقیق، سمندری تعمیرات، زیرِ آب مرمت، اور ریسکیو مشنز زیادہ مؤثر اور محفوظ انداز میں انجام دیے جا سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق اس نظام میں ایک اور اہم پہلو نائٹروجن کے اثرات میں کمی ہے۔ روایتی ڈائیونگ میں نائٹروجن کی زیادہ مقدار جسم میں جذب ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے ڈی کمپریشن سکنس یعنی “دی بینڈز” جیسا خطرناک مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مصنوعی گلپھڑوں میں مناسب فلٹریشن کے ذریعے نائٹروجن کے داخلے کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے یہ خطرہ نمایاں حد تک کم ہونے کا امکان ہے۔

فی الحال یہ ٹیکنالوجی جدید آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہے۔ سائنس دان آکسیجن کے مؤثر حصول، دباؤ کے توازن، اور مختلف درجہ حرارت اور گہرائیوں میں اس نظام کی حفاظت پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔ ابتدائی نمونوں کو کنٹرول شدہ آبی ماحول میں آزمایا جا چکا ہے، جہاں ان کے نتائج حوصلہ افزا سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ ابھی عام استعمال کے لیے وقت درکار ہے، مگر یہ تجربات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں انسان پانی میں مچھلیوں کی طرح آزادانہ سانس لے سکے گا۔

اس ایجاد کے اثرات صرف ڈائیونگ تک محدود نہیں رہیں گے۔ سمندر کا ایک بڑا حصہ آج بھی انسان کے لیے معمہ بنا ہوا ہے، کیونکہ موجودہ ٹیکنالوجی ہمیں زیادہ دیر تک وہاں رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔ مصنوعی گلپھڑوں کی مدد سے انسان زیرِ آب نامعلوم علاقوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جہاں نئی اقسام کی حیات، قدیم آثار، اور قیمتی قدرتی وسائل موجود ہو سکتے ہیں۔

سمندری حیاتیات، آثارِ قدیمہ، اور حتیٰ کہ زیرِ آب زراعت جیسے شعبوں میں بھی اس ٹیکنالوجی کے وسیع امکانات ہیں۔ ماہرین تصور کرتے ہیں کہ مستقبل میں سمندر کے اندر فارم قائم کیے جا سکتے ہیں، جہاں خوراک پیدا کی جائے یا توانائی کے نئے ذرائع تلاش کیے جائیں۔ ریسکیو ٹیمیں بھی اس نظام کی مدد سے ڈوبے ہوئے جہازوں یا آبی حادثات میں پھنسے افراد تک تیزی سے پہنچ سکیں گی۔

یہ ایجاد اس بات کی بہترین مثال ہے کہ جب حیاتیات اور انجینئرنگ کو یکجا کیا جائے تو کس طرح ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انسان نے ہمیشہ فطرت سے سیکھا ہے، اور مصنوعی گلپھڑے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ مچھلیوں کے سانس لینے کے طریقے کو سمجھ کر اسے انسانی استعمال کے قابل بنانا سائنسی تخلیقی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مختصر یہ کہ مصنوعی گلپھڑوں کی ایجاد زمین اور سمندر کے درمیان حائل رکاوٹوں کو کم کر رہی ہے۔ یہ ہمیں اس دنیا کے قریب لے جا رہی ہے جہاں انسان نہ صرف سمندر کو دیکھ سکے گا بلکہ اس کا حصہ بن کر اس میں سانس بھی لے سکے گا۔ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے عام استعمال تک پہنچ گئی تو سمندر کی گہرائیاں انسان کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ رسائی اور قابلِ فہم ہو جائیں گی۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.