صرف 75 منٹ کی دوڑ: سست بڑھاپے اور لمبی زندگی کا سادہ راز


سائنس دانوں کی طویل عرصے پر محیط تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ باقاعدہ دوڑنا نہ صرف جسمانی فٹنس کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ عمر رسیدگی کے عمل کو بھی سست کر سکتا ہے۔ مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص ہفتے میں صرف 75 منٹ بھی دوڑتا ہے تو اس کے خلیات کی حیاتیاتی عمر نسبتاً کم رہ سکتی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ ٹیلومئیرز ہیں، جو کروموسومز کے سروں پر موجود حفاظتی حصے ہوتے ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔ لمبے ٹیلومئیرز کو عام طور پر جوان حیاتیاتی عمر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، ہمارے خلیات میں قدرتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ٹیلومئیرز کا مختصر ہونا اسی عمل کی ایک نشانی ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دوڑنے والے افراد میں یہ عمل نسبتاً سست ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جسم اندرونی سطح پر دیر سے بوڑھا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوڑنے کو صرف ورزش نہیں بلکہ طویل اور صحت مند زندگی کی ایک مضبوط بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

دل اور خون کی نالیوں کی صحت کے حوالے سے بھی دوڑنا غیر معمولی فوائد رکھتا ہے۔ دوڑنے سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، پھیپھڑوں کی استعداد بڑھتی ہے اور پورے جسم میں خون کی گردش بہتر ہو جاتی ہے۔ بہتر دورانِ خون کا مطلب یہ ہے کہ آکسیجن اور غذائی اجزا زیادہ مؤثر انداز میں خلیات تک پہنچتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں دل کی بیماری، فالج اور ہائی بلڈ پریشر جیسے مسائل کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، جو دنیا بھر میں قبل از وقت بڑھاپے اور اموات کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔

دوڑنے کے فوائد صرف دل تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ جسم کے میٹابولزم پر بھی گہرا اثر ڈالتی ہے۔ باقاعدہ دوڑنے سے انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے، جس سے شوگر کے مرض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، جسم میں سوزش پیدا کرنے والے عوامل میں کمی آتی ہے۔ دائمی سوزش کو آج کل بڑھاپے اور کئی سنگین بیماریوں کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے، اور ایروبک ورزش، جیسے دوڑ، اس سوزش کو کم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

وزن کو متوازن رکھنا بھی صحت مند بڑھاپے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ دوڑنے سے کیلوریز جلتی ہیں اور جسم میں چربی کی مقدار قابو میں رہتی ہے۔ موٹاپا کئی بیماریوں کو جنم دیتا ہے، جن میں دل کے مسائل، جوڑوں کا درد اور ذیابیطس شامل ہیں۔ اس لیے دوڑنے کی عادت نہ صرف جسمانی ساخت کو بہتر بناتی ہے بلکہ مستقبل میں پیچیدہ بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مدد دیتی ہے۔

ذہنی صحت کے حوالے سے بھی دوڑنے کے فوائد کم اہم نہیں۔ دوڑنے کے دوران جسم میں اینڈورفنز خارج ہوتے ہیں، جنہیں خوشی کے ہارمونز کہا جاتا ہے۔ یہ ہارمونز ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مسلسل ذہنی تناؤ نہ صرف دماغ بلکہ پورے جسم پر منفی اثر ڈالتا ہے اور عمر رسیدگی کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔ دوڑنے سے ذہن پرسکون رہتا ہے، نیند بہتر ہوتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی برقرار رہتی ہے۔

بہتر نیند خود لمبی عمر کی ایک اہم کنجی سمجھی جاتی ہے۔ جو افراد باقاعدگی سے دوڑتے ہیں، ان میں نیند کا معیار عموماً بہتر ہوتا ہے۔ گہری اور پُرسکون نیند کے دوران جسم خود کو مرمت کرتا ہے، خلیات بحال ہوتے ہیں اور اگلے دن کے لیے توانائی جمع کی جاتی ہے۔ یہ تمام عوامل مجموعی صحت اور عمر کے معیار کو بہتر بناتے ہیں۔

اس تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ یا سخت ورزش ضروری نہیں۔ صرف 75 منٹ فی ہفتہ دوڑنے سے بھی قابلِ پیمائش مثبت اثرات دیکھے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دوڑنا ہر عمر اور ہر طبقے کے افراد کے لیے قابلِ رسائی سرگرمی ہے۔ نہ اس کے لیے مہنگے آلات درکار ہیں اور نہ ہی کسی خاص جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ نتائج اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ صحت مند بڑھاپا صرف بڑے فیصلوں یا انتہائی سخت طرزِ زندگی کا محتاج نہیں ہوتا۔ چھوٹی مگر مستقل عادات بھی طویل عرصے میں بڑے فوائد دے سکتی ہیں۔ اگر کوئی شخص روزمرہ زندگی میں تھوڑی سی دوڑ کو شامل کر لے تو وہ نہ صرف خود کو آج بہتر محسوس کرے گا بلکہ آنے والے برسوں میں بھی زیادہ صحت مند اور متحرک رہ سکے گا۔

آخرکار، دوڑنا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جسمانی حرکت انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ جب ہم اپنے جسم کو حرکت دیتے ہیں تو دراصل ہم اس کی قدرتی رفتار کے ساتھ چلتے ہیں۔ یہی ہم آہنگی ہمیں نہ صرف بیماریوں سے بچاتی ہے بلکہ زندگی کو لمبا، بہتر اور بھرپور بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔


 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.