قدرتی علاج کے حوالے سے ایک سادہ مگر دلچسپ طریقہ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ مختلف افراد کا کہنا ہے کہ تازہ بند گوبھی کے پتے گھٹنوں کے گرد لپیٹنے سے گٹھیا کے درد، اکڑاؤ اور سوجن میں واضح کمی محسوس ہوتی ہے، جس سے چلنے پھرنے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ طریقہ حیران کن لگتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے موجود سائنسی بنیاد اتنی کمزور نہیں جتنی اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔
بند گوبھی میں قدرتی طور پر ایسے اجزا پائے جاتے ہیں جو سوزش کم کرنے میں مددگار سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں اینتھو سائننز، گلٹامین اور سلفر پر مشتمل فائٹو نیوٹرینٹس شامل ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں سوجن کے عمل کو کم کرنے اور متاثرہ بافتوں کو سکون پہنچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بند گوبھی کو بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب پتوں کو ہلکا سا کچل دیا جائے تاکہ ان کا رس نکل آئے، تو یہ ایک ٹھنڈے اور قدرتی کمپریس کی طرح کام کرتی ہے۔
روایتی طب میں جڑی بوٹیوں اور پودوں سے تیار کردہ لیپ اور پٹیاں صدیوں سے استعمال ہو رہی ہیں۔ بند گوبھی کا استعمال بھی اسی روایت کی ایک شکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے پتے جب جلد کے ساتھ لگتے ہیں تو ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں، جو سوجن زدہ جوڑوں کو وقتی آرام دے سکتی ہے۔ اسی لیے کئی لوگ اسے دوا کے بغیر درد کم کرنے کا ایک سادہ ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
خاص طور پر اوسٹیو آرتھرائٹس کے مریضوں میں اس طریقے کے مثبت تجربات سامنے آئے ہیں۔ بہت سے افراد کا کہنا ہے کہ روزمرہ سرگرمیوں، لمبے وقت تک کھڑے رہنے یا چلنے پھرنے کے بعد اگر 20 سے 30 منٹ کے لیے ٹھنڈی بند گوبھی کے پتے گھٹنوں پر رکھے جائیں تو درد میں نمایاں کمی محسوس ہوتی ہے۔ بعض مطالعات سے بھی عندیہ ملتا ہے کہ اس طرح کے کمپریس جوڑوں کی سوجن گھٹانے، خون کی روانی بہتر بنانے اور وقتی طور پر تکلیف کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اس علاج کی ایک بڑی خوبی اس کی آسانی اور کم لاگت ہے۔ بند گوبھی تقریباً ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے اور اس کے استعمال کے لیے کسی خاص تیاری یا مہنگے سامان کی ضرورت نہیں پڑتی۔ طریقہ بھی نہایت سادہ ہے۔ تازہ بند گوبھی کے پتے لیے جائیں، بہتر ہے کہ سبز یا سرخ بند گوبھی استعمال کی جائے۔ ان پتوں کو ہلکا سا دبا کر یا رولنگ پن سے کچل لیا جائے تاکہ ان کا رس نکل آئے۔ پھر انہیں گھٹنے کے گرد لپیٹ کر کسی کپڑے یا پٹی سے باندھ دیا جائے اور 20 سے 40 منٹ تک لگا رہنے دیا جائے۔
کئی لوگ اس عمل کو روزانہ دہراتے ہیں، جبکہ کچھ افراد ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ یہ طریقہ عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، اس لیے زیادہ تر لوگوں کو کسی منفی اثر کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ علاج مکمل طبی علاج کا متبادل نہیں ہے، بلکہ ایک اضافی سہولت کے طور پر اپنایا جا سکتا ہے۔
قدرتی طریقوں کی تلاش میں رہنے والے افراد اکثر بند گوبھی کے اس علاج کو دیگر صحت مند عادات کے ساتھ ملا کر استعمال کرتے ہیں۔ ہلکی پھلکی ورزش، وزن پر قابو، اور گرم یا ٹھنڈی تھراپی کے ساتھ اس طریقے کو اپنانے سے بعض لوگوں کو بہتر نتائج ملنے کی اطلاع ملی ہے۔ اس سے نہ صرف درد میں کمی آتی ہے بلکہ روزمرہ زندگی کے معمولات بھی نسبتاً آسان ہو جاتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ہر انسان کا جسم مختلف ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ جس طریقے سے ایک شخص کو فائدہ ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی طریقہ دوسرے کے لیے بھی اتنا ہی مؤثر ہو۔ اسی لیے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر درد شدید ہو یا طویل عرصے سے برقرار ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، اور قدرتی علاج کو صرف معاون طریقے کے طور پر اپنایا جائے۔
اس کے باوجود، بند گوبھی کے پتوں سے علاج کی مقبولیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بعض اوقات قدرت کے سادہ تحفے بھی قابلِ ذکر سکون فراہم کر سکتے ہیں۔ مہنگی ادویات اور پیچیدہ طریقوں کے درمیان یہ علاج ایک یاد دہانی ہے کہ فطرت میں موجود چیزیں بھی انسانی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ گٹھیا جیسے دائمی درد کے مسئلے میں مکمل شفا شاید ممکن نہ ہو، مگر اگر سادہ اور محفوظ طریقوں سے کچھ راحت مل جائے تو یہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں۔ بعض اوقات مؤثر سکون کسی لیبارٹری نہیں بلکہ قدرت کے باورچی خانے سے ملتا ہے۔
